مفتی اعظم ہند میراثِ رضا کے روشن چراغ

مفتی اعظم ہند میراثِ رضا کے روشن چراغ

مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفیٰ رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ ایک آفتابِ علم و عرفان تھے جن کی علمی روشنی نے بیسویں صدی کے افق کو منور کر دیا آپ نہ صرف فقہِ حنفی کے زبردست فقیہ تھے بلکہ علومِ تفسیر ، حدیث ، عقائد ، منطق اور فلسفہ میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ آپ کے فتاویٰ میں استدلال کی قوت ، دلائل کا جلال اور زبان کا کمال ایسا تھا کہ بڑے بڑے علما ورطہ حیرت میں پڑ جاتے برصغیر کے گوشے گوشے سے فتوے آپ کی بارگاہ میں بھیجے جاتے اور ہر ایک کو تسلی بخش شریعت کے مطابق راہنمائی نصیب ہوتی آپ کی تحریروں میں علم کی گہرائی اور بصیرت کی روشنی کے ساتھ ساتھ ادب کا وقار اور اہلِ سنت کی متانت بھی نمایاں ہوتی تھی ۔

اگر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک معیارِ حق ہے تو حضرت مفتیِ اعظم ہند اس کے سب سے روشن مینار تھے ۔ آپ کی ذات سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ رسول کی محبت کا پیکر تھی خطبہ ہو یا فتویٰ ، تقریر ہو یا تحریر ہر لفظ میں درود و سلام کی خوشبو بسی ہوتی ۔ جب آپ ذکرِ امام حسین رضی اللہ عنــہ فرماتے تو آنکھیں اشکبار اور دل تڑپتا ہوا محسوس ہوتا آپ کا عشق آلِ رسول سے محض جذباتی نہیں بلکہ علمی و روحانی بنیاد پر استوار تھا جس کی جھلک آپ کے رسائل و فتاویٰ میں جابجا دکھائی دیتی ہے ۔ آپ نے قوم کو بار بار اہلِ بیت کی عظمت کا درس دیا اور دینِ مصطفیٰ کی اصل روح سے روشناس کرایا ـــــ

حضرت مفتیِ اعظم ہند کا زہد و تقویٰ آپ کی زندگی کا ایسا روشن باب ہے جو ہر عارف و فقیہ کے لیے مشعلِ راہ ہے ، آپ کا چہرہ تجلّیِ طہارت کا آئینہ اور آپ کی زبان حق و صداقت کی ترجمان تھی دنیا کی رنگینیوں سے بے نیاز سادگی میں زندگی بسر کرنا عبادات میں اخلاص اور شب بیداری آپ کا معمول تھا ــ آپ نے نہ صرف شریعت کے ظاہری پہلو کو مضبوطی سے تھاما بلکہ باطنی صفائی اور روحانی بالیدگی کا بھی درس دیا ۔ آپ کی زندگی ایک فقیہ ، ایک عاشقِ رسول اور ایک سچے صوفی کا حسین امتزاج تھی ۔ بلا شبہ ، آپ امـتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسی ہستی تھے جن کی یاد علم عشق اور تقویٰ کا استعارہ بن چکی ہے آپ نے 14 محرم الحرام کو اس دار فانی کو الوادع کہا ، آپ کی نماز جنــازہ مختار المشائخ سیدنا مختار اشرف اشرفی جیلانی المعروف سرکار کلاں علیہ الرحمہ نے پڑھائی آپ کا مزار مبارک اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے مزار مبارک کے بازو میں ہے ــــ

شمس الزماں خان صابری
” سنی سنٹر ناگپور ”
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک

alrazanetwork

Recent Posts

ارکانِ پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اور مودی کی شاہ خرچی

بھارت میں عوامی نمائندگی، ارکانِ پارلیمنٹ کی کارکردگی، MPLADS فنڈ کے استعمال، وزیراعظم نریندر مودی… Read More

8 گھنٹے ago

امت کی مجموعی ترقی کا لائحۂ عمل — مفتی قیام الدین قاسمی | تبصرہ

*امت کی مجموعی ترقی کا لائحۂ عمل: مفتی قیام الدین قاسمی *تبصرہ: محمد رافع ندوی*… Read More

2 دن ago

ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار!

ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے غیرملکی قرض اور… Read More

7 دن ago

رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ایک عہد ساز شخصیت

رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ایک عہد ساز شخصیت  ✒️ شمس الزماں خان… Read More

1 مہینہ ago

شیرِ بہار سلسلۂ رضویہ کے نیرِ تاباں

شیرِ بہار سلسلۂ رضویہ کے نیرِ تاباں ✍️ شمس الزماں خان صابری کچھ شخصیات ایسی… Read More

1 مہینہ ago