عرب سرزمین پر امریکی جنگی طیارہ؛ پس منظر میں اسلامی پرچم اور احتجاج
✍️ غلام ربانی شرف نظامی، اٹالہ الہ آباد
عرب ممالک کے امریکی اڈے:
الحمد للہ! ہم اس امتِ مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں ربِ کریم نے فرمایا: "خیر امۃ أخرجت للناس” — جو لوگوں کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی۔ یہ امت وہ ہے جس نے ظلم کے سامنے کلمۂ حق کہنے سے کبھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ مگر افسوس! آج اس امت کی زبانیں بند، آنکھیں جھکی اور گردنیں اغیار کے سامنے خمیدہ ہو چکی ہیں۔ جن عربوں کی رگوں میں بلالؓ، عمرؓ، خالدؓ اور صلاح الدینؒ کا خون دوڑتا تھا، آج انہی کی زمینوں پر امریکہ اپنے جنگی ساز و سامان سمیت قدم جمائے بیٹھا ہے۔
عرب حکمران دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکی افواج کو "تحفظ” کے لیے بلایا ہے، تاکہ ایران سے بچاؤ ہو، تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو۔ لیکن سوال یہ ہے:
اگر یہ تحفظ ہے تو پھر عراق کی اینٹ سے اینٹ کس نے بجائی؟
یمن کے بچوں پر بمباری کہاں سے کی گئی؟
غزہ کے نہتے مظلوموں پر آتش و آہن کس کی سرزمین سے برسا؟
شام کی اینٹیں کس نے بکھیریں؟
لیبیا کو کس نے تقسیم کیا؟
افغانستان میں چالیس سالہ تباہی کا بنیادی سہولت کار کون تھا؟
ان تمام مظالم کی بنیاد وہی عرب زمینیں بنیں جن پر اللہ کی توحید کا پرچم لہرایا جانا چاہیے تھا۔
قطر کا العديد اڈہ، امارات کا الظفرہ، بحرین، کویت — یہ سب امریکی استعمار کے اڈے بن چکے ہیں۔ جو زمینیں اللہ کے نبی ﷺ کے دین کی خدمت کے لیے مخصوص تھیں، آج انہی زمینوں پر کفر کے پرچم لہرا رہے ہیں، اور یہ سب کچھ مقامی حکمرانوں کی مرضی و حمایت سے ہو رہا ہے۔
جب کوئی غیر ملکی فوج آپ کی زمین پر اڈہ بنائے،
جب آپ کی سرزمین سے آپ کے ہی دینی بھائیوں پر بم برسائے جائیں،
جب آپ اغیار کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں اور امت کا لہو میز پر رکھ دیں —
تو یہ معاہدۂ تحفظ نہیں، بلکہ ذلت و غلامی کی دستاویز ہے۔
کیا یہ غلامی نہیں کہ امتِ مسلمہ کے قاتل، اسلام دشمن طاقتیں آپ کی سرزمین سے ہی مسلم بستیوں کو برباد کریں، اور آپ خاموشی سے تماشا دیکھیں؟
کیا یہ خیانت نہیں کہ فلسطین کے بچوں پر گرتے میزائل کسی یورپی یا امریکی اڈے سے نہیں بلکہ عرب دنیا کے ایئر بیسز سے پرواز کریں؟
قرآن کریم اس سوچنے والے کے لیے صدا دیتا ہے:
"اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْـٴًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ”
(سورہ آل عمران: 177)
ترجمہ کنز الایمان: "وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا، اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔”
عرب حکمرانوں کو اللہ، اس کے رسول ﷺ، مدینہ کی پاک سرزمین اور کعبہ کے سائے میں دی جانے والی اذانوں کا واسطہ!
اب جاگو!
کب تک امت کے لہو کا سودا کرتے رہو گے؟
کب تک امت کے مظلوموں کو امریکہ اور اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑتے رہو گے؟
کب تک تمہارے محلات کے نیچے امت کی قبریں کھودی جاتی رہیں گی؟
اب وقت ہے کہ ہم صرف بیان و تقریر پر اکتفا نہ کریں، بلکہ امت کے نوجوانوں کو بیدار کریں، خطبوں اور دروس میں حق بات بےخوفی سے کہیں، عوامی دباؤ بڑھائیں، اور مسلم دنیا میں امریکی اڈوں کے خلاف تحریکی مزاحمت کو جنم دیں۔
یاد رکھو!
جب امریکہ کا ہر میزائل کسی عرب ایئر بیس سے اڑتا ہے،
تو وہ فلسطین کے بچوں کی چیخوں پر نہیں،
مسلمان حکمرانوں کی خاموشی پر پرواز کرتا ہے!
اور یاد رکھو!
اسلام صرف نمازوں سے نہیں بچتا،
اسلام میدانِ عمل سے بچتا ہے!
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک
از: علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان ڈیجیٹل کاپی کی اشاعت: الرضا نیٹ ورک بریلوی دور… Read More
مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بنگال میں ایس آئی آر : نشانے پر مسلمان! محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More
بے میل شادیاں! ___اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں… Read More
الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 Read More
اسلام اور تلوار کا بیانیہ: حقیقت یا مفروضہ شمس آغاز ایڈیٹر ،دی کوریج 9716518126 shamsaghazrs@gmail.com… Read More