بھیک مانگنا
گدا گری کی لعنت اور اس کا سد باب!
عبداللہ رضوانی مرکزی
خانقاہ رضوانیہ نانپورسیتامڑھی،بہار
گداگری معاشرے کی ان قبیح ترین برائیوں میں سے ایک ہے جن میں روز افزوں اضافہ ہوتاجارہاہے۔بڑی تیزی کے ساتھ لوگ اسے کسب معاش کاآسان ذریعہ سمجھ کراپنارہےہیں۔اچھی خاصی صحت وتندرستی کےمالک افراد گداگری کالبادہ اوڑھتے نظرآرہے ہیں۔دوکان ومکان، مساجدومزارات،گلی کوچے اورہسپتالوں کےباہرگداگروں کی ایک لمبی قطار دست سوال درازکیے کھڑی ہوتی ہے۔ شاہراہوں پردیکھا جاتاہے کہ ایک جانب کچھ بچے پھٹے پرانےلباس پہنے ہوئے لوگوں کوتنگ کررہے ہوتے ہیں تووہیں دوسری جانب اس کے ماں باپ اپنادامن پھیلائے ہوئےکھڑے ہوتے ہیں۔افسوس کامقام یہ ہےکہ یہ لعنت اس قدرعام ہوچکی ہےکہ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹےبچوں کو بھی اس عادت بد کاعادی بنارہے ہیں۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کتاب وقلم کابستہ ہوناچاہیےان کے ہاتھوں میں بھیک مانگنے کاپیالاپکڑادیاجاتاہے۔
زمانے کی ترقی کے اعتبار سے گداگری بھی جدید طرز اختیار کرتی جارہی ہے۔اکثرمشاہدے میں آتاہے کہ چندافراد کسی ایک معذور شخص کو گاڑی میں بیٹھادیتے ہیں اور گاؤں گاؤں،محلے محلے گھوم کر ان کے نام سے بھیک مانگ رہےہوتے ہیں۔کئی جگہوں کے حوالے سے خبر تویہاں تک آئی کہ وہ معذور شخص بھی جعلی نکلا۔ اس کے علاوہ بہت سارے مرد وخواتین حضرات کسی ہسپتال سے جعلی رپورٹ تیار کرواکر کئی سالوں تک ٹرینوں ،عام گزرگاہوں خاص کر ہسپتالوں کے باہر لوگوں کوبیوقوف بناتے پھرتے ہیں اور ان سے پیسہ وصول کرتے ہیں۔
گداگروں کاگروہ مذہبی تہوار خاص کر رمضان المبارک کے ایام میں مسلسل چکرکاٹتاپھرتاہےاور لوگوں سے زیادہ مقدار میں صدقہ وخیرات دینے کے لیے کہتاہے۔ہردن ایک دروازے پر درجنوں بھکاری آ تے ہیں اور اگر انھیں کچھ کم رقم دی جائے تو برہم ہو جاتے ہیں ،بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے زبان پر بددعاؤں کا ورد ہو جاتا ہے۔ یوں ہی کسی خاص محفل کی مناسبت سے ان کا پورا گروہ وہاں پہنچ جاتا ہے اور لوگوں کو بھیک دینے پر ہراساں کرتاپھرتاہے۔تعجب کی بات یہ ہے کے ان میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو خود کو فقیر طبقے سے شمار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ رسم ان کے آباواجداد سےچلتا آرہا ہے اور ان کے لیے اسی میں فخر کی بات ہے۔
پیشہ ور گداگروں کے اندر ایک خاص صفت یہ پائی جاتی ہےکہ انھیں لوگوں کی جیبوں سےپیسے نکالنااچھے طریقے سے آتاہے۔ ہمیشہ یہ لوگ پھٹے پرانے،پراگندہ کپڑے پہن کرننگے پاؤں گھومتے ہیں تاکہ انھیں دیکھ کر کوئی بھی ترس کھاجائے مزید یہ کہ دردمندی کے بہت سارے جملے زبان پر رٹے ہوئے ہوتے ہیں جیسے والدین، بچے،اور عزیز واقارب کا واسطہ دیکر دعائوں سے نوازناوغیرہ ،جس کی بنا پر ہر سادہ لوح عام آدمی ان کے بہکاوے میں آجاتاہے ۔اکژخواتین گود میں بچہ لیے ہوئے مانگتی ہیں جس کے سبب لوگ رحم دلی کے شکار ہوکرمال نچھاور کر بیٹھتے ہیں۔
آج کے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس گداگری کے پس پردہ بہت سارے سنگین جرائم انجام دیے جاتے ہیں۔بہت سارے افراد اس کی آڑ میں آکر غلط کاموں کا کاروبار چلاتے ہیں۔کچھ گداگر جیب کترے ہوتے ہیں جو بسوں،ٹرینوں،مسافرخانوں اور ازدحام کی جگہوں میں لوگوں کے جیبوں سے سارا پیسہ نکا ل لیتے ہیں، بلکہ سامان تک غائب کردیتے ہیں۔ان گداگروں کا اپنےقریب کے پولیس اسٹیشن سے اچھا ربط وضبط ہوتاہے جس کے سبب اگر یہ رنگوں ہاتھ پکڑے بھی جائیں تو ان کے خلاف کڑی کاروائی نہیں ہوپاتی ہے۔ گداگروں میں اکثر افراد جوا،شراب،بھانگ اور ہر طرح کی منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ان میں کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جو چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغواکر لیتے ہیں پھر انھیں ہر طرح کی برائی اور منشیا ت کا عادی بناتے ہیں اور مارپیٹ کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔گداگر خواتین میں بھی کچھ ایسی ہوتی ہیں جو جیب کاٹنے میں خصوصی مہارت رکھتی ہیں بلکہ صورت حال تو اتنی بد تر ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں اس کے پیچھے جسم فروشی جیسا گھنائونا کام انجام دیا جاتاہے۔
المختصرگداگری ایک ایسی بری لعنت ہے جوانسان کے وقار کو مجروح کردیتی ہےاور اسے ذلت ورسوائی کے سمندر میںغرق کردیتی ہے،اس کے علم وصلاحیت کو مفلوج کرکے ذہنی اور جسمانی اعتبار سے اپاہج کردیتی ہے۔انسان کےدل سے شرم وحیا نکال کراسے اوصاف رذیلہ کا عادی بنا دیتی ہے۔جب کسی انسان کو بھیک مانگنے کی عادت پڑجاتی ہےتو وہ اپنی اولاد ،بیوی،والدین اور رشتے داروں سے بےپرواہ ہوجاتاہے۔مستقبل کے لیے نہ اس کے پاس کو ئی لائحہ عمل ہوتاہےاور نہ اس کی کو ئی فکر ۔چہرے سےرونق ختم ہوجاتی ہےاور چہرہ بدنماہوجاتاہے ۔گندی،ناپاک اور سڑی چیزوں کےاستعمال کرنے کی وجہ سے صحت خراب ہونے لگتی ہےاور زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔یوں سمجھیں کہ گداگری بہت سارے گناہوں کا مجموعے کانام ہے۔ جیسے جھوٹ،چوری،زنا، لواطت،اغوا،نشہ بازی اور بے حیائی کی اشاعت وغیرہ ۔
معاشرے سے اس بری لعنت کو ختم کرنے کی ذمہ داری ہر ایک پر عائد ہوتی پر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی اس کے خلاف بولنا پسند ہی نہیں کرتااور اگر کوئی بولے تو اسے لوگ غریبوں پر ظلم کرنے والا تصور کرتے ہیں۔ہاں! یہ حقیقت ہے کہ مذہب اسلام میں غریبوں ،محتاجوں،بے بسوں،لاچاروں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کا حکم دیاگیا ہےمگر وہیں انسان کو محنت ومشقت کرکے کسب معاش کا بھی مکلف بنا یا گیا ہے،بلکہ محنت کرکے کمانے کو محبوب عمل قرار دیا گیا ہے۔محنت ومشقت کے ذریعہ رزق حلال حاصل کرنا انبیائے کرام ،صحابہ کرام ،اولیائے عظام ،صوفیا ئے عظام اور نیک بندوں کی سنت ہے۔ محنت کرکے کما نادست سوال دراز کرنے سے لاکھ گونا افضل واعلیٰ ہے۔اور مانگنے والا بننے سے بہتر ہے دینے والا بننا۔حدیث پاک ہے:
’’ نبی کریم ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے ،صدقہ کا اور منگنے سے باز رہنے کا ذکر فرما رہے تھے۔آ پ نے فرمایا کہ اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔‘‘
(بخاری شریف،ج:۱،ص:۲۷۴،کتاب الزکوۃ)
اس لعنت کے سد باب کے لیےسب سے پہلے ضروری ہے کہ حکومت اس کے خلاف سخت قانون بنائے تاکہ دھوکا دھڑی کے ذریعہ لوگوں سے پیسہ وصول کرنے والوںکی سخت پکڑ ہوسکے نیز جوحضرات واقعی لاچار ہیں ان کے لیے حکومتی سطح پر مالی امداد کی جائے اور ان کے لیے دوکان ومکان کا انتظام کیا جائے۔اس کے علاوہ دانشوران قوم وملت جلسوں ،سیمینار اور خطبوں میں اس کے خلاف بیان کرکے لوگوں کو اس عادت بد سے متنفر کریں۔