وشاکھا پٹنم گیس لیک
وشاکھا پٹنم گیس لیک: بدترین لاپرواہی کا خمیازہ
جوابدہی ،ہمیشہ کی طرح کسی کی نہیں!!شرم،پچھلے چھ سالوں میں کسی کو آئی نہیں!!
آندھراپردیش کے وشاکھا پٹنم میں ایک کارخانے سے مضرِ صحت گیس کے اخراج کے بعد کم از کم 11 افراد ہلاک اور سینکڑوں متاثر ہوئے ہیں۔بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق گیس کے اخراج کا واقعہ وشاکھاپٹنم میں واقع ایل جی پولیمر کے کارخانے میں پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح تین بجے گیس خارج ہونا شروع ہوئی اور یہ واقعہ ممکنہ طور پر غفلت کا نتیجہ ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گیس لیک کے بعد ’سینکڑوں افراد کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے بیشتر افراد آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت کر رہے تھے۔‘ضلع مجسٹریٹ ونے چند نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اخراج کے بعد کم از کم 800 افراد کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جن میں سے تقریباً 86افراد کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس گیس کے اخراج کا اثر فی الحال 3کلو میٹر کا دائرہ بتایا جارہا ہے لیکن اس کا دائرہ بڑھنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کے کیا نتائج ہوں گے یہ کوئی نہیں جانتا۔ بھوپال گیس لیک حادثے کو آج 35 سال گزر چکے ہیں صرف چوبیس گھنٹے میں وہاں 3000 افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے اور بعد میں ہونے والے اثرات سے بھی ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ،آج 35 سال بعد بھی لوگ اس کے تباہ کن نتائج جھیل رہے ہیں، آج بھی بچے بہت ساری جسمانی کمزوریا ں لے کر پیدا ہوتے ہیں۔
وشاکھاپٹنم میںآج جو کچھ ہورہا ہے اس سے بہت زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جس پاگل پن، ہزیانی کیفیت اور ایک مخصوص ایجنڈے کو ذہن میں رکھ کر بد نیتی سے حکومت چلائی جارہی ہے اس میں اسطرح کے حادثے کوئی حیران کرنے والے نہیں ہیںاور ہمیشہ کی طرح اس کی بھی کوئی جوابدہی طے نہیں ہوگی، بھوپال حادثہ تو آج لوگوں کو یاد بھی ہے لیکن وشاکھا پٹنم چند ہفتوں میں لوگ بھول جائیں گے کیونکہ ایک جادو گر اِن دنوں حکومت میں بیٹھا ہے جو واقعات اور مدعوں کا رخ موڑنے میں بلا کی مہارت رکھتا ہے، کچھ ہی دنوں میں بات آئی گئی ہوجائے گی بلکہ ضرورت پڑے تو مرنے والوں کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں نہ پہنچنے دینے کے لیے یا کوئی اچھا سا مہرہ کھڑا کرکے اسے حراست میں لے لینے پر کوئی اپنی پیٹھ بھی تھپتھپا لے گا اور جے جے کاربھی لگوا لے گا، جیسے پلوامہ اور دیگر چھوٹے بڑے واقعات اگر آپ کو یاد ہوں۔
وشاکھا پٹنم کا یہ واقعہ دراصل شراب کی دُکانوں کی طرح فیکٹریاں کھلوانے کی ہڑبڑاہٹ کے سبب پیش آیا ہے، کوئی ماسٹر پلان نہیں ، کوئی پیشگی تیاری نہیں، سینٹر کی گائیڈ لائن کچھ اور صوبے اپنی دھن میں مگن، کوئی قیادت نہیں کوئی رہبر نہیں، ہر کوئی شطر بے مہار کی طرح جدھر من میں آئے دوڑ رہا ہے۔ اور اس طرح کے حادثے اور زیادہ بڑھیں گے جب لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد مزدور دس دس گھنٹے کام کریں گے اور ان سے غیر انسانی طور پر مہینوں کے نقصان کی بھرپائی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان سب کا ذمہ دار کون ہوگا؟ کوئی نہیں جانتا۔
آئے دن حکمرانی کے نام پربغیر سوچے سمجھے روز کوئی نہ کوئی ڈرامہ رچا جاتا ہے، مرکز کچھ فیصلہ کرتا ہے اور اسی پارٹی کی حکومت دوسرے صوبہ میں کچھ فیصلہ کرتی ہے یعنی ہرطرف ایک طرفہ تماشے کا ماحول ہے، خود سری اور خود نمائی کی ایسی فضا بنائی گئی ہے کہ اکثریتی طبقے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔لاک ڈاؤن لگے ہوئے آج چالیس دن سےزیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج تک مزدوروں کی نقل مکانی جاری ہے کوئی ایک ہزار کلو میٹر پیدل چل رہا ہے تو کوئی دو ہزار، بہت سارے ضعیف راستے پر دم توڑ دے رہے ہیں، بہت ساری مائیں نومود بچے کو لے کر ہزاروں کلومیٹر پیدل سفر کررہی ہیں، کئی سارے ننھے ننھے بچے بے آب ودانہ ہفتوںسے فٹ پاتھ پر پیدل چل رہے ہیں لیکن یہاں شرمسار ہونے والا کوئی نہیں، بے غیرتی کے سارے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ کورونا سے پیشتر لوگ سڑکوں پر پیدل چل کر اپنی جانیں گنوا رہے ہیں لیکن کوئی بھی ان کا پرسان حال نہیں۔ دراصل یہ بھی اپنی ہی کرنی کا پھل ہے اور یہ بھی بعید نہیں یہی لوگ جو آج سڑکوں پرتباہیاں جھیل رہے ہیں پھر چھ مہینے بعد ہر ہر اور گھر گھر کا نعرہ لگاتے نظر آئیں گے۔
