جہیز کا وبال اور شرعی احکام (قسط اوّل)

جہیز کا وبال اور شرعی احکام (قسط اوّل)

رسم جہیز ہمارے سماج کے لیے کسی زخم ناسور سے کم نہیں، آج جہیز کے نام پر ملت کی بے گناہ بیٹیوں کو جس طرح ہراساں کیا جارہا ہے، وہ انسانیت کا بڑا ہی شرمناک پہلو ہے۔ روزانہ صبح صبح آپ جب اخبار کی ورق گردانی کیجیے تو جلی حرفوں میں دل دہلانے دینے والی سرخیاں زینت نگاہ بنتی ہے کہ فلاں جگہ کم جہیز لانے کے جرم میں بدن پر تیل ڈال کر آگ لگادیاگیا تو فلاں مقام پر گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا اور فلاں جگہ جہیزی بھیڑیوں کی ایذارسانی سے تنگ آکر عورت نے خود ہی موت کو گلے لگا لیا وغیرہ وغیرہ ۔ آئے دن ایسے رونگٹے کھڑے کر دینے والے حادثات رونما ہورہے ہیں اوردخترانِ ملت کی نسل کشی کا یہ سلسلہ زور پکڑتا جارہا ہے۔

آج کے ترقی یافتہ انسان جہیز جیسی لعنت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے اپنے ارمانوں کا خون کر رہا ہے۔ انہیں یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ آنے والی بچی کی شادی میں جہیز کے نام پر دولت کا ایک بڑا حصہ ہاتھ سے چلا جائے گا……..“نام نہاد ترقی یافتہ سماج کو یہ کڑوا سچ گلے سے نیچے اتارلینا چاہیے کہ وہ آج بھی عورتوں کی عظمتِ رفتہ کو بحال کرنے میں ناکام اور غیر سنجیدہ ہے۔

یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ شادی جو ایک پاکیزہ رسم ہے ، جس کا مقصد دو اجنبی خاندانوں کے درمیان الفت ومحبت کے رشتے استوار کرنا اور مہذب طریقے سے ایک اجتماعی زندگی کا آغاز کرنا ہے اور حدیث میں جسے بابرکت کہا گیا ہے رسم جہیز نے اس بابرکت کو خانہ بر بادی اور آپسی نفرت وعداوت میں تبدیل کر دیا ہے……“ایک شخص اپنے لاڈلی کو ایک اجنبی کے حوالے یہ سوچ کر یہ کہ دونوں مل کر زندگی کی ایک نئی صبح کا آغاز کریں گے مگر چند سکوں کے بدلے اس کے ارمانوں پر پانی پھیر دینا انسانیت کا کون سا تقاضا ہے ؟؟

آپ اگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ رسم جہیز نے ہمارے سماج میں تباہی و بربادی کے جو دروازے کھولے ہیں ان میں سے ایک کثرت طلاق بھی ہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، یقین جانیے!! آج جہیز کی لالچ میں طلاق دے کر اصولِ اسلام کا کھلا مذاق بھی اڑایا جارہاہے۔ جو انتہائی افسوس ناک ہے۔

اسلام نے کسی ناگزیر حالت میں مرد کو جو طلاق کا اختیار دیا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ جب چاہے اپنے ناجائز مطالبات منوانے کے لیے اس کا استعمال کرے (معاذ اللہ) طلاق اگرچہ اسلام ہی کا بنا یا ہوا قانون ہے مگر پھر بھی وہ اس کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے چنانچہ نبی کریم رؤف ورحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”«اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللَّهِ اَلطَّلَاقُ.» حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ (السنن، ابو داؤد، 2: 370، رقم الحدیث: 2178)

اسی طرح مہر کی زیادتی پہلے سے ہی مصیبتوں کی مار جھیل رہا سماج اب رسم جہیز کی وجہ سے کثرت مہر کی پریشانیوں سے بھی دوچار ہوتا جارہاہے۔ اس لیے کہ جب لڑکے والے جہیز کی خاطر اپنی حمیت وغیرت کا سودا کرنے پر بضد ہوجاتے ہیں تو پھر نکاح کے وقت لڑکی والے کی جانب سے مہر میں ایک خطیر رقم کی فرمائش ہوتی ہے۔ لڑکے والے چوں کہ جہیز کے لیے منہ کھول کر انکار کے مواقع گنوا چکے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں مجبوراً قبول کرنا پڑتا ہے، جو لڑکے کی حیثیت سے کئی گنا زیادہ اور اس کا ادا کرنا لڑکے کے بس سے باہر کی بات ہوتی ہے۔ حالاں کہ نکاح میں اس طرح مہر کی مقدار متعین کرنا جس کا ادا کرنا دولہے کی طاقت سے سوا ہومناسب نہیں ہے لہٰذا لڑکے کی حیثیت سے زیادہ مہر کی تعداد مقرر کرنا درست نہیں ہوسکتا۔

