9 موبائل اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے انہیں مفید استعمال کے طریقے سکھائیں:
دیکھئے چوں کہ بچہ ہمیشہ اپنے ماں باپ اپنے گھر والوں اور دوستوں کو دیکھ کر سیکھتا ہے جب وہ اپنے ارد گرد کے ماحول میں موجود سارے افراد کو موبائل چلاتا ہوا ہی دیکھتا ہے تو خود کیوں نہ موبائل چلائے، اس لیے سب سے پہلا کام تو ہمارا ہے کہ ہم حتی الامکان بچوں کے سامنے موبائل چلانے سے گریز کریں
دوسری بات بڑے عرصے سے اس مسئلے پر سوچ رہا ہوں کہ اس موبائل کے مسئلے پر کیسے قابو پایا جائے تو غور و فکر کے بعد میرے سامنے تین آپشنز تھے:
1 یا تو ان کے موبائل کی مکمل سرویلینس اور نگرانی رکھی جائے کہ وہ غلط کام میں ملوث نہ ہو پائیں اور یہ غلط بھی نہیں ہے کیوں کہ بہرحال قیامت میں صرف ہماری نہیں ہمارے بچوں کی بھی جواب دہی کا سامنا ہمیں کرنا ہوگا تو اتنی نگرانی کرنا کہ وہ برائی سے بچ سکے، تجسس کے دائرے میں نہیں آتا، یہ جدیدیت کے لبرلزم کی پیدا کی ہوئی سوچ ہے کہ بچہ اپنی مرضی کا مالک ہے وہ جو چاہے کرے ہمارے پاس بس سمجھانے کا اختیار ہے۔
2 یا پھر اس کو حقیقی زندگی میں مثبت کاموں میں اتنا مشغول کردیا جائے کہ اس کے پاس غیر ضروری اور ڈیجیٹل غلط کاموں میں مشغول ہونے کے لیے وقت ہی نہ بچے۔
3 یا پھر اس کے انٹرٹینمنٹ کے ذرائع میں ہی دین و اسلام کو داخل کردیا جائے۔
دوسرا کام تو ہمارے اختیار میں ہے لیکن پہلا اور تیسرا ہمارے اختیار میں نہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ علماء کے بعد امت کو اس وقت اگر سب سے زیادہ کسی کی ضرورت ہے تو وہ آئی ٹی ایکسپرٹ ہے، مثلاً سافٹ ویئر ڈیولپر، کوڈنگ ایکسپرٹ، وغیرہ کی تاکہ ہم ان کو تفریح سے روکیں بھی نہیں اور اسی تفریح میں دین بھی داخل کردیا جائے۔
اس موضوع پر ہم پانچویں قسط میں بھی تھوڑے الگ انداز سے روشنی ڈال چکے ہیں
یاد رکھیں کہ جب بھی ہم بنیادی تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں تو صرف ایک طرف سے یا محض ایک آپشن پر کام کرنا کافی نہیں ہوتا ہمیں بہترین طریقہ، بہتر طریقہ اور کمتر طریقہ تینوں پر بیک وقت کام کرنا ہوتا ہے تو کچھ لوگ اول سے راہِ راست پر آجاتے ہیں تو کچھ دوسرے اور تیسرے طریقے سے
10 مقابلہ جاتی پروگرام رکھے جائیں: ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ اللہ نے انسان میں ودیعت کررکھا ہے اسی لیے اللہ جل جلالہ جنت کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد کہتا ہے "و فی ذلک فلیتنافس المتنافسون” لہذا نوجوانوں کی جمالیاتی، ادبی، علمی عقلی و سائنسی اور دینی جذبے کو فروغ دینے والے مقابلہ جاتی پروگرام کروائے جائیں مثلاً جمالیات و ادب میں قرآت، نعت، شعر و شاعری، خطاطی، رائٹنگ ڈرائنگ وغیرہ کے مقابلے، علم دین و عقلیات میں حفظ قرآن، حفظ حدیث، حفظ مسائل، نئے آئیڈیاز کی تخلیق، ریاضی اور سائنسی ایجادات وغیرہ کے مقابلے
یہ مقابلے اس کی خوابیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے نسخہ کیمیا کی حیثیت رکھتے ہیں، ہم اپنے بچوں کو نام کمانے اور دنیا کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے آپشنز تو دیں پھر دیکھیں بچے کیسے اپنی ہنر مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ہم اس عمر میں اس سے عدم نمائش اور اخلاص و للہیت کا مطالبہ کرتے ہیں جس عمر میں اس کی نمائش محض خوشی کے حصول کے لیے ہوتی ہے ابو امی کے چہرے پر مسکان لانے کے لیے ہوتی ہے تکبر اور ریاکاری کے لیے نہیں، ہمیں اسلام کے احکامات بھی بچوں کی سائیکالوجی کو سامنے رکھ درجہ بدرجہ جاگزیں کرنے چاہئیں
11 اوارڈ فنکشن: جب بھی کوئی صحابی قابل فخر کارنامہ انجام دیتا تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی بشارت سناتے تھے جس کا ماحصل ہے انعام سے سرفراز کرنا، یہ انعام دینا اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ جس چیز کا جتنا بڑا انعام ہوگا اسی لحاظ سے مظاہر کی اہمیتیں لوگوں کے دلوں میں بیٹھتی ہیں
یعنی عمل پر ابھارنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ کو بھی بدلا جاسکتا ہے اس کے ذریعے
جس کا طریقۂ کار یہ ہو کہ عید کے موقع پر گاؤں کے سبھی لوگ بشمول مرد و عورت جمع ہوں اور ان مقابلوں کے انعامات کی تقسیم کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل ایوارڈز دئیے جائیں
1 سب بڑا مال دار شخص: جس نے سب سے زیادہ غریبوں پر اور ملت کے کاموں میں خرچ کیا ہو
2 سب سے بڑا عالم اور تخلیق کار: جس نے سب سے زیادہ نئے آئیڈیاز دئیے ہوں ترقی کے، یا کوئی نئی تحقیق و ریسرچ پیش کی ہو، یا کوئی نئی ٹکنالوجی ایجاد کی ہو
3 بہترین آدمی: جس نے سب سے زیادہ لوگوں کی مدد کی ہو اپنے عمل اور محنت کے ذریعے
4 بہترین استاذ: جس نے مختلف موضوعات پر سب سے زیادہ کورسس کروائے ہوں اور طلبا جس سے سب سے زیادہ خوش ہوں
یقین جانیں یہ اوارڈ سسٹم موجودہ مظاہر کو تبدیل کرکے رکھ دے گا جب بچے یہ دیکھیں گے تو ان کے اندر مال، علم اور بہترین آدمی کے تئیں ایک مختلف ذہنیت پیدا ہوگی اور لاشعوری طور پر خدمتِ خلق، تخلیقیت، اسلام سے محبت اور ایک اسلامی معاشرے کے لیے ضروری چیزوں کی اہمیت بڑھے گی۔
یہ معاشرےاور ‘مشن تقویتِ امت’ پرلکھےگئےمضامین کی نویں قسط ہے
بقیہ قسطوں کی لنکس کمینٹ میں
مفتی قیام الدین قاسمی سیتامڑھی، استاذ یونیک ریسرچ سینٹر پالن پور گجرات، پرسنالٹی ڈیولپر
الرضا نیٹ ورک کو دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ (۲)جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مزید پڑھیں: