کورونا وائرس
کوروناوائرس:احتیاطی تدابیر اور لاک ڈاون کااسلامی تصور!!
لاک ڈاؤنLockdown یہ انگریزی زبان کی ایک اصطلاح ہے اردو زبان میں اسے تالابندی کہتے ہیں اس کامطلب ہےآمدورفت نقل وحرکت کو مخصوص دنوں کےلیے مقفل اورمحدود کردینا کسی بھی وباء یا ہنگامی صورت حال پر قابو پانےکےلیےملک اورریاست کی یہ حکمت عملی ہوتی ہےکہ وہ اس دوران اپنےزیراثر مخصوص علاقے کی نقل و حرکت کو موقوف کردے
#کورونا_وائرس یہ بیماری پہلی بار 1960ء میں متعارف ہوئی یہ ایک جان لیوا مہلک مرض ہے آپ بخوبی جانتے ہیں کہ 2019سے لیکر اب تک ہندوستان سمیت دنیا کے کثیر ممالک کورونا وائرس covid 19 کی مہاماری سے جوجھ رہا ہے لاکھوں جانیں اب تک تلف ہوگئیں
چین کے وہان سے یہ وباء پھوٹی اور دھیرے دھیرے اپنا پیر پسارتی چلی گئی اور وقفہ وقفہ سے اس نے پنجہ آزمائی کی ماہرین کے مطابق اس وقت کرونا وائرس کی یہ تیسری لہر پہلے سے کچھ زیادہ ہی شدید ہے شرح اموات میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے ہمارے ملک بھارت کا تو یہ حال ہے کہ نوٹ بندی کے موقع سے بینکوں میں جو بھیڑ دیکھنے کو مل رہی تھی کہیں اس سے زیادہ بھیڑ قبرستان اور شمشان گھاٹ میں دیکھنے کو مل رہی ہے فرق یہ ہے کہ اس وقت صرف زندہ لوگوں کا قطار تھا اور آج مردہ اور اس کے پیچھے زندہ کی لائنیں لگی ہیں
موجودہ حکومت کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس ہاسپٹل میں جگہ نہیں طبی سہولیات موجود نہیں آکسیجن کا فقدان اور ویکسین کی عدم فراہمی نے لوگوں کو مرنے مارنے پر مجبور کردیا ہے حکومت کی ان سب ناکامیوں کے باوجود نہ تو فرقہ پرستی ختم ہورہی ہے اور نا ہی اندھ بھکتی کا نشہ اتر رہا ہے
خیر اس وقت عرب امارات سمیت کئی دوسرے ملکوں سے امداد کا سلسلہ جاری ہے اور پھر سے لاک ڈاؤن کا عمل بھی نافذ ہوگیا ہے
آئیے ہم دیکھتے ہیں #کوروناوائرسلاک_ڈاون کا اسلامی تصور کیاہے ان دونوں کےدرمیان کیسا رشتہ ہے یہ ہم سب جانتے ہیں کہ
اسلام دین فطرت ہے زندگی بندگی اور پھر یہ کہ موت قبر وحشر تک کے مراحل کی رہنمائی کرتا ہے انفس وآفاق کی پرت در پرت سے بنی آدم کو روشناس کراتا ہے روز مرہ کے تغیر وتبدل صحیح وسقم اور ہدایت وضلالت اورپیش انے والےمثبت ومنفی نتائج سےآشکار کرتا ہےاوراس میں اپنےایمان وعقائد نیز اپنی جان ومال اہل وعیال خاندان سماج کے تحفظ وبقا کے لیے ضروری تدابیر فراہم کرتا ہے اس لیے ہمیں یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہوسکتا کہ اسلام ایک کامل دین ہے اور اس میں ہماری زندگی سے جڑے سارے مسائل کا حل موجود ہے
جن چیزوں کی افادیت لوگوں آج سمجھ میں آرہی ہے اور ماڈرن سائنس توثیق کررہی ہے پیغمبر انسانیت ﷺ نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی ان چیزوں کی اہمیت سے ہمیں آگاہ فرمادیا ہے اور آپ ﷺ کے جانثار صحابہ نے اسے اپنے عملی زندگی اور اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اسے نافذ کر دکھایا ہے
آج جو کوروناوائرس کے روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کی پرکریا جاری کی جارہی ہے درحقیقت یہ ایک اسلامی فکر وعمل کا نتیجہ ہے اس حوالے سے اس وقت میرے سامنے اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ کے دورسالے ہیں ایک (تیسرالماعون للسکن فی الطاعون ۱۳۳۵ھ طاعون کے دوران گھر میں ٹھرے رہنے والوں کے لیے بھلائی کو آسان کرنا) دوسرا رسالہ ہے (التبحیر بباب التدبیر ثلج الصدر الایمان القدر ۱۳۰۵ھ رسالہ تدبیر وفلاح) چند مفید نفع بخش مثبت حقائق (جواسلامی ہدایات اور نبوی ارشادات پر مبنی ہے ) مندرجہ بالا رسالوں کی روشنی میں آپ کے پیش نظر رکھنے کی جسارت کررہا ہوں
