خالص حفظ و قرأت کے ادارے : اصلاح یا بگاڑ؟

خالص حفظ و قرأت کی درسگاہیں یا بے روزگار بنانے کی فیکٹریاں!

تحریر: احمد رضا صابری
تاریخ: 4 اگست 2025

خالص حفظ و قرأت کی درسگاہیں، آج کے دور میں ایک ایسے فیکٹری کی شکل اختیار کرچکی ہیں جو بظاہر قرآن کے حفاظ پیدا کر رہی ہیں، مگر درحقیقت ان کا نتیجہ معاشرتی طور پر ایک ایسے بےروزگار طبقہ کی پیدائش کی صورت میں نکل رہا ہے، جو نہ دین کا مکمل فہم رکھتا ہے اور نہ دنیا کا۔

🎓 طلبہ کا مستقبل اور نظامِ تعلیم:

ان اداروں میں بچے اپنے ابتدائی قیمتی آٹھ سے دس سال گزار دیتے ہیں۔ صرف قرآن حفظ کرایا جاتا ہے، نہ انہیں درسِ نظامی کے ابتدائی مضامین کی خبر ہوتی ہے، نہ عصری علوم کی۔ اگر آواز اچھی ہو تو نعت خواں بن جاتے ہیں، ورنہ کسی مسجد میں امامت یا مکتب سنبھالنے پر مجبور، اور چندے کی چادر اٹھانے والے بن جاتے ہیں۔

📉 نتائج: ایک سماجی المیہ

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں فارغ التحصیل حفاظ محض تراویح کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی محنت کا صلہ صرف رمضان میں چند روزہ خدمات اور چند ہزار کی ملازمت ہوتا ہے۔ ایسے حافظین، جو نہ جدید تقاضوں سے آشنا ہیں اور نہ دین کے علمی مزاج سے، وہ نہ اپنے لیے نفع بخش بن سکتے ہیں، نہ سماج کے لیے۔

🏗️ مدارس کی عالیشان عمارتیں، مگر…

قوم کے عطیات سے اربوں روپے کی زمین اور عظیم الشان عمارتیں صرف "حفظ” کے نام پر تعمیر کی جاتی ہیں، جبکہ ان اداروں سے فارغ ہونے والے نوجوان فاقہ کشی یا پھر قوم کی طرف حسرت سے دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر پردہ ڈالنا اب ممکن نہیں رہا۔


✅ کیا ہونا چاہیے؟ اصلاح کی تجاویز

  1. حفظ کے ساتھ مکمل دینی و عصری تعلیم:
    حفظ کے ساتھ ساتھ نصاب میں فقہ، حدیث، عربی، انگلش، کمپیوٹر، اور دیگر اہم عصری مضامین شامل کیے جائیں۔

  2. طلباء کی ذہانت کی بنیاد پر انتخاب:
    جو بچے تیز ذہن رکھتے ہیں، وہ دو تین سال میں حفظ مکمل کر سکتے ہیں۔ باقی بچوں کو زبردستی حافظ بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

  3. حفظ کا ایک شعبہ ہو، مکمل ادارہ نہیں:
    مکمل ادارے صرف حفظ پر نہ چلائے جائیں بلکہ درس نظامی یا عصری تعلیم کے ساتھ ایک مختصر "شعبۂ حفظ” بنایا جائے۔

  4. ذہنی و معاشی مستقبل پر غور:
    طلباء کی تربیت اس طرح ہو کہ وہ مستقبل میں خودکفیل ہوں، صرف امامت یا تراویح کے محتاج نہ رہیں۔


🤲 ایک سنجیدہ سوال: کیا یہ دین کی خدمت ہے؟

یہ سوال آج ہر ذی شعور مسلمان کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ

کیا ایک ایسا حافظ قرآن جو نہ دین کے دوسرے علوم سے آشنا ہو، نہ دنیا سے، واقعی امت کا فخر بن سکتا ہے؟
کیا یہ حفظ واقعی فخر ہے یا سماج پر ایک نادیدہ بوجھ؟


نتیجہ:

حافظ قرآن ہونا بلا شبہ شرف ہے، مگر جب وہ دین کے دیگر علوم، فہم، بصیرت اور زمانے کی ضرورتوں سے عاری ہو، تو وہ شرف نہیں بلکہ ایک خالی لقب رہ جاتا ہے۔
اب وقت آچکا ہے کہ ہم قوم، مدارس اور اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو سنجیدگی سے لیں اور دینی اداروں میں حقیقی اصلاح کی بنیاد رکھیں۔

شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

alrazanetwork

Recent Posts

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More

2 ہفتے ago

اے شہر امن پھر آئیں گے !! – مکہ مکرمہ کی زیارت اور روحانی تجربات | غلام مصطفی نعیمی ہاشمی

 اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More

2 ہفتے ago

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More

3 ہفتے ago

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More

4 ہفتے ago

10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے

فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More

4 ہفتے ago

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More

1 مہینہ ago