حیدرآباد شہر میں بڑھتے جرائم اور اخلاقی بگاڑ پر تشویش
از: سرفراز احمد قاسمی، حیدرآباد
نوابوں اور نظاموں کا شہر حیدرآباد کبھی تہذیب و شائستگی، ہمدردی، علمی برتری اور آپسی رواداری کے لیے پورے عالم میں منفرد شناخت رکھتا تھا۔ آج حیدرآباد میں جرائم کی خبریں اخبارات اور سوشل میڈیا پر روزانہ سامنے آ رہی ہیں۔ گنگا جمنی تہذیب کا یہ شہر اب قتل و غارت گری، چوری، رہزنی اور سائبر فراڈ جیسے واقعات کی وجہ سے تشویش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
قتل کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، راہ چلتے لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے اور خواتین کے لیے آٹو میں سفر خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ سائبر جرائم میں لالچ دے کر لوگوں کی جمع پونجی لوٹی جا رہی ہے۔ ناجائز تعلقات کے لیے قتل، رشتہ ٹھکرانے پر جان لینے اور محبت میں ناکامی پر حملوں جیسے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔ مسلم نوجوان بھی کئی برائیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
سود کو بھی بہت سے لوگ اب برا نہیں سمجھتے اور اسے حق سمجھ کر کاروبار کر رہے ہیں۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ہی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق گانجہ، گانجہ چاکلیٹ، ایم ڈی ایم اے، کوکین، چرس، ہیروئن، نشیلے انجکشن اور گولیاں شہر میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ میڈیکل دکانوں، پان شاپس اور گلی کوچوں تک میں نشہ آور اشیاء کی فروخت کی اطلاعات ہیں۔ 18 سال سے کم عمر لڑکے بھی اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔
حکومت ریاست کو نشہ سے پاک بنانے کا عزم ظاہر کر چکی ہے۔ پولیس، ایکسائز، ڈرگ کنٹرول، میڈیکل ڈپارٹمنٹ اور نو تشکیل شدہ حیدرآباد نارکوٹک انفورسمنٹ ونگ سرگرم ہیں، مگر نتائج توقع کے برعکس ہیں۔ پہلے منشیات فروشی میں زیادہ تر بیرونی افریقی ممالک کے باشندے پکڑے جاتے تھے، اب شہر کے روڈی شیٹرس اور گینگ لیڈرس بھی اس کاروبار میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نشے کے زیر اثر معمولی بات پر قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
حال ہی میں سی سی ایس کی خصوصی ٹیم نے مانگر بستی (افضل ساگر) میں نشیلی گولیوں کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی فورس اور سرکاری عزائم کے باوجود روک تھام میں مسلسل ناکامی کیوں ہو رہی ہے؟ کیا متعلقہ عہدیداروں کو آزادانہ کام کی چھوٹ حاصل ہے؟ شہری حکومت اور پولیس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ نشے کی جڑیں کاٹی جائیں اور شہر کو بچایا جائے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق حیدرآباد کے آئی ٹی کوریڈور (ہائی ٹیک سٹی، گچی باؤلی، کوکٹ پلی) میں ‘کو لیونگ’ کلچر کی آڑ میں لیوان ریلیشن شپ پھیل رہی ہے:
جم، کچن اور گیمنگ زون جیسی سہولتوں کے ساتھ یہ ماحول نوجوانوں کو خاندانی نگرانی سے آزاد کر دیتا ہے۔ بہت سے نوجوان والدین کو بتائے بغیر دوہری زندگی گزار رہے ہیں۔ رپورٹس میں نجی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ، شادی سے انکار اور بعض شادی شدہ افراد کے ازدواجی تعلقات بگڑنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ والدین کو بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی اور انتظامیہ کو ایسے ہاسٹلس کے ضابطوں پر توجہ دینی ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق تلنگانہ میں ہر ماہ 50 سے زائد بین مذہبی شادیاں اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت رجسٹر ہو رہی ہیں۔ جولائی کے اوائل سے اب تک 150 سے زائد مسلم نوجوانوں (لڑکوں اور لڑکیوں) کی غیر مسلم ساتھیوں سے شادی کی اطلاعات ہیں۔ والدین کو خبر نہ ہو، اس لیے نوجوان سب رجسٹرار کے دفاتر کا انتخاب کر رہے ہیں۔
اس رجحان کے اسباب میں مخلوط ماحول، جہیز، مہنگی شادیاں، بڑھتی بے دینی اور اصلاحی کوششوں کی کمی بتائے جاتے ہیں۔ ہندوستانی قانون کے مطابق ہر بالغ شخص اپنی مرضی سے شادی کر سکتا ہے، اس لیے اصل حل قانونی روک ٹوک نہیں بلکہ شعور بیداری ہے:
محض زبانی جمع خرچ سے یہ بگاڑ ختم نہیں ہوگا۔ سیاسی قائدین، علمائے کرام، مشائخ، مدارس کے اساتذہ، والدین اور ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک سماج کا ہر طبقہ اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرے گا، ہماری جڑیں کھوکھلی ہوتی رہیں گی اور اس کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے۔
ہمیں جاگنے کی ضرورت ہے، قبل اس کے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ بقول شاعر:
آپ کس سمت سے نکلیں گے بچا کے دامن
حادثے راہ میں ملتے ہیں فقیروں کی طرح
(مضمون نگار معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک
بھارت میں عوامی نمائندگی، ارکانِ پارلیمنٹ کی کارکردگی، MPLADS فنڈ کے استعمال، وزیراعظم نریندر مودی… Read More
*امت کی مجموعی ترقی کا لائحۂ عمل: مفتی قیام الدین قاسمی *تبصرہ: محمد رافع ندوی*… Read More
ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے غیرملکی قرض اور… Read More
Al Raza July August 2026 Color Read More
رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ایک عہد ساز شخصیت ✒️ شمس الزماں خان… Read More
شیرِ بہار سلسلۂ رضویہ کے نیرِ تاباں ✍️ شمس الزماں خان صابری کچھ شخصیات ایسی… Read More