یہ بھی پڑھیں
سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے، لوک سبھا انتخابات کی تیاری شروع کردی جانی چاہئے۔ میں نے اپنے سابق لوک سبھا حلقہ میں بھی اس کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ہم بوتھ لیول کمیٹیوں کی تشکیل نو کر رہے ہیں۔ ایک یا دو مہینے لگتے ہیں۔ اگر یکم جنوری سے پورے ملک میں بوتھ لیول کو مضبوط کرنے کا کام شروع کر دیا جاتا ہے تو فروری کے آخر تک پہلے مرحلے کا کام ہو جائے گا اور پھر عام انتخابات سے قبل دیگر تیاریوں کے لیے ہمارے پاس تقریباً ایک سال کا وقت ہو گا۔
پی چدمبرم نے کہا کہ اگر ہم 2023 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کرناٹک میں جیت جاتے ہیں، اور راجستھان اور چھتیس گڑھ میں لگاتار دوسری بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ ہمارے لیے لوک سبھا انتخابات سے پہلے بہترین صورتحال ہو گی۔ اس سے پارٹی اور کارکنوں کو ایک نئی توانائی ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی کو لے کر میڈیا کا لہجہ بھی بدل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مدھیہ پردیش میں بھی جیت جاتے ہیں تو کانگریس پارٹی کے تئیں رویہ میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس کرناٹک، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں جیتنے کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