آفتاب علم و معرفت شہزادۂ مجدداعظم حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے اکتالیسویں امام وشیخ طریقت ہیں،آپ کے فضائل و مناقب بے شمار صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں جس کا انحصار بیان تحریر سے باہر ہے۔ بالاختصار چند مشائخ کے اقوال سے آپ کے فضائل کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
حضرت صدرالافاضل نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ:
حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری میاں علیہ الرحمہ کا بیان ہے کہ میں نے سناکہ حضرت افضل سے جب کوئی مسئلہ پوچھتا کہ حضرت اس مسئلہ میں آپ کا کیا خیال ہے،وہ اپنی رائے بتاتے،پھر کوئی کہتا حضرت مفتی اعظم ہند تو یہ فرماتے ہیں تو کہتے بس بس،جو مفتی اعظم فرماتے ہیں وہی حق و صحیح ہے۔ (سال نامہ تجلیات رضا، ص: ۱۱)
گل گلزار اشرفیت حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ:
حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی نے ممبئی میں فرمایا تھا کہ آج کل دنیا میں جن کا فتویٰ سے بڑھ کر تقویٰ ہے ایک شخصیت "مجدد مأۃ حاضرہ”کے فرزند دل بند کا پیارانام مصطفےٰ رضا ہے جو بے ساختہ زبان پر آتا ہے اور زبان بے شمار برکتیں لیتی ہے۔ (تذکرہ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ ص:۵۰٣)
حضرت مفتی عبدالرشید صاحب فتح پوری علیہ الرحمہ:
حضرت مولانا مفتی غلام محمد خان صاحب سابق شیخ الحدیث جامعہ امجدیہ ناگ پور ۱۹۵۳ء سے پہلے کسی سے مرید نہیں ہوئے تھے۔ کسی بھی سلسلے میں وابستہ ہونے کے لیے بے چین تھے۔ آخر کار ایک دن ہندوستان کے مشہور عالم حضرت علامہ مفتی عبدالرشید صاحب سے دریافت فرمایا کہ حضور! مرید ہونے کے لیے بے چین ہوں کس سے مرید ہونا چاہیے؟تو حضرت نے ارشاد فرمایا: مولانا! اب کہاں ایسے لوگ رہ گئے ہیں جو شریعت و طریقت میں کامل ہوں سواے مفتی اعظم ہند کے ۔ (ماہنامہ استقامت کا مفتی اعظم ہند نمبر،ص:۵۵۸/۵۵۷)
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ:
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اپنے شہر میں کسی کو عزت و مقبولیت نہیں ملتی لیکن حضور مفتی اعظم ہند کو اپنے دیار میں جو عزت و مقبولیت حاصل ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ یہ ان کی کرامت و ولایت کی کھلی دلیل ہے ۔ نیز فرماتے ہیں کہ حضورمفتی اعظم ہند شہنشاہ ہیں شہنشاہ یعنی حضرت کے ساتھ شہنشاہ کا سابرتاؤ کرنا چاہیے۔ (ایضاً، ص:۵۵۸)
حضور مجاہد ملت:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے فرمایا: اس دور میں ان کی (حضورمفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ)ہستی فقید المثال ہے۔ خصوصیت کے ساتھ باب افتا میں بلکہ روز مرہ کی گفتگو میں جس قدر محتاط اور موزوں الفاظ اور قیود ارشاد فرماتے ہیں، اہل علم ہی ان کی منزل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ (تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ،ص:۵۰۵)
غزالی دوراں علامہ سعید احمد کاظمی:
سیدی مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم العالیہ کی شان اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ حضرت ممدوح امام اہل سنت مجد د دین و ملت مولانا احمد رضاخان بریلوی کے لخت جگر اور صحیح جانشیں ہونے کے ساتھ ’’الولد سر لابيه“ کے سچے مصداق ہیں ۔ (تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ،ص:۵۰۵)
خلیفہ اعلی حضرت حضور شاہ ضیاء الدین احمد مدنی:
مفتی اعظم ہند،مفتی اعظم ہیں،اعلی حضرت ہیں،وہ درجۂ صدیقیت پر فائز ہیں۔(ایضاً،ص:۵۰۶)
سرکار کلاں سید مختار اشرف الجیلانی علیہ الرحمہ:
نیرۂ حضور اشرفی میاں سید مختار اشرف اشرفی الجیلانی تحریر فرماتے ہیں:حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ بلا شبہ انہیں اکابر میں سے تھے جو دین و سنیت کو فروغ دینے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت کی پوری زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈا لیے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ خلوص وللّٰہیت ان کی شخصیت کا ٹریڈ مارک تھا۔ ان کا کوئی قول یا عمل میری نگاہ میں ایسا نہیں ہے جو خلوص وللّٰہیت سے عاری ہو۔ وہ اگر ایک طرف متبحر عالم، مستند و معتبر فقیہ مختلف علوم وفنون کے ماہر اور شعر و ادب کے مزاج آشنا تھے تو دوسری جانب عبادت وریاضت،مکاشفه،مجاہدہ اور اسرار باطنی کے بھی محرم تھے اور ہر میدان میں ان کی خلوص وللّٰہیت کی جلوہ گری نمایاں طور پر دکھائی دیتی تھی۔ وہ ایک ایسی شمع تھے جس کے گرد لاکھوں پروانے اکتساب فیض نور کی خاطر زندگیوں کو داؤ پر چڑھائے رہتے تھے۔ میرے گھرانے کے بزرگوں سے ان کے دیرینہ و گہرے تعلقات تھے اس پس منظر میں مجھے ان کا قرب خاص حاصل تھا۔ (مفتی اعظم ہند نمیر ماہنامہ استقامت،ص:۳۴)
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔ الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیےیہاں پر کلک کریں الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیےیہاں کلک کریں