Ulama
(قرآن، حدیث، سیرتِ صحابہ، ائمہ و سلف صالحین کی روشنی میں)
تحریر: غلام ربانی شرف نظامی، اٹالہ، الہ آباد
اسلام صرف روحانی عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں کی فلاح کے اصول سکھاتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں کسبِ حلال (محنت سے روزی کمانا) کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے خود بھی پیشے اپنائے اور ان کے ذریعے خود کفالت کو عام فرمایا۔
مثالیں:
حضرت آدمؑ: کھیتی باڑی
حضرت ادریسؑ: درزی کا کام
حضرت نوحؑ، زکریاؑ: بڑھئی
حضرت موسیٰؑ: چرواہی
حضرت داؤدؑ: زرہ سازی
رسول اللہ ﷺ: بکریاں چرانا، تجارت
سبق:
رزقِ حلال = عزت
محنت = عبادت
خود کفالت = سنتِ انبیاء
"وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً…”
(سورہ بنی اسرائیل: 29)
🔸 نہ بخیلی کرو، نہ اسراف – بلکہ میانہ روی اور خود کفالت اپناؤ۔
"وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ…”
(الذاریات: 19)
🔸 لینے والا نہیں، دینے والا بنو۔
"فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ…”
(سورہ جمعہ: 10)
🔸 مسجد سے نکل کر دنیاوی محنت اور کمائی کی ترغیب دی گئی۔
"الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ…” (بخاری، مسلم)
🔸 خود کفیل شخص ہی صاحبِ عزت ہے۔
"مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ…” (صحیح مسلم: 1040)
🔸 سوال قیامت کے دن رسوائی کا سبب۔
"مَا أَكَلَ أَحَدٌ…” (بخاری: 2072)
🔸 حضرت داؤدؑ کی سنت — ہاتھ کی کمائی۔
"كَانَ أَحَبَّ الدِّينِ…” (مسند احمد)
🔸 دین کا اصل مزاج – آسانی، محنت، توازن۔
"مَنْ سَأَلَ النَّاسَ…” (مسلم: 1041)
🔸 سوال کرنا = آگ کے انگارے جمع کرنا
خلیفہ بننے کے باوجود بازار جانا
بیت المال سے وظیفہ بعد میں مقرر ہوا
(الکامل، ابن اثیر)
"آسمان سے نہ سونا برستا ہے نہ چاندی”
🔸 دعا کے ساتھ عملی محنت بھی لازم
(کنز العمال: 9210)
"علم بیچنے کا قائل نہیں”
🔸 کپڑے کے تاجر تھے، علم = مقصد
"لکڑی بیچ کر علم حاصل کیا”
(الانتقاء)
"علماء کو حکام سے دور رہنا چاہیے”
(الآداب الشرعیہ)
"علماء دنیا کے طالب بنیں تو دین اندھیرا ہو جاتا ہے”
(ذم علماء السوء)
"کپڑا بیچتا اور علم حاصل کرتا”
(سیر اعلام النبلاء)
"حلال روزی کمانا فرض ہے”
"علم کو پیشہ بنانے سے برکت جاتی ہے”
(احیاء العلوم)
🔸 علماء کرام کو خود کفالت، ہنر، محنت اور وقار کو اپنانا چاہیے۔
🔸 دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانا علم کی عظمت کے خلاف ہے۔
🔸 علماء، صرف زبانی معلم نہیں بلکہ امت کے عملی نمونہ ہوں۔
کچھ علماء نے سرمایہ داروں پر ایسا انحصار کر لیا ہے کہ:
معمولی دنیاوی فائدے کے لیے دینی اصول قربان کر رہے ہیں
دین کی تاثیر ماند پڑ رہی ہے
علم کا وقار مجروح ہو رہا ہے
عزت، برکت اور وقار – خود داری اور غیر محتاجی میں ہے، سوال اور چاپلوسی میں نہیں۔
ترتیب واشاعت: الرضا نیٹ ورک
از: علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان ڈیجیٹل کاپی کی اشاعت: الرضا نیٹ ورک بریلوی دور… Read More
مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بنگال میں ایس آئی آر : نشانے پر مسلمان! محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بے میل شادیاں! ___اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں… Read More
الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 Read More
اسلام اور تلوار کا بیانیہ: حقیقت یا مفروضہ شمس آغاز ایڈیٹر ،دی کوریج 9716518126 shamsaghazrs@gmail.com… Read More