مطالعہ کے دوران تحقیق شروع کی۔
گراموفون کے بانی توصیف خان کے مطابق انہوں نے پڑھائی کے دوران ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ انہیں زراعت کے شعبے میں کچھ کرنا ہے۔ حالانکہ اس وقت وہ واضح نہیں تھے کہ کیا کریں۔ ہاں اس سمت میں تحقیق شروع ہو چکی تھی۔ توصیف اور اس کے دوست کسانوں سے بات چیت کرتے تھے۔
اس طرح ‘گراموفن’ کا آغاز ہوا۔
توصیف کے مطابق اس نے سال 2016 میں اندور میں دفتر قائم کیا۔ اس دوران نشانت وتس، ہرشیت گپتا، آشیش سنگھ ان کے ساتھ جڑے۔ دھیرے دھیرے 50 افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی۔ گاؤں بھر میں زراعت سے متعلق مکمل تحقیق کرنے کے بعد چاروں دوستوں نے مل کر سٹارٹ اپ شروع کیا اور اس کا نام گراموفون رکھا۔
کسانوں کو اسٹارٹ اپ سے فائدہ ہوتا ہے۔
کسانوں کو اسٹارٹ اپ سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں اگر فصل میں کوئی بیماری ہو تو اس پر کتنی کیڑے مار دوا یا کھاد ڈالی جائے۔ اس کے علاوہ دیگر معلومات بھی فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کال سینٹر بھی قائم کیا گیا۔
6 لاکھ سے اسٹارٹ اپ شروع کیا۔
توصیف کا کہنا ہے کہ تین سالوں میں 6 لاکھ روپے سے شروع ہونے والا یہ اسٹارٹ اپ 100 کروڑ کا ہندسہ عبور کرچکا ہے۔ اب تک 2.50 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو اس کا فائدہ مل چکا ہے۔ دوسری جانب روزانہ تقریباً 3 ہزار کاشتکار مختلف مسائل کے حل کے لیے رابطہ کرتے ہیں، اسمارٹ فون استعمال نہ کرنے والے کسانوں کو بنیادی فون سے مس کال دے کر بھی حل دینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
سب سے پہلے ہندی نیوز 18 ہندی میں بریکنگ نیوز پڑھیں | آج کی تازہ ترین خبریں، لائیو نیوز اپ ڈیٹس، سب سے معتبر ہندی نیوز ویب سائٹ نیوز 18 ہندی پڑھیں۔
ٹیگز: ابتدائی خیالات، کامیابی کے قصے
پہلی اشاعت: 14 نومبر 2019، 11:30 IST
بھارت میں عوامی نمائندگی، ارکانِ پارلیمنٹ کی کارکردگی، MPLADS فنڈ کے استعمال، وزیراعظم نریندر مودی… Read More
*امت کی مجموعی ترقی کا لائحۂ عمل: مفتی قیام الدین قاسمی *تبصرہ: محمد رافع ندوی*… Read More
ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے غیرملکی قرض اور… Read More
رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ایک عہد ساز شخصیت ✒️ شمس الزماں خان… Read More
شیرِ بہار سلسلۂ رضویہ کے نیرِ تاباں ✍️ شمس الزماں خان صابری کچھ شخصیات ایسی… Read More