/gaza-genocide-israel-war-silence-of-world
تحریر: [احمدرضا صابری]
تاریخ: 12 مئی 2025
زمرہ: عالمی سیاست، فلسطین، انسانی حقوق
غزہ، جہاں زمین تنگ اور آبادی گھنی ہے، آج ایک کھلی جیل سے بڑھ کر ایک اجتماعی قبریستان میں بدل چکا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ اس ظلم پر اقوامِ عالم کی خاموشی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تاریخ مانگے گی۔
"نسل کشی” کا مطلب ایک قوم یا نسل کو مکمل طور پر ختم کرنے کی منظم کوشش ہے۔ آج غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی تعریف کے عین مطابق ہے:
ہسپتالوں پر بمباری
خوراک اور پانی کی ترسیل کا خاتمہ
بچوں اور معصوم شہریوں کا منظم قتل
میڈیا اور انسانی حقوق کی آوازوں کا گلا گھونٹناغزہ میں جاری نسل کشی کا ممکنہ اعدادو شمار:
غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ایک المیہ بن چکا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 12 مئی 2025 تک، غزہ میں کم از کم 52,862 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 119,648 سے تجاوز کر گئی ہے ۔Anadolu Ajansı+1Yeni Şafak+1
تاہم، غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس کے مطابق، ہلاکتوں کی اصل تعداد 61,700 سے زائد ہو سکتی ہے، کیونکہ ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ان کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔Al Jazeera
ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے 46% سے 107% زیادہ ہو سکتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اصل تعداد 109,000 تک پہنچ سکتی ہے ۔Al Mayadeen English
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق، 4 مئی 2025 تک، غزہ میں 52,535 افراد شہید ہوئے ہیں، جن میں سے 70% خواتین اور بچے ہیں ۔
اس کے علاوہ، غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں 1.5 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہیں، اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے قحط کے خطرے کی وارننگ جاری کی ہے ۔
یہ اعداد و شمار غزہ میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں اور عالمی برادری کی فوری مداخلت کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
یہ تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، عرب لیگ اور دیگر عالمی ادارے یا تو مکمل خاموش ہیں یا صرف تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جو متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کئی ممالک نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے میں اضافہ کیا ہے، جو جنگ کو مزید ہولناک بنا رہا ہے۔
متعلقہ مضمون:
🔗 فلسطین کا مقدمہ: تاریخ، سیاست اور مزاحمت
بین الاقوامی میڈیا میں غزہ کی تباہی کو اکثر "دونوں فریقوں کا تنازع” قرار دیا جاتا ہے، جس سے مظلوم اور ظالم میں فرق مٹ جاتا ہے۔ تاہم، آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، جہاں زمینی حقائق براہِ راست دنیا کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔
جہاں دنیا خاموش ہے، وہیں فلسطینی عورتیں اور بچے ظلم کے خلاف علامتِ مزاحمت بن کر ابھرے ہیں۔ غزہ میں ہر بچہ ایک زندہ شہادت ہے جو انسانیت کی بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے۔
متعلقہ مضمون:
🔗 فلسطینی خواتین: جنگ کے دوران استقامت کی مثال
سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلائیں
بائیکاٹ، ڈس انویسٹمنٹ اور پابندیوں (BDS) کی حمایت کریں
انسانی حقوق کی تنظیموں کو عطیات دیں
اپنے ملک کے نمائندوں کو احتجاجی خطوط لکھیں
اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی، تو کل تاریخ ہم سے سوال کرے گی کہ جب انسانیت مر رہی تھی، ہم کہاں تھے؟ ہمیں چاہیے کہ ہم ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ یہی انسانیت کی اصل پہچان ہے۔
کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More
اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More
25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More
طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More
فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More
جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More