بھگوا لو ٹریپ
(ایک فکری و بیدار کن مضمون)
❖ تمہید:
جب کسی قوم کی بیٹیوں کو ایمان، عزت، اور آزادی سے محروم کرنے کی سازشیں کھلے عام ہوں، جب جھوٹے محبت کے نام پر انہیں کفر کے اندھیرے میں دھکیلا جائے، جب ان کی واپسی پر راستے بند کر دیے جائیں، اور جب وہ واپسی کی خواہش ظاہر کریں تو انہیں قتل یا جسم فروشی کی دلدل میں جھونک دیا جائے — تو جان لیجیے کہ یہ صرف ایک "سوشل مسئلہ” نہیں بلکہ پوری ملت پر ایک ایمان شکن حملہ ہے۔
❖ فتنہ ارتداد: ایک خاموش جنگ
ہندوستان میں گزشتہ چند سالوں سے جو خطرناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہ ہے مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی منظم کوشش۔ اس سازش کے پیچھے محض چند بگڑے ہوئے نوجوان نہیں بلکہ ایک پورا نیٹ ورک، نظریاتی تنظیمیں، تربیت یافتہ کارکن، اور بعض ریاستی اداروں کی خاموش تائید شامل ہے۔
یہ ایک خاموش مگر خطرناک جہاد ہے — جو مسلم سماج کے ایمان، عزت، اور نسل کو نشانہ بنا رہا ہے۔
❖ سازش کی حکمت عملی
1. سوشل میڈیا، اسکول، کالج، کوچنگ سینٹرز اور دفاتر میں ہدف بنانا۔
2. فرضی مسلم نام، اسلامی معلومات، یا بظاہر شریف مزاج سے اعتماد حاصل کرنا۔
3. شادی کے بعد مذہب تبدیل کرانا — یا جبراً ہندوانہ رسوم و رواج میں دھکیلنا۔
4. واپسی کی کوشش پر قتل، تشدد یا جنسی اسمگلنگ تک لے جانا۔
❖ اہم کردار ادا کرنے والی تنظیمیں:
وشو ہندو پریشد
ہندو یووا واہنی
شری رام سینا
اور دیگر شدت پسند گروہ
ان گروہوں کے اندر خفیہ تربیتی کیمپ چلائے جاتے ہیں جہاں ہندو نوجوانوں کو "لَو جہاد کا بدلہ” لینے کے نام پر مسلم لڑکیوں کو پھانسنے کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔
❖ حکومتی سرپرستی یا خاموش حمایت؟
بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں:
پولیس نے متاثرہ لڑکی کی سننے کے بجائے مجرم کو تحفظ دیا۔
عدالتوں میں گھر واپسی کو "جبری تبدیلی” قرار دے کر مسترد کیا گیا۔
میڈیا نے سچ دکھانے کے بجائے مخالف بیانیہ کو ہوا دی۔
❖ واپسی کا راستہ: رکاوٹیں اور ظلم
جو مسلم لڑکیاں واپسی چاہتی ہیں ان پر:
قاتلانہ حملے
عزت و ناموس کی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ
خاندان سے رابطہ توڑنا
جسم فروشی کے اڈوں میں دھکیل دینا
جیسے غیر انسانی مظالم کیے جاتے ہیں۔
❖ اُمتِ مسلمہ کی غفلت
یہ سب کچھ نہایت خاموشی سے ہو رہا ہے، اور بدقسمتی سے ملتِ اسلامیہ اس پر:
خاموش ہے
بےحس ہے
غافل ہے
ایمان کی بقاء اور نسلوں کی حفاظت کا سوال اٹھ چکا ہے، اور ہم محض جلسوں، تقریروں اور آن لائن پوسٹوں پر اکتفا کر رہے ہیں۔
❖ بیداری کی راہ: ایک فکرانگیز مطالبہ
متاثرہ لڑکیوں کی کہانیاں ریکارڈ کی جائیں
ہندوتوا کی تربیتی ویڈیوز اور نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جائے
شادی کے بعد ہندو بنانے کے مراکز پر خفیہ کیمرے لگائے جائیں
جو مسلمان مغربی ممالک میں آباد ہیں، ان سے گزارش ہے کہ:
اس مسئلے کو عالمی این جی اوز اور انسانی حقوق کمیشن تک پہنچائیں۔
بین الاقوامی میڈیا (BBC, Al Jazeera, etc.) کو سپورٹ کریں۔
فنڈنگ، تکنیکی مدد، قانونی امداد فراہم کریں۔
دینی تعلیم، عقیدے کا شعور، اور غیر محرم تعلقات سے دوری کی ترغیب
ہر مسلم شہر میں بیٹیوں کے تحفظ کے ادارے قائم ہوں
مساجد و مدارس میں ایمان بچاؤ کورس کی ترتیب ہو
❖ ایک حدیث پر غور کریں:
"من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان”
"تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، تو اُسے ہاتھ سے روکے، اگر نہ روک سکے تو زبان سے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں برا جانے — اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الإیمان)
❖ اختتامیہ: ایمان کا تحفظ، وقت کا سب سے بڑا جہاد
یاد رکھیں!
اسلامی غیرت صرف پردہ، داڑھی یا ٹوپی کا نام نہیں بلکہ اپنی بیٹی کو ایمان پر باقی رکھنے کا نام ہے۔
اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
تو آئیے! اس فتنۂ ارتداد کے خلاف بیدار ہوں، آواز بلند کریں، اور عمل کریں
واللہ المستعان وھو نعم النصیر
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک
کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More
اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More
25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More
طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More
فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More
جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More