بے میل شادیاں!

بے میل شادیاں!

___اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں کرنے کے لیے بدنام تھے لیکن اب گلی کوچوں میں بے موسم بیل کی طرح اُگ آنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر (Influencer) بھی بین المذاہب شادیاں کرکے ماحول کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں یوٹیوبر ثاقب سیفی اور کَنِکا شرما، کمبھ میلے سے مشہور ہوئی مونالیسا اور فرمان خان کی شادی بھی اسی بدنام روایت کی تازہ ترین کڑی ہے۔جس کے باعث شدت پسندوں کو اسلام پر انگلی اٹھانے اور پر امن ماحول میں نفرت پھیلانے کا موقع مل رہا ہے۔

____شادی اور قانون

بھارت ایک کثیر ثقافتی ملک ہے،جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار آباد ہیں۔جمہوری ملک ہونے کے ناطے شادیوں کو مذہبی روایت اور ذاتی پسند پر موقف رکھا گیا ہے۔جس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے:
1۔ ہندو میرج ایکٹ 1955
اس قانون کے تحت ہندو، جَین، بودھ اور سِکھ کمیونٹی کی شادیاں کی جاتی ہیں۔حالانکہ اب سِکھ کمیونٹی کے لیے الگ قانون کی سہولت دے دی گئی ہے۔ہندو میرج ایکٹ کے تحت ہندو مرد و عورت ہی ایک دوسرے سے شادی کر سکتے ہیں۔لڑکا لڑکی کا کنوارا ہونا اور پہلے سے شادی شدہ نہ ہونا بھی ضروری ہے۔خلاف ورزی پر سزا اور جرمانے دونوں کا التزام ہے۔

2۔ مسلم پرسنل لا ایکٹ 1937
اس قانون کے تحت مسلم مرد و عورت کے مابین شادی کی جاتی ہے۔مسلم پرسنل لا ایکٹ اور شرعی اعتبار مسلمان کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتا۔نکاح کے لیے لڑکا لڑکی دونوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔بصورت دیگر نکاح منعقد نہیں ہوگا۔مذکورہ قانون میں مسلم مرد کے لیے اہل کتاب خاتون سے نکاح کا تذکرہ بھی درج ہے۔

3۔ آنند کارج ایکٹ 2012
یہ قانون سِکھ کمیونٹی کے لیے بنایا گیا ہے۔اب تک سِکھ سماج کی شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت ہوا کرتی تھیں لیکن سال 2012 سے اب سکھ سماج کی شادیاں اس قانون کے تحت منعقد ہونے لگی ہیں اور حکومت نے اسے منظوری دے دی ہے۔

4۔ اسپیشل میرج ایکٹ 1954
یہ قانون دو مختلف مذاہب یا مذہب بیزار افراد کے درمیان رشتہ ازدواج کو قانونی منظوری دیتا ہے۔اس قانون کے تحت کوئی بھی مرد و عورت کسی بھی مذہب کے ماننے والے سے شادی کر سکتے ہیں۔مذکورہ شادی رجسٹرار یا کورٹ کی نگرانی میں بغیر کسی مذہبی رسم کے کی جاتی ہے۔

مذکورہ تفصیل سے ظاہر ہے کہ آئینی طور پر شادی کے ضمن میں مذہبی احکام کو فوقیت اور ترجیح دی گئی ہے۔ہاں اسپیشل میرج ایکٹ ضرور لبرل اور مذہب بیزاروں کے لیے بنایا گیا ہے۔قانون میں اتنی وسعت کے باوجود کچھ لوگ مذہبی طریقے پر شادی کرتے ہیں نہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت، یہ لوگ جان بوجھ کر مذہبی شناخت کی ادلا بدلی کے ساتھ شادیاں کرتے ہیں۔مسلمان لڑکا پھیرے لیتا ہے اور ہندو لڑکی روزہ رکھنے کا دکھاوا کرتی ہے۔اس طرح انہیں سوشل لائم لائٹ ملتی ہے۔تنازع بڑھتا ہے۔انہیں اس تنازع سے وائرل ہونے اور مشہور ہونے میں مدد ملتی ہے۔