ذرا سوچیں! اسی مزدور اور عام عوام کے پیسوں پربلا وجہ غیر ضروری اور محض تفریح کے لیے دنیا کے ہزاروں کلومیٹر کا بائی ایر چکرکاٹنے والے آدمی کی حکومت میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرینوں کے ذریعے اپنے گھروں کو پہنچائے جانے والے مزدوروں کا کرایہ کون ادا کرے گا۔ہزاروں مزدور دوگنے تین گنے رقوم ادا کرکےسفر کررہے ہیںاور دوسری طرف بڑے صنعت کاروں کے قرض معاف کردیئے جارہے ہیں۔ایک طرف وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ کسی کی نوکری ختم نہیں ہوگی دوسری طرف ہزاروں لاکھوں لوگ نوکریوں سے برطرف کیے جارہے ہیں۔وزیر اعظم کے فیصلوں کو کرناٹک میں ان ہی کی پارٹی قبول نہیں کررہی ہے۔
جس جلد بازی میں لاک ڈاؤن لگایا گیا اسی جلد بازی میں اسے بغیر سوچے سمجھے کھولا جارہا ہے، ڈاکٹروں کے پاس علاج کے ذرائع نہیں ہیں، مریضوں کی تعداد روز نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے لیکن اسپتالوں پر پھول کی برسات کی جارہی ہے، کہیں تالی تھالی تو کہیں دیے جلوائے جارہے ہیں، عوام تو عوام معزز عہدوں پربیٹھے باعزت لوگ بھی اس جہالت میں کندھوں سے کندھا ملائے چل رہے ہیں۔ جب فنڈ کی جانکاری طلب کی جاتی ہے تو سپریم کے کورٹ کے جج وکیل کودھمکی دیتے ہیں اگر دومنٹ میں مقدمہ واپس نہیں لیا تو آپ پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا کیونکہ جج صاحب نے بھی اس گمنام فنڈ میں لاکھوں روپیہ جمع جو کروایا ہے۔ اُدھر اڑیسہ ہائی کورٹ کہہ رہا ہے کہ صوبہ میں داخل ہونے سے پہلےہرشخص کی جانچ کی جائے گی جس کا رزلٹ منفی ہوگاوہی صوبہ کے اندر داخل ہوگا جس کا ٹیسٹ مثبت ہوگا اسے صوبے میں داخلہ نہیں ملے گا۔ جی ہاں! آپ صحیح پڑھ رہے ہیں اڑیسہ ہائی کورٹ نے آج ہی یہ عجیب وغریب فیصلہ سنایا ہے،کتنے کمال کی بات ہے کہ اگر کسی کو کورونا ہوگیا تو اب اسے اپنے صوبہ میں رہنے کا حق حاصل نہیں، زیادہ پریشان نہ ہوں ان چٹکلوں اور لطیفوں سے بھرے دورِ حکومت میں کچھ بھی ممکن ہے۔
پھر بھی وزیر اعظم بہت اچھا ہے!! حکومت بہت عمدہ ہے!!ہم سب ایک حیرت انگیز وقت دیکھ رہے ہیں!!نہ آنکھوںکو یقین ہوتا ہے نہ کانوں کو ، ایسی ایسی باتیں سامنے آتی ہیں کہ اگر کوئی حساس اور قابل قدر آدمی حکومت چلارہا ہوتا (جیسے منموہن سنگھ یا ان سے پہلے کے وزرائے اعظم) تو اتنی ذلت ورسوائی پر برسوں اپنے آپ کو کسی تہہ خانے میں بند کرلیتے۔لیکن یہاں تو بے غیرتی اور شرمی کا معیار اس قدر بلند ہے کہ کب ٹی وی پر آکر اپنی پیٹھ تھپتھپانا شروع کردیں کوئی نہیں جانتا۔
ان سب جہالتوں اور پاگل پن کے باوجود ایسوں کی کمی نہیں جو ایک شخص کو بھگوان بنانے کی مسلسل جدو جہد میں لگے ہیں، ان سب حماقتوں کے بعد بھی اگر کسی کو لگتا ہے کہ ملک میں ایک عظیم قائد کی عظیم کی حکومت ہے ، تو آپ ایسوں کی عقل پرترس کھانے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔لیکن ہرعروجےرا زوال است کے مصداق اس پاگل پن کا بھی بھیانک خاتمہ ہوگا۔
خیر! آپ بھی اس پرلطف اور لطیفوں سے بھرے ماحول کا مزہ لیجئے اپنے گھروں میں رہیے، عبادت وریاضت میں وقت گزاریے، اپنے ارد گرد کمزور اور بے سہاروں کی اعانت کیجئے، عید کی شاپنگ وغیرہ کو سختی سےبائیکاٹ کیجئے اور دوسروں کو باز رہنے کے لیے کہیے۔ ان شاء اللہ تمام برے وقتوں کی طرح یہ وقت اور ایسے وقت میں لانے والے کا سایہ بھی جلد ہی گزر جائے گا۔ ان شاء اللہ!
اور بھی کچھ۔۔۔!! ان شاء اللہ اگلی تحریر میں
اس موضوع پر کمینٹ باکس میں آپ بھی اپنی رائے رکھ سکتے ہیں۔
والسلام
احمدرضا صابری
کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More
اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More
25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More
طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More
فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More
جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More