سانس در سانس ہجر کی دستک:کتنا مشکل ہے الوداع کہنا

سانس در سانس ہجر کی دستک:کتنا مشکل ہے الوداع کہنا

 شمیم رضا اویسی امجدی
خادم : طیبۃ العلماء جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو


آج جب بہ وقت سحر بروز پیر بہ مطابق ١٠ جنوری ٢٠٢٢ء یہ روح فرسا خبر ملی کہ دنیائے سنیت کی عظیم علمی و عبقری شخصیت میرے نہایت ہی کرم فرما استاذ، فقیہ اسلام حضرت علامہ مولانا مفتی آل مصطفی صاحب قبلہ مصباحی (جنہیں اب "رحمۃاللہ علیہ” کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آیا چاہتا ہے) اس دھوپ بھری دنیا کو چھوڑ کر عدم کی بے کراں وادیوں کی طرف کوچ کر گئے تو خراباتِ آرزو پر انکی دائمی مفارقت کا غم اسطرح برسا کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا، روح زخمی ہو گئی تو دل تار تار ہو گیا، اور بلا مبالغہ یہ خبر مجھ جیسے ہزاروں آپکے محبین، مخلصین، متوسلین اور ملک و بیرون ملک میں پھیلے ہوئے بے شمار شاگردوں کے دلوں پر بجلی بن کر گری کہ آہ وہ سلف صالحین کی چلتی پھرتی یادگار ،علم و حکمت کا تاجدار ،مجسمہِ زہد و ایثار وہ پیکرِ تقدس وہ کوہِ استقامت اب ہم کہاں دیکھ پائیں گے؟؟ جسے دیکھ کر ایمان کے بجھے ہوئے ذرات میں چمک اور تازگی پیدا ہوتی تھی ،جس کا قرب پا کر دلوں کو سکون میسر ہوتا تھا، جس کی صحبت میں رہ کر تحصیلِ علم کا جذبہ بیدار رہتا تھا، افسوس وہ عالم دین جو ہر بزم ہر محفل اور ہر ایک کے سامنے علمی گوہر لٹاتا رہا، وہ بے لوث معلم و مربی جو کتابِ آدابِ حیات پڑھاتا اور سمجھاتا رہا، جو پوری زندگی طلبہ کی تربیت میں مصروف عمل رہا آج ہم سے رخصت ہو گیا!!

یقیناً آپ جیسی شخصیتیں پوری قوم کا سرمایہ، پوری کائنات کا اجتماعی اثاثہ اور پوری امت کی پونجی ہوتی ہیں اور علوم و معارف کے جواہرات سے آراستہ اسطرح کی جامع الصفات شخصیات آفاق و انفس کی وسعتوں میں کبھی کبھی اور کہیں کہیں پیدا ہوتی ہیں،

آپ تبحر علمی ،اصابتِ رائے، دقتِ نظر، ذہانت و ظرافت، قوتِ فیصلہ ،قوتِ استنباط ،تواضع و انکساری، خود اعتمادی، باریک بینی اور نقطہ بیانی میں اپنی مثال آپ تھے، صدق گوئی اور اظہارِ حق میں اکابرین کا پرتو تھے ملامت کی پروا کیئے بغیر جسکو حق سمجھتے دو ٹوک انداز میں کہہ ڈالتے، علمی مباحث ہوں یا فرق و مذاہب یا پھر نظریات و رجحانات انکے مابین ایسا موازنہ اور عمدہ تجزیہ کرتے کہ بڑے بڑے تحقیقی ذوق رکھنے والے مطمئن ہو جاتے، بلا شبہ وہ اسلاف کی سچی تصویر تھے انکی علمی روایتوں اور تہذیبی شرافت کے وارث کامل تھے اور اپنے تمام تر کمالات اور خوبیوں کے باعث اگر ایک طرف اپنے ہم عصروں پر سبقت لے گئے تو دوسری جانب اکابرین کی نگاہوں کا مرکز بن گئے،

