thalapathy-vijay-victory-1
تمل ناڈو اسمبلی انتخاب : ایک جائزہ !!
غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی
روشن مستقبل دہلی
حال ہی میں ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے۔چار مئی کو نتائج کا اعلان ہوا۔جس کے مطابق بنگال، آسام اور پڈوچیری میں بی جے پی، کیرل میں کانگریس جب کہ تمل ناڈو میں فلم ایکٹر وجے تھلاپتی کی نئی نویلی پارٹی ٹی_وی_کے_(تملگا ویٹری کزگم) نے کامیابی حاصل کی۔بنگال، آسام اور تامل ناڈو کے نتائج نے ملکی سیاست کے کچھ ایسے پہلو سامنے رکھے ہیں جن پر گہرائی سے غور و فکر کرنا ہر سنجیدہ مزاج شہری خصوصاً مسلمانوں کے لیے بے حد ضروری ہے۔
تامل ناڈو ایسی ریاست ہے جہاں بیسویں صدی کے اوائل میں ذات پات اور برہمن واد کے غلبے کے خلاف "دراوڑ تحریک” چلی۔اس تحریک نے پس ماندہ لوگوں کے اختیارات، سماجی مساوات اور تعلیم و روزگار میں یکساں مواقع نہ ملنے کی بنیاد پر برہمن واد کے خلاف زبردست انقلاب برپا کیا۔ٹی ایم نایر ، پی تیاگ راج چیٹی اس تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔بعد میں راما سوامی پیری یار(रामास्वामी पेरियार) نے اس تحریک کو بام عروج تک پہنچایا۔مذکورہ تحریک نے تمل ناڈو سے سیاسی و سماجی اعتبار سے برہمن وادی تسلط کا پوری طرح خاتمہ کر دیا۔جس کی بنیاد پر غیر برہمنوں کو سیاست وسماج اور مین اسٹریم میں آنے کا موقع ملا۔مشہور سیاست داں اَنّا دورئی (بانی ڈی_ایم_کے) اور ایم کروناندھی اسی تحریک کے بطن سے نکلے۔بعد میں ڈی ایم کے سے علاحدگی کے بعد فلمی اداکار ایم جی رام چندرن (M. G. R) نے اے آئی ڈی ایم کے( AIDMK) جیسی سیاسی پارٹی بنائی۔سال 1967 میں اَنّا دورئی کانگریس کو ہرا کر اپنی حکومت بنا چکے تھے۔لیکن 1972 میں ایم جی آر کے ذریعے اپنی پارٹی تشکیل دینے کے بعد یہی دو پارٹیاں صوبے کی اہم پارٹیاں بن گئیں۔کانگریس وہاں تیسرے نمبر پر پہنچ گئی۔اس طرح سیاسی طور پر دراوڑ نظریات ہی کا غلبہ رہا۔دونوں ہی پارٹیاں طریقہ کار میں بھلے مختلف تھیں لیکن نظریاتی طور پر تقریباً ایک جیسی ہی تھیں۔اسی نظریے کی بنا پر یہ صوبہ ابھی تک سماجی معاملات میں برہمن وادی اثرات سے کافی حد تک محفوظ ہے۔
تھلاپتی وجے، جو تامل سنیما کے انتہائی مقبول اداکار ہیں، نے بھی اسی نظریے کے مطابق سال 2024 میں سنیما چھوڑ کر اپنی پارٹی تشکیل دی۔وجے نے اپنی پہلی تقریر میں بی جے پی کو "نظریاتی دشمن” اور بر سر اقتدار ڈی ایم کے کو "سیاسی دشمن” کَہ کر واضح کر دیا تھا کہ وہ دراوڑ نظریات ہی کے مطابق سیاست کریں گے۔تشکیل کے دو سال بعد پہلی ہی بار میں 234 رکنی اسمبلی میں تھلاپتی وجے نے 108 سیٹیں حاصل کرکے تاریخ رقم کر دی اور اب وہ صوبے کی کمان سنبھالنے جا رہے ہیں۔
تھلاپتی وجے کی کامیابی حیران کن تو ہے لیکن بہت زیادہ تعجب خیز بھی نہیں ہے،کیوں کہ جنوبی ہند میں فلمی اداکاروں کی عوامی مقبولیت بڑی غیر معمولی ہوتی ہے۔ان کے سماجی و رفاہی کاموں کی بدولت عوامی وابستگی بھی خوب رہتی ہے۔وجے سے پہلے اے آئی ڈی ایم کے، کے بانی ایم جی آر اور ان ہی کی سرپرستی میں فلم اداکارہ جے لَلِتا بھی تامل ناڈو کی وزیر اعلی منتخب ہوچکے تھے۔شاید اسی فکر کے تحت تھلاپتی وجے نے بھی سنیمائی عروج پر ہونے کے باوجود سیاست کا راستہ منتخب کیا۔فلمی شہرت اور سیکولر مزاج کی بدولت محض دو سال ہی کے عرصے میں انہوں نے ڈی ایم کے، کی مضبوط حکومت کو بے دخل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔
کامیابی کا غور طلب پہلو
یوں تو تمل ناڈو میں عددی اعتبار سے ہندو اکثریت میں ہیں۔حالانکہ تمل ثقافت کے غلبے اور بھکتی تحریک کی بنا پر وہاں کا ماحول شمالی ہند سے یکسر مختلف ہے۔مسلمان اور عیسائی کم و بیش برابر ہیں۔دونوں ہی کی آبادی لگ بھگ چھ فیصد ہے۔تھلاپتی وجے مذہبی اعتبار سے عیسائی ہیں۔اصلی نام جوزف وجے چندر شیکھر ہے۔عیسائی ہونے کے باوجود وجے کی کامیابی اس بات کی طرف دھیان کھینچتی ہے کہ کیا وجے کی جگہ کوئی مسلم شخص ایسی کامیابی حاصل کر سکتا تھا؟
ہو سکتا ہے کوئی یہ کَہ دے کہ وجے فلم ایکٹر ہے، اس لیے کامیاب رہا، مگر یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ وجے پہلا عیسائی نہیں ہے جو وزیر اعلیٰ بننے جا رہا ہے۔وجے سے پہلے آندھرا پردیش میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور ان کا بیٹا جگن موہن ریڈی وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ اجیت جوگی،کیرل میں اے کے انٹونی اور اومان چنڈی عیسائی لیڈر وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔گوا میں اب تک پانچ عیسائی وزیر اعلی بن چکے ہیں۔ناگالینڈ ،میزورم اور میگھالیہ میں عیسائی اکثریتی صوبہ ہونے کی وجہ سے عموماً عیسائی پس منظر والے لیڈر ہی وزیر اعلی بنتے ہیں لیکن آندھرا میں عیسائی آبادی بمشکل ڈیڑھ فیصد ہے اس کے باوجود وہاں دو بار عیسائی وزیر اعلیٰ منتخب ہو چکا ہے۔ابھی بھی وہاں اپوزیشن لیڈر جگن موہن ریڈی ہی ہے جو اگلے الیکشن میں وزارت اعلیٰ کا مضبوط دعوے دار ہے۔میگھالیہ میں بودھ آبادی صرف گیارہ فیصد ہے لیکن پیما کھانڈو کی شکل میں ایک بودھ شخص وہاں وزیر اعلیٰ رہ چکا ہے۔اب تمل ناڈو جیسے بڑے اور خوش حال صوبے میں محض چھ فیصدی آبادی سے تھلاپتی وجے وزیر اعلیٰ بننے جا رہے ہیں۔آخر یہ کامیابی کسی مسلم سیاست داں کو اب تک کیوں نہیں ملی؟
کسی زمانے میں آسام، بہار، بنگال اور مہاراشٹر میں مسلم وزیر اعلیٰ ضرور منتخب ہوئے لیکن اب سوائے کشمیر کے کہیں بھی مسلم وزیر اعلیٰ بننا ناممکن ہے۔کشمیر میں بھی غیر مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کی جی توڑ کوشش جاری ہے۔
کیا ہم کبھی اس پہلو پر اور اس کے اسباب و وجوہات پر غور کریں گے؟
19 ذوالقعدہ 1447ھ
7 مئی 2026 بروز جمعرات
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک
آٹھواں عرس واجدی و حضور مفسر اعظم ہند سیمینار اختتام پزیر حضرت امین شریعت ثالث… Read More
از: علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان ڈیجیٹل کاپی کی اشاعت: الرضا نیٹ ورک بریلوی دور… Read More
مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بنگال میں ایس آئی آر : نشانے پر مسلمان! محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بے میل شادیاں! ___اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں… Read More
الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 Read More