انسانوں کی تاریخ میں بہت سے وبائی امراض کا ذکر اور اس کے روح فرسا نتائج موجود ہیں جذام (کوڑھ )ہیضہ چیچک سوائن فلو وغیرہ ان سب میں خاص کر #طاعون_Plague کا ذکر اسلامی کتب میں تفصیل سے ملتا ہے
صحیحین کی متفق علیہ روایت ہے
;طاعون ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا ان سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا لہذا جب تم اس کے بارے میں سنو کہ فلاں زمین میں پھیل گیا تو وہاں نہ جاو اور جس جگہ پر تم مقیم ہو وہاں طاعون پیدا ہو جائے تواس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے باہر نہ جاو اور جگہ قیام نہ چھوڑو؛ (بخاری ومسلم)
اس کے علاوہ روایات جس میں طاعون سے بھاگنے والوں کی سرزنش کی گئی ہے اور سخت وعید سنائی گئی ہے ان روایات کو نقل کرنے کے بعد امام احمد رضا فرماتے ہیں
;ان تمام الفاظ احادیث میں صرف طاعون سے بھاگنے پر وعید شدید اور صبر کے ساتھ ٹھہرے رہنے کی ترغیب وتاکید ہے شہر یا محلے یا حوالی شہر غیرہ کی کچھ قید نہیں تو جو نقل وحرکت طاعون سے بھاگنے کے لیے ہوگی اگرچہ شہر ہی کے محلوں میں وہ بلاشبہ اس وعید وتہدید کے نیچے داخل ہے ؛
#قارئین : لاک ڈاؤن کا اسلامی تصور یہ نکل کر سامنے آیا کہ متاثرہ آبادی کے لوگ غیر متاثر (محفوظ ) آبادی میں نہ جائیں اور محفوظ آبادی والے متاثر آبادی میں نہ جائیں
اور یہ صرف طاعون جیسی وبا کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں
;وباء میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جہاں ہو یعنی جہاں وباء پھوٹ پڑے وہاں نہ جائے اور جس جگہ بندہ موجود ہو اور وہاں وباء کی صورت بن جائے تو وہاں سے نہ بھاگے اگرچہ بعض مقامات مثلاً وہ گھر جو زلزلے کا شکار ہو یا جس میں آگ لگ گئی ہو یا گرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہو تو ان تمام مقامات سے ہلاکت کے غالب گمان وامکان کے پیش نظر بھاگ جانے کی اجازت ہے؛ (اشعۃاللمعات)
امام احمد رضا قدس سرہ تنبیہ کے تحت فرماتے ہیں:جس طرح طاعون سے بھاگنا حرام ہے اور اس کے لیے وہاں جانا بھی ناجائز و گناہ ہے احادیث صریحہ میں دونوں سے ممانعت فرمائی پہلے میں تقدیر الٰہی سے بھاگنا اور دوسرے میں بلائے الٰہی سے مقابلہ کرنا ہے ؛تقدیر الٰہی سے بھاگنا اور بلائے الٰہی سے مقابلہ کرنا یہ دونوں جرم اور گناہ عظیم ہے
امام احمد رضا ایمان بالجزم واذعان بالقدر کی ترغیب دیتے ہوئےرقم طرازہیں:اپنے شہر میں تین وصفوں کے ساتھ ٹھہرے اول صبر واستقلال دوم تسلیم و تفویض ورضابالقضاء پر طلب ثواب سوم یہ سچا اعتقاد کہ بے تقدیر الٰہی کوئی بلا نہیں پہونچ سکتی:طاعون یا پھر کسی بھی دوسرے مرض بھاگنے کی ممانعت پر کثیر حکمت ہیں،مثلاً آپ فرماتے ہیں:طاعون سے فرار حرام ہے اس کی حکمت یہ ہے اگر تندرست بھاگ جائنگے تو بیمار ضائع رہ جائنگے ان کا کوئی تیمہ دار ہوگا اور نہ خبر گیراں پھر ان کی تجہیز وتدفین کون گریگا آج کل ہمارے شہر اور گردونواح کے ہنود میں مشہور ہورہا ہے کہ اولاد کو ماں باپ اور ماں باپ کو اولاد نے چھوڑ کر اپنا رستہ لیا بڑوں بڑوں کی لاشیں مزدوروں نے ٹھیلے میں ڈال کر جہنم پہونچائیں اگر شرع مطہر مسلمانوں کو بھاگنے کا حکم دیتی تو معاذاللہ یہی بے بسی بیکسی ان کے مریضوں میتوں کو بھی گھیرتی جسے شرع قطعا حرام فرماتی ہے :
امام احمد رضا نے اپنے دور کے حوالے سے جو کچھ بھی ارشاد فرمایا وہ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس زمانے میں ہنود کی لاشوں کو مزدور ٹھیلے میں ڈال کر جہنم رسید کررہے تھے اور آج یہی کام مسلمان کررہا ہے ان کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے والا کوئی نہیں لیکن یاد رہے اگر مسلمان واقع مسلمان بن کر رہے تو ان کو اپنوں کی لاش کے تجہیز وتدفین میں ایسی کوئی دشواری پیش نہیں آسکتی اسلام احتیاط کا حکم دیتا ہے نفرت کا نہیں ایسے شخص کے لیے حکم شرع کیا ہے جو طاعون یا پھر دوسری وبا سے نہ بھاگنے کی نیت رکھتا ہو اور نا ہی مقابلہ کی تو ایسے شخص کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا آنا کیسا ہے