یوں تو آپ کو تفسیر و لغت، فقہ و ادب ،نحو و صرف اور منطق و فلسفہ میں گہرا درک حاصل تھا مگر فقہ و افتا پر یدِ طولیٰ رکھتے تھے اور تمام اسلامی علوم میں سب سے زیادہ وابستگی اسی فن سے تھی، آپ فتاویٰ نویسی میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے تھے، فقہی جزئیات میں آپکو مکمل دسترس حاصل تھی، بڑے سے بڑے گنجلک مسائل کی گتھی سلجھاتے ہوئے ذرا دیر نہیں لگتی، طلباء کے علاوہ علماء کا ایک بڑا طبقہ ہمیشہ آپ سے فقہی رہنمائی کے لیے حاضر بارگاہ رہتا، آپ نے اپنی زندگی میں ہزاروں کی تعداد میں فتاوے اور مقالات لکھے اور مختلف فقہی سیمیناروں میں خصوصی شرکت فرما کر بحث و تمحیص میں حصہ لیا،

آپکے ساڑھے تین سو فتاویٰ ایسے تھے جن پر حضور شارح بخاری علیہ الرحمۃ والرضوان نے مہر تصدیق ثبت فرمائی تھی، لیکن بدقسمتی سے وہ محفوظ نہ رہ سکے، ہوا کچھ یوں کہ غالباً ٢٠٠٦ء میں حضرت نے وہ تمام فتاوے جو انہوں نے ایک رجسٹر میں نقل کر رکھے تھے اپنے کسی شاگرد کو جو دلی کا رہنے والا تھا ٹائپنگ کے لیئے دیا، چند مہینوں تک تو وہ فون پر دلاسہ دیتا رہا کہ جلد ہی ٹائپ ہو جائیں گے لیکن ایک عرصے بعد یہ کہتے ہوئے اپنا دامن جھاڑ لیا کہ میں نے جس دکان والے کو وہ رجسٹر دیا تھا اس نے کہیں گُم کر دیا اور اپنی دکان بھی بند کر دی لہٰذا اب اس کا ملنا مشکل ہے..!!

حضرت راقم الحروف سے اکثر ان فتاویٰ کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے اور فرماتے کہ "مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی کہ میں نے اس لڑکے پر بھروسہ کیا اور اس سے بڑی غلطی یہ کہ اسکی کوئی نقل اپنے پاس نہ رکھی، آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی میرے دل سے اسکے کھو جانے کا غم دور نہیں ہوتا، جب سوچتا ہوں تو طبیعت اداس ہو جاتی ہے، وہ میری زندگی کا عظیم سرمایہ تھا "

فقیر نے حضرت سے اس شخص کا نمبر طلب کیا کہ کسی طرح اس تک رسائی کی کوئی صورت نکل آئے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود بھی کامیابی ہاتھ نہ آئی،

حضرت مفتی صاحب قبلہ ایک بہترین قلمکار منفرد اسلوب کے حامل تھے ، آپکی تحریر پر مغز، مدلل، ایسی عام فہم اور سلیس ہوتی کہ دل کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتی چلی جاتی، آپ کا قلم بالکل آپ کی فکر کا ترجمان تھا، رب قدیر نے آپ کے قلم میں ایسی برکت اور روانی رکھی تھی کہ جس سے اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی، آپ نےاپنے پیچھے ایسی مستقل تصنیفات و تالیفات، تعلیقات و حواشی چھوڑے ہیں ،جن سے آپ کی فکر کی گہرائی اور قلم کی عظمت کا احساس ہوتاہے،
جنکی فہرست یہ ہے
(١) اسباب ستہ اور عموم بلوی کی توضیح و تنقیح (٢) مختصر سوانح صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ (٣) بیمئہِ زندگی کی شرعی حیثیت (٤) کنز الایمان پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ (٥) منصبِ رسالت کا ادب و احترام (٦) رودادِ مناظرہ بنگال (٧) خطبہ استقبالیہ صدر الشریعہ سیمینار (٨) بچے اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے اصول (٩) عقل و شرع کی روشنی میں (١٠) تقدیم و ترجمہ عربی عبارات "فقہ شہنشاہ و ان القلوب بید المحبوب بعطاء اللہ” المعروف بہ شہنشاہ کون؟ (١١) ترجمہ و تقدیم "مواھب ارواح القدس لکشف حکم العرس” (١٢) نقشہ دائمی اوقات صلاۃ برائے گھوسی (١٣) حاشیہ توضیح و تلویح (عربی) (١٤) حاشیہ فتاویٰ امجدیہ جلد سوم و چہارم، زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر قارئین کی داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں،

