مودی کا یوم آزادی خطاب 2025 : آر ایس ایس کی تعریف اور گھس پیٹھیوں کا پروپیگنڈا – مسلمانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

مودی کا یوم آزادی خطاب 2025: آر ایس ایس کی تعریف اور گھس پیٹھیوں کا پروپیگنڈا – مسلمانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

تعارف

مودی کا یوم آزادی خطاب 2025 : آج 15 اگست 2025 کو بھارت کے یوم آزادی کی تقریب میں لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے دو اہم باتیں کہیں جو ملک کے مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم اور فکر انگیز ہیں۔ ایک طرف انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی جم کر تعریف کی اور اسے ملک کا فخر قرار دیا، جبکہ دوسری طرف "گھس پیٹھیوں” (infiltrators) کے مسئلے پر اشتعال انگیز بیان دیا۔ یہ بیانات نہ صرف موجودہ پالیسیوں کا عکس ہیں بلکہ مستقبل میں مسلمانوں کو درپیش خطرات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان بیانات کا تجزیہ کریں گے، تاریخی حوالوں سے مزین کریں گے، اور بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور آئندہ چیلنجز پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ وقت ہے کہ مسلمان اتحاد اور جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق کی حفاظت کریں۔

مودی کا خطاب: آر ایس ایس کی تعریف اور اس کے تاریخی پس منظر

نریندر مودی نے لال قلعہ سے آر ایس ایس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم ملک کی خدمت میں مصروف ہے اور اسے فخر کا مقام حاصل ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب مودی نے 2014 سے اقتدار سنبھالنے کے بعد لال قلعہ جیسی قومی تقریب سے آر ایس ایس کا نام لے کر اس کی ستائش کی۔ آر ایس ایس، جو 1925 میں کیسو با ہڈگیوار نے قائم کی تھی، ہندوتوا کی بنیاد پر قائم ایک نیم فوجی تنظیم ہے جو ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔

تاریخی حوالے آر ایس ایس کے

  • قیام اور ابتدائی دور: آر ایس ایس کا قیام مسلمانوں اور برطانوی حکمرانی کے خلاف ردعمل کے طور پر ہوا۔ اس کے بانی ہڈگیوار نے مسلمانوں کو "داخلی دشمن” قرار دیا، جو ہندوستان کی تقسیم کے وقت فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث رہے۔
  • گاندھی قتل میں کردار: 1948 میں مہاتما گاندھی کا قتل آر ایس ایس سے وابستہ ناتھو رام گوڈسے نے کیا، جس کی وجہ سے آر ایس ایس پر پابندی لگی۔ یہ تنظیم ہمیشہ سے فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے میں ملوث رہی ہے۔
  • بابری مسجد انہدام: 1992 میں آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی اور وی ایچ پی نے بابری مسجد کو شہید کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ ہندوتوا کی سیاست کا سنگ میل ہے۔
  • گجرات فسادات 2002: مودی کی چیف منسٹری میں گجرات میں مسلمانوں کے خلاف منظم قتل عام ہوا، جس میں 2000 سے زائد مسلمان ہلاک ہوئے۔ آر ایس ایس کے کارکن اس میں فعال تھے۔

یہ تعریف آئندہ میں آر ایس ایس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا اعلان ہے، جو مسلمانوں کے لیے خطرناک ہے کیونکہ یہ تنظیم مسلمانوں کو "غیر ملکی” اور "دشمن” سمجھتی ہے۔

گھس پیٹھیوں کا پروپیگنڈا: مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی

مودی نے خطاب میں کہا کہ ملک کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور گھس پیٹھیے قبائلی علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ یہ "گھس پیٹھیے” کا لفظ اکثر مسلمانوں، خاص طور پر بنگلہ دیشی اور روہنگیا مہاجرین کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو ہندوتوا کی سیاست میں مسلمانوں کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر انہیں نشانہ بنانے کا ہتھیار ہے۔

بھارت میں مسلمانوں پر مظالم: تاریخی اور موجودہ مثالیں

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی تاریخ لمبی ہے، جو تقسیم ہند (1947) سے شروع ہوئی جب لاکھوں مسلمان ہلاک ہوئے۔ موجودہ دور میں بی جے پی کی حکومت نے اسے ادارہ جاتی شکل دی ہے:

  • لنچنگ اور موب وائلنس: 2014 سے اب تک ہزاروں مسلمان گائے کے گوشت کے الزام میں ہلاک کیے گئے۔ 2017 میں جھارکھنڈ میں ایک مسلمان کو زندہ جلا دیا گیا۔
  • بلڈوزر جسٹس: اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں، جیسے 2022 میں دہلی میں جہاں پورا محلہ مسمار کیا گیا۔
  • سی اے اے اور این آر سی: 2019 کا شہریت ترمیمی قانون مسلمانوں کو خارج کرتا ہے، جس کے خلاف احتجاج میں 50 سے زائد ہلاک ہوئے۔ دہلی فسادات 2020 میں 53 مسلمان مارے گئے۔
  • لو جیہاد قوانین: کئی ریاستوں میں مسلمان مردوں کو ہندو خواتین سے شادی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے، جو نسلی صفائی کی کوشش ہے۔
  • مدارس ومساجد :آسام، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اترا کھنڈ، چھتیس گڑھ وغیرہ دیگر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مدارس و مساجد کو غیر قانونی بتا کر گھنٹوں میں بلڈوز کردیا جارہاہے۔

یہ مظالم آر ایس ایس کی ہندوتوا ایدلوجی کا نتیجہ ہیں، جو مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مستقبل میں درپیش خطرات: ایک وارننگ

مودی کا خطاب آئندہ پالیسی کا بیانیہ ہے۔ اگر یہ جاری رہا تو:

  • ملک گیر این آر سی: مسلمانوں کو شہریت ثابت کرنے پر مجبور کیا جائے گا، جو لاکھوں کو بے وطن بنا سکتا ہے۔
  • بڑھتے ہوئے فسادات: آر ایس ایس کی طاقت سے فرقہ وارانہ تشدد بڑھے گا، جیسے 2023 -2024میں ہریانہ ، دہلی اور منی پور میں دیکھا گیا۔
  • معاشی اور سماجی بائیکاٹ: مسلمان کاروباروں کا بائیکاٹ اور نوکریوں سے انکار عام ہو جائے گا۔

ایک دن لال قلعہ سے اعلان ہو سکتا ہے کہ تمام "گھس پیٹھیے” کو نکال دیا گیا یا غلام بنا لیا گیا۔

نتیجہ: بیداری اور اتحاد کا وقت

مسلمان اگر جشن آزادی کے دھوکے میں رہے تو اصل غلامی کا سامنا کریں گے۔ یہ وقت ہے ڈر اور احساس کمتری کو چھوڑ کر نظریاتی اور ایمانی طاقت سے میدان عمل میں اترنے کا۔ متحد جدوجہد سے تاریخ محفوظ ہو گی اور شہریت بچے گی۔ مسلمانوں کو منظم ہو کر اپنے حقوق کی لڑائی لڑنی چاہیے، ورنہ ہندوتوا کی لہر سب کچھ بہا لے جائے گی۔

نریندر مودی لاقلعہ 2025

یہ مضمون مسلمانوں کی آواز اٹھانے اور شعور بیدار کرنے کے لیے ہے۔ شیئر کریں اور بحث کریں۔
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

alrazanetwork

Recent Posts

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More

2 ہفتے ago

اے شہر امن پھر آئیں گے !! – مکہ مکرمہ کی زیارت اور روحانی تجربات | غلام مصطفی نعیمی ہاشمی

 اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More

2 ہفتے ago

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More

3 ہفتے ago

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More

4 ہفتے ago

10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے

فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More

4 ہفتے ago

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More

1 مہینہ ago