اس حوالے سے امام احمد رضا تحریر کرتے ہیں:اس میں ہمارے علماء کی تحقیق یہ ہے کہ بجائے خود حرام نہیں مگر نظریہ پیش بینی یہاں دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ انسان کامل الایمان ہے لن یصبنا الا ماکتب ﷲ لنا ہمیں ہرگز کچھ نہیں پہونچ سکتا سوائے یہ کہ جو ﷲ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے کہ بشاشت و نورانیت اس کے دل کے اندرسرایت کیے ہوئے ہے اگر طاعونی شہر میں کسی کام سے جائے تو اسے یہ پیشمانی عارض نہ ہوگی کہ ناحق آیا کہ بلا نے لے لیا یا کسی کام کو باہر جائے تو یہ خیال نہ کرے گا کہ خوب ہوا کہ اس بلا سے نکل آیا خلاصہ یہ ہے کہ اس کا انا جانا بالکل ایسا ہی ہو جیسا طاعون نہ ہونے کے زمانے میں ہوتا تو اسے خالص اجازت ہے اپنے کاموں کو آئے جائے جو چاہے کرے نہ کہ فی الحال نیت فاسدہ ہے اور نہ آئندہ فساد کا فکر و اندیشہ ہے اور جو ایسا نہ ہوا تو مکروہ:انسان کا تقدیر پر ایمان ذات باری تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے تدابیر کا اپنانا ایک ضروری عمل ہے تقدیر اور تدبیر کے متعلق امام احمد رضا کے رسالہ تدبیر وفلاح کا یہ اقتباس پڑھیں::جس طرح تقدیر کو بھول کر تدبیر پر کھولنے کفار کی خصلت ہے یونہی تدبیر کو محض عبث ومطردوفضول و مردود بتاناکسی کھلی گمراہی یا سچے مجنون کا کام ہے جس کے روسے صدہا آیات وآحادیث سے اعراض لازم آتا ہے حضرات مرسلین صلوٰۃ ﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین سے زیادہ کس کا توکل اور ان سے بڑھ کر تقدیر الٰہی پر کس کا ایمان پھر وہ ہمیشہ تدبیر فرماتے اور اس کی راہیں بتاتے اور خود رزق حلال میں سعی کرکے رزق طیب کھاتے
آگے لکھتے ہیں:مرگ بھی تو تقدیر ہے پھر ﷲ تعالیٰ نے کیوں فرمایا ولاتلقوابایدیکم الی التہلکۃ اپنے ہاتھوں اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالو تدبیر بیشک مستحسن ہے اور اس کی بہت سی صورتیں مندوب و مسنون ہیں جیسے دعا اور دوا دعا کی حدیثیں تو متواتر ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:لایردالقضاء الا الدعا ؛ تقدیر کسی چیز سے نہیں ٹلتی مگر دعا سے (یعنی قضائے معلق) رواہ ترمذی وابن ماجہ)
حدیث ہے : تداوو عبادﷲفان ﷲ لم یضع داء الا وضع لہ دواء غیر داء واحد الھرم ؛ خدا کے بندو دوا کرو ﷲ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کی دوا نہ بنائی ہو مگر ایک مرض یعنی بڑھاپا (اخرجہ احمد ابوداؤد وال ترمذی)اور خود حضور ﷺ کا استعمال دوا فرمانا اور امت مرحومہ کو صدہا امراض کے علام بتانا بکثرت احادیث میں مذکور اور طب نبوی وسیروغیرھما فنون حدیثہ میں مسطور
#احتیاطی_تدابیرکیاہیں آئیے خلیفہ دوم امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے پوچھتے ہیں:امیرالمومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جب بقصد شام وادی تبوک میں قریہ (گاوں) سرغ تک پہونچے سرداران لشکر ابوعبیدہ بن الجراح والدین الولید وعمرو بن العاص وغیرہم رضوان ﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین انہیں ملے اور خبر دی کہ شام میں وباء ہے امیرالمومنین نے مہاجرین انصار وغیرہم صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کو بلا کر مشورہ لیا اکثر کی رائے رجوع پر قرار پائی امیرالمومنین نے باز گشت کی منادی فرمائی حضرت ابوعبیدہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا افرار قدرﷲ کیا کی تقدیر سے بھاگنا حضرت امیرالمومنین نے فرمایا لوغیرک قالھایا ابا عبیدہ نعم نفر من قدرﷲ الی قدرﷲ کاش اے ابوعبیدہ یہ بات تمہارے سوا کسی اور نے کہی ہوتی (یعنی تمہارے علم وفضل سے بعید تھی) ہاں ہم ﷲ کی تقدیر سے ﷲ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگتے ہیں پھر آپ نے فرمایا بھلا بتلاوٴ تو اگر تمہارے کچھ اونٹ ہوں انہیں لے کے کسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں ایک سرسبز وشاداب دوسرا خشک تو کیا یہ بات نہیں کہ اگر تم شاداب میں چراود تو ﷲ کی تقدیر سے اور خشک میں چراوگے تو ﷲ کی تقدیر سے؛ (اخرجہ الائمہ مالک واحمد والبخاری ومسلم و ابوداود والنسائی عن ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ)
امام احمد رضا اس روایت کے تحت یوں تفصیل لکھتے ہیں:یعنی باآں سبب کچھ تقدیر سے ہے پھر آدمی خشک جنگل چھوڑ کر ہرا بھرا چرائی کے لیے اختیار کرتا ہے اس سے تقدیر الٰہی سے بچنا لازم نہیں آتا یو نہی ہمارا اس زمین میں نہ جانا جس میں وباء پھیلی ہے یہ بھی تقدیر سے فرار نہیں ہے پس ثابت ہوا کہ تدبیر ہرگز منافی توکل نہیں بلکہ صلاح نیت کے ساتھ عین توکل ہے ہاں بیشک ممنوع و مذموم ہے کہ آدمی ہمہ تن تدبیر میں منہمک ہوجائے اور اس کی درستی جا وبیجا نیک وبد حلال وحرام کا خیال رکھے:امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے اس عمل سے یہ بات بھی ثابت ہو گئے کہ آدمی اگر کہیں قصد کرے اور اثنائے سفر وہاں سے متعلق کسی مہلک وباء کی خبر موصول ہوتو اس مسافر کا اپنے سفر کو ملتوی کر دینا جائز اور سنت فاروقی ہے
اسلام کس قدر احتیاط اور تدابیر کرنے کا حکم دیتا ہے مندرجہ بالا سطور سے ظاہر ہے البتہ ایک حدیث یہ بھی ہے کہ ؛ لاعدوی ولا طیرۃولا ہامۃ ولا صفر وفرمن المجذوم کما تفرمن الاسد (بیماری کا متعدی ہونا بدشگونی الو کا منحوس ہونا اور سفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو ہے اور البتہ شیر سے ایسے بھاگ جیسے شیر سے بھاگتا ہے (بخاری کتاب الطب باب الجذام)
اس حدیث پاک میں چند جاہلانہ خیالات کے رد کے ساتھ ساتھ بیماری کے متعدی ہونے کی بھی نفی کی گئی ہے اور جذامی یعنی کوڑھ کے مریض سے احتیاط کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی مختصر وضاحت جو علمائے کرام کی تصریحات سے ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی بیماری فی نفسہ متعدی نہیں ہے سب ﷲ عزوجل کی قدرت اور مشیت سے ہے البتہ کچھ مہلک بیماریوں سے حفاظتی اقدام کرنا بھی لازمی ہے جیسے #جذام Lepros/Lazarکوڑھ اور دیگر امراض مہلکہ نبوی ہدایات میں یہ بھی کہ لا یورد ممرض علی مصحٍّ(بیمارکوتندرست کے پاس نہ رکھیں (صحیح مسلم باب لاعدوی ولا طیر)
وہیں یہ ارشاد بھی موجود ہے ولاتدیموالنظرالی المجذومین ؛ جذام والوں پر نظریں نہ گڑائے رکھو (ابن ماجہ) اور سنن ماجہ میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے قبیلہ ثقیف کا ایک وفد حضور نبی کریم ﷺ سے بیعت کے لیے حاضر خدمت ہوا ان میں ایک جذامی شخص بھی تھا نبی کریم ﷺ نے کہلا بھیجا انّا قد بایعناک فارجع بیشک ہم نے بیعت کرلی ساتھ لوٹ جاو اس کے علاوہ بھی روایات ہیں مثلاً حضور ﷺ نے جذامی سے ایک نیزہ فاصلہ بنائے رکھنے کا حکم دیا اور پھر آپ کی شان رحیمی کریمی کہ ایک جذامی کو آپ ﷺ نے اپنے ساتھ بیٹھا کر کھانا کھلایا
#قارئین ان تمام ترآحادیث وروایات کا حاصل یہ ہے کہ کوئی بھی بیماری بذاتہ متعدی نہیں ہوتی البتہ کچھ بیماریاں ایک فرد سے دوسرے افراد تک مختلف ذرائع سے پھیل جاتی ہیں اس کے کچھ اپنے جراثیم ہوتے ہیں جو بالواسطہ لوگوں کو متاثر کرتے ہیں