انکے علاوہ حاشیہ شرح عقود رسم المفتی، مقالاتِ فقیہ اسلام اور فتاویٰ کی تخریج و ترتیب کا کام ابھی جاری تھا،لاک ڈاؤن کے ایام میں حضرت مجھ فقیر کو اکثر طلب فرماتے اور مقالات وغیرہ کی ترتیب کا کام لیتے، جب بھی ملتے بہت زیادہ شفقت کرتے، نصیحتیں کرتے، اور خدمتِ دین کا جذبہ اور حوصلہ عطا کرتے، آج حضرت کی وہ ساری شفقتیں، اور محبت بھری باتیں رہ رہ کر یاد آ رہی ہیں اور بار بار یہ شعر ذہن کے حاشیے میں گردش کر رہا ہے کہ
"تھے پاس جب تو قیامت کا لطف آتا تھا”
"ہوئے جو دور تو یادوں کا حشر برپا ہے”

اللہ رب العزت نے حضرت کو جس طرح علمی گہرائی و گیرائی اور بے مثال دولتِ فہم سے نوازا تھا اسی طرح تدریس کی دنیا میں تفہیم کا بھی ملکہِ راسخہ عطا کیا تھا،، سخت سے سخت مسئلہ طلبہ کے ذہن میں بہت ہی آسانی کے ساتھ اتار دیتے، خوش قسمت ہیں وہ حضرات جنہوں نے آپ سے استفادہ کیا اور علوم و فنون کے شیریں جام سے خود کو سیراب کیا،

آج حضرت کی وفات سے جہاں ایک عہد کا خاتمہ ہوا وہیں ایک دینی قلعہ منہدم ہو گیا، اور آج ہم سب لائقِ تعزیت ہیں کہ یہ نقصان ہم سب کا نقصان ہے اور یہ دکھ ہم سب کا دکھ ہے، اسلیئے کہ آفتاب کسی کی ملکیت نہیں ہوتا، ڈھلتے اور ڈوبتے سورج کا نقصان کسی ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتا..!!

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ استاذ محترم کی دینی خدمات کے صدقے میں آپکی مغفرت فرمائے اور آپکے امثال کثیر فرمائے، آمین


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

alrazanetwork

Recent Posts

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ… Read More

2 ہفتے ago

اے شہر امن پھر آئیں گے !! – مکہ مکرمہ کی زیارت اور روحانی تجربات | غلام مصطفی نعیمی ہاشمی

 اے شہر امن پھر آئیں گے !! غلام مصطفی نعیمی ہاشمی نزیل حال حرم مکہ… Read More

2 ہفتے ago

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ

25 ہزار تک بہترین گیمنگ فونز – مکمل جائزہ اس مضمون میں............. تعارف 25 ہزار… Read More

3 ہفتے ago

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک

طلبہ کے لیے بہترین بجٹ لیپ ٹاپ 40k تک فہرست انٹروڈکشن طلبہ کے لیے بجٹ… Read More

4 ہفتے ago

10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے

فہرست : 10 ہزار تک بہترین سمارٹ واچز مردوں کے لیے تمہید 10 ہزار تک… Read More

4 ہفتے ago

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی… Read More

1 مہینہ ago