مغربی بنگال کی سیاست:جمہوریت، جرم اور اقتدار کا خطرناک سنگم

مغربی بنگال کی سیاست:جمہوریت، جرم اور اقتدار کا خطرناک سنگم

مغربی بنگال کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ 2026 کے اسمبلی انتخابات کے بعد پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی نے (جیسے تیسے) ریاست میں حکومت بنائی ہے اور Suvendu Adhikari وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔ بی جے پی اس تبدیلی کو’’سیاسی انقلاب‘‘قرار دے رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ جمہوری انقلاب ہے یا پھر طاقت، دولت اور مجرمانہ سیاست کا نیا باب؟
Association for Democratic Reforms (ADR) اور West Bengal Election Watch کی رپورٹ نے ایک نہایت تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔ دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی کے 293 امیدواروں میں سے 208 امیدواروں یعنی تقریباً 71 فیصد پر مجرمانہ مقدمات درج تھے۔ ان میں سے 188 امیدوار یعنی تقریباً 64 فیصد پر سنگین فوجداری مقدمات تھے، جن میں قتل، اقدام قتل، خواتین کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین دفعات شامل ہیں۔
یہ صرف امیدواروں تک محدود نہیں رہا۔ انتخابی نتائج کے بعد اسمبلی پہنچنے والے 206 بی جے پی اراکین میں سے 152 اراکین یعنی تقریباً 74 فیصد نے اپنے حلف ناموں میں مجرمانہ مقدمات کا اعتراف کیا۔ 141 اراکین یعنی 68 فیصد ایسے تھے جن پر’’سنگین فوجداری مقدمات‘‘درج تھے۔ ADR کی رپورٹ کے مطابق 14 منتخب اراکین پر قتل کے مقدمات، 54 پر اقدام قتل، اور 63 پر خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات موجود ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو سوشل میڈیاپر زبردست وائرل ہے جس میں موجودہ وزیر اعلیٰ(جب وہ ٹی ایم سی کا حصہ تھے) کیمرہ پر رشوت لیتے دیکھے جاسکتے ہیں، جس کا اس وقت کے انتخابی ریلیوں میں وزیراعظم نریندرمودی نے جم کر پراستعمال کیا تھا۔
یہ اعداد و شمار کسی اپوزیشن پارٹی یا سیاسی تجزیہ نگار کے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن میں جمع حلف ناموں پر مبنی ہیں۔ ADR وہی ادارہ ہے جس کی قانونی جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ نے امیدواروں کے لیے اپنے مجرمانہ اور مالی ریکارڈ ظاہر کرنا لازمی بنایا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک عام نوجوان کو بیس ہزار روپے کی نوکری کے لیے بینک اسٹیٹمنٹ، پولیس ویریفکیشن، CIBIL اسکور، کردار سرٹیفکیٹ اور درجنوں دستاویزات سے گزرنا پڑتا ہے، تو پھر ملک اور ریاست چلانے والوں کے لیے معیار اتنا کم کیوں ہے؟
ایک نوجوان اگر دو EMI وقت پر ادا نہ کرے تو وہ’’ناقابلِ اعتماد‘‘قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن ایک سیاست دان اگر قتل، فساد، دھمکی، خواتین پر تشدد یا بھتہ خوری کے مقدمات میں ملوث ہو تو وہ’’مضبوط لیڈر‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ تضاد صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور جمہوری بحران بھی ہے۔
آج بھارت میں جمہوریت کا معیار عجیب ہوتا جارہا ہے۔ جتنا بڑا غنڈہ، اتنا بڑا لیڈر۔ جتنی زیادہ دھونس، اتنی زیادہ مقبولیت۔ جتنے زیادہ مقدمات، اتنا زیادہ سیاسی وزن۔ سیاست اب خدمت نہیں بلکہ طاقت کے مظاہرے کا میدان بنتی جارہی ہے۔
دلچسپ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت ہمیشہ ایک ہی دلیل دیتی ہیں:’’یہ مقدمات سیاسی انتقام کے تحت درج ہوئے ہیں‘‘۔ ADR نے اپنی رپورٹ میں واضح کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود سیاسی جماعتیں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دینے سے باز نہیں آرہی ہیں۔
