شہری کی ذمہ داری ہے آزادی کی ڈھال! – نیوز 18 ہندی۔

[ad_1]
جن حالات میں ہندوستان نے آزادی حاصل کی وہ سماجی، جغرافیائی اور سیاسی نقطہ نظر سے عالمی تاریخ میں ایک معجزاتی تجربہ تھا۔ انگریزوں کی حکمرانی کا ہدف، آزادی کا مطالبہ اتنا ہی واضح تھا جیسے پورے ملک کی شاہی ریاستوں کو ایک نئے ڈھانچے میں باندھنا اور ملک کے لوگوں کو ان کی امنگوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک دھاگے میں باندھنا تھا۔یہ کام پٹیل، نہرو، امبیڈکر، سیاما پرساد مکھرجی جیسے سرشار لیڈروں نے کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کوشش کو ٹھوس قانونی شکل دینے میں ڈاکٹر راجندر پرساد کی صدارت میں ڈاکٹر امبیڈکر کی مشترکہ کوششوں سے تشکیل پانے والے ‘ہندوستانی آئین’ نے دور رس اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

اس دستاویز کو ایک خودمختار ملک نے بخوشی گورننس کی بنیادی بنیاد کے طور پر اپنایا۔ پارلیمانی نظام حکومت کے تحت بنائے گئے اور قبول کیے گئے دفعات کے مطابق یہ آئین واضح طور پر آزادی اور خود مختاری کی اقدار کو مرکزی اہمیت دیتا ہے۔ لیکن رویے کے نقطہ نظر سے ایسی اقدار کو کبھی بھی مطلق نہیں کہا جا سکتا۔ اگر انہیں مطلق سمجھا جائے تو صرف مطلق انارکی ہی پیدا ہوگی۔

سرکاری طور پر ہر ہندوستانی کو بطور شہری بہت سی سہولیات، آزادی اور عوامی زندگی میں حصہ لینے کے مواقع حاصل ہیں۔

مساوات اور بھائی چارے کے مقاصد اور باہمی ہم آہنگی اور تمام مذہبی مساوات کے جذبے سے سرشار یہ آئین ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ بلا تفریق یکساں سلوک کرنے کا حق دیتا ہے۔ لیکن صرف حقوق کی بات کرنا بے معنی ہے کیونکہ فرائض بھی زندگی کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فرض کے بغیر حقوق نہ صرف نامکمل رہتے ہیں بلکہ مانگنے والے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔

درحقیقت ہم فرائض کی مدد سے اپنے لیے حقوق حاصل کرنے کا حق حاصل کرتے ہیں۔ سرکاری طور پر ہر ہندوستانی کو بطور شہری بہت سی سہولیات، آزادی اور عوامی زندگی میں حصہ لینے کے مواقع حاصل ہیں۔ آج اس صحیح احساس کا شعور بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔

بدقسمتی سے کئی سیاسی جماعتیں بھی انہیں ہوا دیتی ہیں۔ اختیار کا یہ سبق پڑھتے ہوئے عام آدمی بھی ملک اور حکومت سے سب کچھ حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے یعنی لامحدود لالچ۔ دوسری طرف فرض کا احساس اور ملک کو اپنانے اور اس کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

شاید اسی صورت حال کی بگڑی ہوئی شکل آج معاشرے میں طرح طرح کی کرپشن، مظالم اور زنا بالجبر تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ ڈرامائی صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب فرض ادا نہ کرنے یا اس میں رکاوٹ ڈال کر یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ شہری کا فرض ادا ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اضطراب کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

یہ صورتحال ملک اور معاشرے کے مفاد میں نہیں ہے۔ غیر معقول زندگی گزارنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اس لیے آج ملک میں شہری کے فرض یعنی شہریت کے عملی پہلو کی جامع تعلیم کی ضرورت ہے کیونکہ شہریت کے فرائض کی ادائیگی سے ہی شہری، ملک اور اس کے آئین کا تحفظ ممکن ہے۔

–.پرو گریشور مشرا، ماہر تعلیمغیر متعینہ

ٹیگز: اوپینین پولز, یوم جمہوریہ, یوم جمہوریہ کی تقریب

[ad_2]
Source link
alrazanetwork

Recent Posts

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More

2 مہینے ago

اے شہر امن پھر آئیں گے !! – مکہ مکرمہ کی زیارت اور روحانی تجربات | غلام مصطفی نعیمی ہاشمی

 اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More

2 مہینے ago

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More

2 مہینے ago

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More

3 مہینے ago

10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے

فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More

3 مہینے ago

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More

3 مہینے ago