لہذا اس سے بچنا اور بچانا بھی ایک فریضہ ہے اور اس کی صورت یہی ہے کہ اسلامی تعلیمات نبوی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے ایسی بیماریوں سے متاثر لوگوں کی صحبت اور مجالست سے بچا جائے اور اگر آپ خود متاثر ہیں تو دوسرے کو بچایا جائے اجتناب اور احتراز کے عملی اقدامات کیے جائیں آج کی میڈیکل سائنس جس گائڈ لائنس دنیا کو بتا رہی ہے ہمارے نبی رحمت ﷺ نے بہت پہلے ہمیں باخبر فرمادیا ہے
آج کے اطباء حکماء ڈاکٹر معالج یہی تو کہرہے ہیں فزیکلی قربت اختیار کرنے سے بچا جائے اس سے انفکشن infection پھیلنے کے خطرات ہوتے ہیں سوشل ڈیسٹینگ Social distance لوگوں سے دوری بنائیں رکھیں اور اگر کوئی متاثر ہو جائے تو تنہائی برت کر آئسولیشنIsolation کے ذریعہ خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھا جائےیہ ساری ہدایات ذخیرہ حدیث اور اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں
البتہ حضور ﷺ کا جذام کے مریض کو دسترخوان پر شریک کرنا یہ آپ کا توکل کے سب سے اعلیٰ معیار پر گامزن رہنے پر دلیل ہے اور اس میں ایک پیغام ہے مریض سے نفرت نہ ہو مرض سے احتیاط برتا جائے
#ضروری_گذارش اس مہاماری کے موقع سے احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ تعلق باللہ کو مضبوط اور مستحکم کریں توبہ اور استغفار کی کثرت کریں
رب تعالیٰ جل شانہ شافی وکافی تمام امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اوراس وبا سے سب کو نجات بخشے ہر حال میں ہمیں صابر وشاکر رکھے رمضان کریم کے برکتوں سے مالا مال اور ہمارے آباء واجداد کی مغفرت فرمائے آمین بحق سید المرسلین ﷺ
حسبناﷲنعم الوکیل نعم المولی ونعم النصیر
طالب دعا
#صابررضامحب القادری نعیمی غفرلہ
7مئی 2021
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مزید پڑھیں: کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو ہونے اور … Read more جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ ” الحاد” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا ، راستے سے ہٹ جانا ،الحاد کو انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے جس کا مطلب لا دینیت … Read more نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش بہار میں آج نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئی حکومتی ترتیب کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ این ڈی اے قانون سازیہ پارٹی کی … Read more مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ (جب جاگو تبھی سویرا) تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbhati.blogspot.com آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا تھا تو … Read more راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر شہری کو مساوی حقِ رائے دہی حاصل ہے۔ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول اس نظام کی بنیاد ہے، اور یہی اصول ملک کو کثرت میں وحدت … Read more
کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی
جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ
نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟
راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر
کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More
اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More
25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More
طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More
فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More
جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More