___ٹرینڈ کیوں؟

ماضی میں سنیما اور سیاست کی دنیا میں مذہبی طور پر بے میل شادیوں کا چلن تھا۔جس کی بنیادی وجہ دولت اور عہدے کا حصول تھا، لیکن عوامی سطح پر ایسی شادیوں کو معیوب ہی سمجھا جاتا تھا۔مگر پیسہ کمانے کی حرص اور Different content کی بھوک میں اب سوشل میڈیا انفلوئنسر بھی بین المذاہب شادیوں پر اتر آئے ہیں۔کیوں کہ اس کے ذریعے بھرپور ویوز اور لائکس ملتے ہیں۔ہندو لڑکی مسلم تہذیب اور مسلم لڑکا ہندو کلچر کو As A Content پیش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا سے کمائی کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک ایسا حلقہ تیار ہو گیا ہے جو عجیب و غریب اور امیدوں کے بر عکس مواد کو نہایت دل چسپی سے دیکھتا اور پسند کرتا ہے۔یہاں بوڑھے مرد کے ساتھ بچی، عورت کے ساتھ نوخیز لڑکے ،ہندو کے ساتھ مسلم اور مسلم کے ساتھ ہندو جیسے متضاد اور متنازع مناظر کو بہت زیادہ دل چسپی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔عوام کے اسی ذوق کا خیال رکھتے ہوئے یوٹیوبروں کے درمیان بین المذاہب شادی کا تصور مضبوط ہو رہا ہے کیوں کہ اس کے ذریعے انہیں بھرپور سبسکرائبر اور لائکس مل رہے ہیں جس کی بدولت کمائی اور شہرت دونوں مل رہی ہے۔اسی وجہ سے جو برائی سنیما اور سیاست کے گلیاروں تک محدود تھی وہ اب چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں تک پھیل رہی ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم لڑکے لڑکیاں بھی اس برائی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔

_____روک تھام کیسے ہو؟

سوشل میڈیا کے اس نشے کو روک پانا اتنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔وائرل ہونے کی بھوک اور پیسہ کمانے کی ہوس نے یوٹیوبروں کی نگاہوں سے حیا، شرم اور لحاظ سب ختم کر دیا ہے۔اسے مذہبی طبقے کی سادہ لوحی ہی کہا جائے گا کہ "مذہبی ٹچ” والے دو چند ویڈیو کی بنیاد پر علما و ائمہ ایسے یوٹیوبروں کو جلسوں میں بلا کر خصوصی استقبال کرتے ہیں۔جس سے دوسروں کو بھی اس فیلڈ میں جانے کی ترغیب مل رہی ہے۔اس برائی کی روک تھام کے لیے چند نکات درج کئے جاتے ہیں شاید مفید ہوں:
🔹اس سلسلے میں اچھے خطاب اور مؤثر انداز میں عوامی ذہن سازی کی جائے۔
🔸جو لوگ ان کاموں میں ملوث ہیں، انہیں ترجیحی طور پر ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے۔
🔹علما و ائمہ کی جانب سے "مذہبی ٹچ” کی بنیاد پر کسی بھی یوٹیوبر کی حوصلہ افزائی ہرگز نہ کی جائے۔
🔸صرف مسلم نام کی وجہ سے ایسے دین بیزار افراد کی رتّی بھر بھی حمایت نہ کی جائے۔
🔹سماجی طور ایسے عناصر کے خلاف سماجی اور قانونی اقدامات کیے جائیں۔
🔸کمائی کے لیے جائز ذرائع اپنانے کی ترغیب دلائی جائے۔

سوشل میڈیائی نشہ اس وقت بہت بڑی بیماری بن گیا ہے۔اگر وقت رہتے اس بیماری کا علاج نہیں کیا گیا تو اس کے مہلک اثرات سے معاشرہ اور آنے والی نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔

بے میل شادیاں

 

غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی
روشن مستقبل دہلی

26 شوال المکرم 1447ھ
15 اپریل 2026 بروز بدھ

شائع کردہ: الرضا نیٹورک

Leave a Comment