نیز رسم جہیز کی وجہ سے جنسی بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے، اس ترقی پذیر سماج میں رونما ہونے والے جنسی سیلاب میں جہاں مغربی تہذیب کا اہم رول ہے وہیں رسم جہیز کا بھی بہت بڑا دخل ہے……“ اس حقیقت کو بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، یہ رواج معاشرہ میں جنسی بے راہ روی کو فروغ دے کر سماج کی شفاف فضا کس طرح مکدر کررہاہے، ہر خاص و عام پر روشن ہے،

ہمارے سماج کے کچھ غریب افراد شادی کی تیاری اور جہیز کے سامان اکٹھا کرنے کی فکر میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ انہیں اس کا خیال بھی نہیں رہتا کہ ان کی بیٹی حد بلوغ کا آنگن بہت پہلے پھلانگ چکی ہے اور اس کے عہد شباب کا بیشتر اور قیمتی حصہ لاپرواہی اور بے حسی کی نذر ہورہاہے۔ پھر جب ان کی جنسی خواہشات سر ابھارتی ہے تو ان بعض پاکیزگی لٹاکر اپنے دامن عفت کو داغدار کرلیتی ہے۔

اور ان میں بعض وہ ہوتی ہیں جو اپنے نفس پر قابو پاکر دامن صبر کو تو مضبوطی سے تھامے رہتی ہے۔ مگر اپنے والدین کو ذہنی و جسمانی کوفت میں مبتلا دیکھ کر خود کو اس کا قصوروار ٹھہرا لیتی اور اپنے وجود کو والدین کی فکری پریشانی کا سبب سمجھ کر اس بے رحم جہیزی سماج کو الوداع کہہ جاتی ہے-

یوں ہی عورتوں کی حق وراثت سے محرومی سماج میں جہیزکی عام چلن نے لڑکیوں کو اپنے حق وراثت سے بھی محروم کر دیا ہے ، باپ کے ترکہ سے بیٹی کو حصہ نہ دینے کا رواج عام ہوتا جارہاہے اور اس کے بھائی، بہن کی شادی میں ہوئے اخراجات ہی کو اس کا بدل سمجھ کر باپ کے ترکہ میں حصہ دینے سے گریز کرتے ہیں جب کہ شریعت کی رو سے یہ قطعاً درست نہیں‘ اس لیے کہ باپ کے ترکہ میں بیٹی کا حق نص قطعی سے ثابت ہے۔

الحاصل یہ کہ آج ہمارے معاشرے میں جہیز کی وجہ سے جن مصیبتوں میں گرفتار ہوتی جارہی ہے وہ مختلف النوع ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے ہی ضرر رساں پہلوﺅں پر محیط ہے۔ جن کو ہم ان خانوں میں بانٹ سکتے ہیں:(۱)خانہ تباہی (۲)مہر کی زیادتی (۳) کثرت طلاق (۴) شکم مادر میں لڑکیوں کی نسل کشی (۵)جنسی بے راہ روی (۶)لڑکیوں کی کالا بازاری (۷) عورتوں کی حق وراثت سے محرومی۔

——- جاری ——-

از قلم : محمد توصیف رضا قادری علیمی
(بانئ الغزالی اکیڈمی و اعلیٰحضرت مشن، آبادپور تھانہ (پرمانیک ٹولہ)
ضلع کٹیہار بہار، الھند : متعلم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی،بستی۔ یوپی)


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

ماں

ماں کا مقام قرآن وحدیث کی روشنی میں 

   ماں ایک باشعور اور عظیم خاتون ہے- جو بچوں کی زندگی میں باد صبا کی مانند ہے- جو اولاد کے لیے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتی ہے- جو اپنی اولاد کی خاطر اپنی آرزوؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہے،

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: