مفتی ابوبکر احمد، یمن میں بھارتی نرس، انسانیت نوازی، دِیت معافی کیس
✍️ محسن رضا ضیائی، پونے
آج جب کہ پورا ملک نفرت، تعصب اور فرقہ پرستی کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے، ایسے نازک حالات میں انسانیت، بھائی چارہ، اور رحم دلی کی کوئی مثال سامنے آئے تو وہ امید کی کرن بن جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک غیر معمولی اور تاریخی واقعہ اس وقت پیش آیا جب یمن میں سزائے موت پانے والی بھارتی نرس نمیشا پریا کی زندگی کو موت کے دہانے سے واپس لایا گیا — اور یہ سب ممکن ہوا حضرت الشیخ مفتی ابوبکر احمد ملسیاری دامت برکاتہم کی کوششوں سے۔
مفتی ابوبکر احمد نہ صرف جنوبی ہند کے معروف عالمِ دین ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی شناخت ایک عظیم مفکر، مفتی اور روحانی قائد کی حیثیت سے ہے۔
آپ کئی دینی و تعلیمی اداروں کے بانی ہیں اور عرب دنیا میں بھی علمی، دینی و صوفی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
نمیشا پریا، کیرالہ کے ضلع پالکڑ سے تعلق رکھنے والی ایک نرس ہیں۔ وہ کئی سال یمن میں طبی خدمات انجام دیتی رہیں۔
2015ء میں انہوں نے یمن میں اپنا کلینک کھولنے کے لیے ایک مقامی شہری طلال عبدو مہدی کے ساتھ شراکت کی۔ تاہم، بعد میں طلال کے ساتھ مالی و ذاتی تنازع ہوا۔
نمیشا نے اپنا پاسپورٹ واپس لینے کے لیے طلال کو بے ہوش کرنے کی کوشش کی، لیکن دوا کی زیادہ مقدار سے طلال کی موت واقع ہو گئی۔
2018 میں انہیں قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور 2020 میں سزائے موت سنائی گئی۔
2023 میں یمنی سپریم جوڈیشل کونسل نے اپیل مسترد کر دی۔
حکومتِ ہند اور ایران کی ثالثی بھی ناکام رہی۔
16 جولائی 2025 کو سزائے موت دی جانی تھی۔
جب تمام راستے بند ہو چکے تھے، تب مفتی ابوبکر احمد ملسیاری نے یمن کے معروف عالم دین صوفی حبیب عمر بن حفیظ سے براہِ راست ملاقات کی اور مقتول کے اہل خانہ کو دِیَت لینے پر آمادہ کیا۔
ان کی انسانی ہمدردی، زبردست اثر و رسوخ اور دانشمندانہ گفتگو سے اہل خانہ قائل ہوئے اور یمن کی عدالت نے سزائے موت کو معافی میں بدل دیا۔
کیرالہ کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے فیس بک پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
"مفتی صاحب نے ہمیں دکھایا کہ آج کے دور میں انسانیت سب سے بڑی عبادت ہے۔”
مفتی صاحب کا یہ کردار صرف ایک جان کی حفاظت تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے ملک کے لیے ایک پیغام ہے — کہ اگر ایک طرف نفرت کا بازار گرم ہے تو دوسری طرف انسانیت کا پرچم بھی بلند کیا جا سکتا ہے۔
نمیشا پریا کی سزائے موت کی معافی صرف قانونی یا سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ یہ محبت، صبر، شرافت اور انسان دوستی کی جیت ہے۔
ایسے قائدین کی موجودگی قوم کے لیے باعثِ برکت اور راہِ نجات ہے۔
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک
از: علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان ڈیجیٹل کاپی کی اشاعت: الرضا نیٹ ورک بریلوی دور… Read More
مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بنگال میں ایس آئی آر : نشانے پر مسلمان! محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بے میل شادیاں! ___اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں… Read More
الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 Read More
اسلام اور تلوار کا بیانیہ: حقیقت یا مفروضہ شمس آغاز ایڈیٹر ،دی کوریج 9716518126 shamsaghazrs@gmail.com… Read More