یہ صرف بی جے پی تک محدود مسئلہ نہیں۔ ترنمول کانگریس، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں میں بھی مجرمانہ مقدمات والے امیدوار موجود ہیں، لیکن 2026 کے مغربی بنگال انتخابات میں سب سے زیادہ تناسب بی جے پی امیدواروں کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحث کا مرکز بھی بی جے پی بن رہی ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ عوام آخر ایسے لوگوں کو ووٹ کیوں دیتی ہے؟اس کے کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ مذہبی اور جذباتی پولرائزیشن ہے۔ جب سیاست مذہب، ذات، قوم یا نفرت کے گرد گھومنے لگے تو عوام امیدوار کے کردار سے زیادہ اس کی’’شناخت‘‘ کو اہمیت دینے لگتی ہے۔ دوسری وجہ خوف ہے۔ بہت سے علاقوں میں طاقتور اور بااثر امیدواروں کے خلاف کھل کر سیاست کرنا آسان نہیں ہوتا۔ تیسری وجہ غربت اور بے روزگاری ہے، جہاں لوگ فوری فائدے، نقد رقم، شراب یا مقامی اثر و رسوخ کے تحت ووٹ دیتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑا نقصان جمہوریت کا ہوتا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹنگ کا نام نہیں بلکہ اخلاقی قیادت، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کا نظام ہے۔ اگر قانون بنانے والے خود سنگین جرائم کے ملزم ہوں تو پھر عام آدمی قانون پر اعتماد کیسے کرے گا؟
آج بھارت میں عجیب صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایک طرف حکومتیں “Ease of Doing Business” اور “Digital India” کی بات کرتی ہیں، دوسری طرف سیاست میں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے۔ نوجوانوں کو “اسکل ڈیولپمنٹ” کے لیکچر دیے جاتے ہیں، لیکن اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں ایسے لوگ پہنچ رہے ہیں جن کے خلاف اقدام قتل تک کے مقدمات ہیں۔
یہ بحران صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ جب بچے یہ دیکھتے ہیں کہ محنت، تعلیم اور ایمانداری کے بجائے طاقت، پیسہ اور دھونس کامیابی کا راستہ بن چکے ہیں، تو پورا سماج اخلاقی زوال کی طرف بڑھتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی اس مسئلے پر خاموش رہتا ہے۔ ٹی وی مباحثوں میں مذہبی نعروں، پاکستان، مندروں اور مسجدوں پر گھنٹوں بحث ہوتی ہے، مگر کتنے چینل یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اسمبلی میں کتنے ارکان پر قتل یا اقدام قتل کے مقدمات ہیں؟
یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جمہوریت اب ایک خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اگر سیاست سے اخلاقیات، شفافیت اور جوابدہی ختم ہوجائے تو پھر جمہوریت صرف ایک انتخابی مشق بن کر رہ جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں سے سوال پوچھے۔ ٹکٹ دینے کے معیار پر سوال اٹھائے۔ میڈیا سے جواب طلب کرے۔ اور سب سے بڑھ کر ووٹ دیتے وقت مذہب، نفرت اور جذبات کے بجائے امیدوار کے کردار اور ریکارڈ کو اہمیت دے۔
ورنہ وہ دن دور نہیں جب ایک ایماندار اور تعلیم یافتہ نوجوان نوکری کے لیے بینکوں اور کمپنیوں کے سامنے اپنی’’کریڈٹ ہسٹری‘‘ ثابت کرتا پھرے گا، جبکہ ملک کے اقتدار پر وہ لوگ قابض ہوں گے جن کی اصل پہچان صرف طاقت، خوف اور مقدمات ہوں گے۔

احمدرضا صابری، پٹنہ
10.05.2026

شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک

alrazanetwork

Recent Posts

تمل ناڈو اسمبلی انتخاب : ایک جائزہ !!

تمل ناڈو اسمبلی انتخاب : ایک جائزہ !! غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی روشن مستقبل دہلی… Read More

3 دن ago

آٹھواں عرس واجدی و حضور مفسر اعظم ہند سیمینار اختتام پزیر

آٹھواں عرس واجدی و حضور مفسر اعظم ہند سیمینار اختتام پزیر حضرت امین شریعت ثالث… Read More

1 ہفتہ ago

دورِ حاضر میں بریلوی اہل سنت کا علامتی نشان

از: علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان ڈیجیٹل کاپی کی اشاعت: الرضا نیٹ ورک بریلوی دور… Read More

2 ہفتے ago

مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ

مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ   محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More

3 ہفتے ago

بنگال میں ایس آئی آر : نشانے پر مسلمان!

بنگال میں ایس آئی  آر : نشانے پر مسلمان! محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More

3 ہفتے ago

بے میل شادیاں!

بے میل شادیاں! ___اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں… Read More

4 ہفتے ago