مشمولات کا آغاز سید محمد نور الحسن نور نوابی عزیزی صاحب کے حمدیہ کلام سے ہے پھر چیف ایڈیٹر حضرت مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی صاحب کے زرنگار قلم سے ملک کے سنگین اور لیٹیسٹ موضوع پر معلوماتی و فکر انگیز اداریہ ہے جس کا عنوان ہےزرعی قوانین!کسانوں کےلیے موت کا پروانہ۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر یہ عنوان انتہائی اہم،تقاضئے وقت کے مطابق اور دل کش ہے۔اس موضوع کے حوالے سے ایڈیٹر موصوف نے خوب لکھا ہے
ایڈیٹر موصوف جماعت اہل سنت کے جواں سال محقق، متبحر عالم، بےباک صحافی،اور متحرک و فعال داعی دین ہیں،موصوف نے مختصر سی مدت میں اہم موضوعات پر گراں قدر مضامین و مقالات لکھ کر قبول عام حاصل کرلیا ہے ،ان کا یہ اداریہ بھی ان کے علمی ادبی،اور فکری ذوق کا ثبوت ہے، موصوف کی ادارت میں اس مجلہ کی اشاعت اس رسالہ کےلیے فال نیک ہے۔یوں تو کئی رسائل ملک کے مختلف علاقوں سے شائع ہوتے ہیں لیکن ان میں یہ رسالہ اس حیثیت سے منفرد و ممتاز رہے گا کہ اس کے مشمولات ہمہ جہت ہیں اس میں تجلیات قرآن مجید بھی ہے اور انوار حدیث بھی۔باب فقہ بھی ہے اور جہان ادب بھی اسلامیات بھی ہے اور اخلاقیات بھی فکر امروز بھی ہے اور نقوش رفتگاں بھی افکار رضا بھی ہے اور انوار اسلاف بھی نشان منزل بھی ہے نشان کتب بھی غرض کہ اس میں ایک درجن سے زیادہ کالم ہیں جس کے تحت ملک و ملت کے نامور قلم کار اور دین و دنیا پر گہری نظر رکھنے والے علما و مفکرین کے گراں قدر تحقیقی و تنقیدی فکری و اصلاحی مضامین و مقالات شامل ہیں جو اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ ایک روایتی رسالہ نہیں بلکہ قرآن و سنت کا ترجمان ۔فکر و فن کا پاسبان اور علم و ادب کا شاہکار ہے جس کا مقصد اصلی مسلمانوں کے اندر دینی ملی علمی ادبی فکری فنی اور سیاسی بیداری پیدا کرنا ہے اور ملت کے تن بے روح میں انقلابی روح پھونکنا ہےاگر یہ رسالہ یوں ہی تسلسل کے ساتھ نکلتا رہا تو آنے والے دنوں میں پورے ملک میں اس رسالہ کی دھوم مچی ہوگی اور کوئی جام میر کا مست و مخمور داغ دہلوی کی زبان میں کہہ رہا ہوگا
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
مولی تعالی اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اس رسالہ کو عمر خضر عطا فرمائے اور جام میر کی پوری ٹیم کو جزائے خیر سے نوازے
آمین