یہ بھی پڑھیں
پنچایت کے اس وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ بیٹھے ہیں اور ایک شال پہنے شخص دھرنا دے رہا ہے۔ پانچ دھرنوں کے بعد ان کی سزا پوری ہوئی اور انہیں رہا کر دیا گیا۔
اس واقعے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 5 سالہ معصوم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنے والوں کے لیے POCSO قانون ہے۔ عمر قید تک کی سزا کا انتظام ہے لیکن صرف پانچ بار دھرنا دے کر کیس التوا میں ڈالا گیا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ 21 نومبر کو اکبر پور بلاک علاقے کے کنوج گاؤں میں ملزم پانچ سالہ بچی کو لالچ دے کر اپنے چکن فارم لے گیا جہاں اس نے یہ گھناؤنا فعل کیا۔ بعد ازاں لڑکی کے گھر والے گھر پہنچے اور گھر والوں کو معاملے کی اطلاع دی۔ لواحقین نے پولس میں مقدمہ درج کرنے کی بات کی تو گاؤں میں ہی معاملہ کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
اتنے بڑے واقعے کو دبانے کا ذمہ دار ایک سابق سربراہ کو بتایا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جیسے ہی ملزمان کے خلاف مقدمہ سامنے آیا، ملزمان سابق سربراہ کے پاس مدد لینے گئے۔ سابق سربراہ نے پنچایت بنوائی اور پنچایت میں جو کچھ ہوا وہ شرمناک تھا۔ کھڑے اور بیٹھ کر ملزم کو بری کر دیا گیا اور متاثرہ خاندان کو مقامی قانون کا خوف دکھا کر تسلی دی گئی۔
Source link