کمیٹی،انجمن اور فلاحی تنظیم کے کارکنان اپنے علاقے کادورہ کرکے پتالگائیں کہ اس پیشے سے کتنے لوگوں جڑے ہیںاگر وے واقعی ضرورت مند ہوں تو ان کے لیے اتنی رقم کاانتظام کردیں جس سے وہ الگ پیشہ اختیار کرسکیں یا کسی کے ماتحتی میں کام پر لگادیں۔ہاں اگر دوسرے علاقے سے اس طرح کے لوگ مانگنے آئیں توپہلے اس کامکمل پتہ اور وجہ دریافت کیا جائےاور اگر معاملہ دھوکادھڑی کا ہوتو لوگوں کو اس کے حوالے سے آگاہ کیا جائے، ہوتایہ ہے کہ بڑے بڑے شہروں بلکہ گائوں میں بھی لوگ ان چیزوں کی طرف دھیان نہیںدیتے ہیں، خصوصاعورتیں دریا دل ہوتی ہیںبس جوبھی دروازے پر پہنچ جائے گھر کا سامان لےکر اس کے لیے حاضر ہوجاتی ہیں ،جس کے سبب جعلی سائلوں کواور زیادہ ہمت اور بڑھاوا ملتاہے ساتھ میں حقداروں کی حق تلفی بھی ہو تی ہے۔
ہماراحال یہ ہے کہ ہمارے سامنے کوئی بھی ہاتھ پھیلادے ہم اس کے دامن کو بھر ناچاہتے ہیںجس کے سبب گداگری کی لعنت اور زیادہ زور پکڑتی چلی جارہی ہے۔لوگ اسےکسب معاش کا آسان طریقہ سمجھ بیٹھے ہیںاور اس برائی میں مزید اضافہ ہوتا جارہاہے ۔اس کے سد باب کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم طرح کے مانگنے والوں کے لیے اپنادامن کشادہ کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیں اور اگر ذرابھی اس پر شک ہو تو اسے کچھ نہ دیں ۔ہا ں واقعی کوئی مجبور ہو توکوشش کریںکہ چند لوگ مل کر اس طرح مدد کریں کے جس سے وہ یہ پیشہ ہی ترک کردے اور خود کے قدم پر کھڑا ہوجا ئے اور ہمارا معاشرہ اس بلا سے محفوظ ہوسکے ۔
11/مئ 2021ء بروز منگل
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مزید پڑھیں: کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو ہونے اور … Read more جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ ” الحاد” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا ، راستے سے ہٹ جانا ،الحاد کو انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے جس کا مطلب لا دینیت … Read more نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش بہار میں آج نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئی حکومتی ترتیب کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ این ڈی اے قانون سازیہ پارٹی کی … Read more مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ (جب جاگو تبھی سویرا) تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbhati.blogspot.com آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا تھا تو … Read more راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر شہری کو مساوی حقِ رائے دہی حاصل ہے۔ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول اس نظام کی بنیاد ہے، اور یہی اصول ملک کو کثرت میں وحدت … Read more
کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی
جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ
نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟
راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر
کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More
اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More
25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More
طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More
فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More
جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More