شارح بخاری کی آفاقی شخصیت اور منفرد علمی شناخت
از: مبارک حسین مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ
مورخہ 27 اپریل 2004ء کو گھوسی میں عرس شارح بخاری علیہ الرحمہ کے موقع پر ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب نے شارح بخاری کی سیرت وشخصیت اور ان کی دینی وملی خدمات پر ایک بہترین تقریر فرمائی ۔ تقریر سننے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ مولانا مبارک حسین مصباحی نہ صرف کشور صحافت کے تاجدار ہیں بلکہ میدان خطابت کے بھی شہسوار ہیں ۔ قارئین اشرفیہ کے لیے ان کی تقریر پیش خدمت ہے ۔) از: امیر الدین شمسی ۔ کریم الدین پور امجدی روڈگھوسی ضلع مئو ۔(فقیہ اعظم ہند شارخ بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی ذات فقہی بصیرت اور محدثانہ عظمت کا خوبصورت سنگم تھی ہم آپ کی زندگی کے جس گوشے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ اسی فن اور اسی دبستاں کے ماہر اور یکتائے روز گار تھے ۔ حضرت شارح بخاری کسی کی پشت بناہی کی بنیاد پر یا کسی خاندانی پس منظر کی بنیاد پر عالم اسلام میں نہیں پہچانے گئے ، آپ ایک عظیم محدث ، ایک عظیم فقیہ ، ایک عظیم مدرس، ایک عظیم محقق، اور ایک عظیم دانشور تھے ۔
گھوسی کی سر زمین پر ایک معمولی سے خاندان میں 1921ء میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کرتا ہے ۔ حضرت حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان جب 1934ء میں مبارک پور کی سر زمین پر جلوہ گر ہوتے ہیں آپ کی آمد کے بعد مدرسہ اشرفیہ شہرتوں کے بام عروج پر پہنچتا ہے تو اس کی صدائے باز گشت گھوسی کی سر زمین پر بھی سنائی دیتی ہے وہ فقیہ اعظم ہند جو اس وقت صرف ’’محمد شریف الحق‘‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں انھوں نے عرض کیا مبارک پور کی سر زمین پر واقع درس گاہ الجامعۃ الاشرفیہ کا فیضان اور حضرت حافظ ملت کا علمی فضل وکمال ابھرتے ہوئے سورج کی طرح آج پورے ہندوستان میں پھیلتا چلا جا رہا ہے میری بھی دلی خواہش ہے کہ میرا بھی داخلہ اسی درس گاہ میں کرا دیا جائے ۔ حسن اتفاق کہ حافظ ملت نے دارالعلوم اشرفیہ کی جدید عمارت کے سنگ بنیاد کی تقریب میں اپنے استاذ گرامی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کو مدعو کیا ،جب حضرت صدر الشریعہ گھوسی کی سر زمین سے سنگ بنیاد رکھنے کے لیے چلتے ہیں تو حضرت فقیہ اعظم ہند نے موقع غنیمت جانا اور آپ کی انگلی پکڑ کر وارد اشرفیہ ہوئے ،جس روز دارالعلوم اشرفیہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا تھا اسی دن اسی تاریخ میں مفتی شریف الحق امجدی کی عظمتوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور جس روز حضرت صدر الشریعہ نے اپنے مقدس ہاتھوں سے دارالعلوم اشرفیہ کا سنگ بنیاد رکھا اسی دن صدر الشریعہ نے اپنے خاندان کے ایک چھوٹے سے بچے محمد شریف الحق کو حافظ ملت کے حوالے کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ جس طرح اور جس تیزی کے ساتھ آپ نے مدرسہ اشرفیہ کو ترقی دی اور یہ دارالعلوم کی شکل میں علم وفضل کی منزلیں طے کرتا چلا جا رہا ہے ایک بچہ آپ کے حوالے کر کے جا رہا ہوں جس طرح یہ مدرسہ اشرفیہ ترقی کرتا جائے گا اسی طرح یہ بچہ بھی ترقی کرتا جائے گا ۔ غور فرمایے کہ شخصیتوں کی تعمیر کتنے خوبصورت انداز سے ہوتی ہے ۔ آپ دیکھیں تو سہی اپنے دور کا عظیم فقیہ ومدرس اپنے ہاتھوں سے اس بچے کو اپنے تلمیذ رشید کے حوالے کرتا ہے کہ یہ بچہ آپ کے حوالے کر رہا ہوں لیکن جب یہ واپس گھوسی کی سر زمین پر آئے گا تو یہ محمد شریف الحق نہیں ہوگا بلکہ مفتی محمد شریف الحق ہوگا ، یہ شارح بخاری اور فقیہ اعظم ہند ہوگا ،حافظ ملت نے اپنے بچوں کی طرح شارح بخاری کی تربیت کی ہے ۔ حافظ ملت ، وفا، پیار اور شفقت کا نام ہے ۔ شخصیت سازی میں حافظ ملت کا کوئی ثانی نہیں علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ :
’’شخصت سازی کے فن میں کوئی مستقل کتاب اب تک میری نظر سے نہیں گزری لیکن اپنی معلومات وتجربات کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس فن کے امام تھے ۔شخصیت سازی سے میری مراد اپنے تلامذہ کو ان اوصاف کا حامل بنانا ہے جو ایک ’’مرد مومن‘‘ کی زندگی کے لیے لازم ہوتے ہیں۔ درس وتدریس کی دنیا میں اس فن کے نام سے اگر کوئی فن پہلے سے موجود تھا تو بلا شبہ انھوں نے اس فن میں گراں قدر اضافے کیے ہیں بلکہ یہاں تک میں کہہ سکتا ہوں اگر کوئی صاحب فکرو قلم حافظ ملت کی زندگی کا گہرا مطالعہ کرے تو اسے شخصیت سازی کے فن میں اتنے مواد مل جائیں گے کہ وہ آسانی سے اس فن پر ایک ضخیم کتاب تیار کر سکتا ہے ‘‘۔
فقیہ اعظم ہند نے اپنے زمانۂ طالب علمی میں ذوق علم کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ حافظ ملت دیکھتے تھے کہ رات کے سناٹے میں جب مدرسہ کے تمام طلبہ سو جاتے تھے اور ایک بچہ پوری رات جاگ کر پڑھتا تھا تو دنگ رہ جاتے اور فرماتے اے شریف الحق! رات بھر مت پڑھا کرو آپ کی صحت خراب ہوجائے گی، ایک دو بار کہنے پر بھی جب آپ نہیں مانے تو حافظ ملت نے سختی کے ساتھ فرمایا اے شریف الحق ! آج کے بعد تم کو 12 بجے کے بعد مطالعہ کرتے نہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ اکبر حضرت فقیہ اعظم ہند نے جو تعلیم حاصل کی اور محنت ومشقت کی اس کے ثمرات عہد طالب علمی میں ہی محسوس کیے گئے ،حافظ ملت فقیہ اعظم ہند کو کتنا مانتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ ملا حسن کا تحریری امتحان ہو رہا تھا تین گھنٹے گزرنے کے بعد تمام طلبہ کی کاپیاں لے لی گئیں لیکن شارح بخاری کی کاپی نہیں لی گئی اس وقت کے ناظم اعلی جناب امین مرحوم تھے انھوں نے اعتراض کیا تو حافظ ملت نے ان کے کان میں کچھ فرمایا اس کے بیس منٹ کے بعد شارح بخاری اپنی کاپی جمع کرتے ہیں پھر تمام بچوں کی کاپیاں ایک پیکٹ میں بند کر دی جاتی ہیں لیکن فقیہ اعظم ہند کی کاپی کو حافظ ملت پڑھ کر سنانے لگے وہ گویا یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ یہ بچہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک دن اپنے ملک کی آبرو بنے گا اور جماعت اہل سنت کا نام روشن کرے گا ۔
حافظ ملت نے دوسرے سال سالانہ جلسہ رکھا اور طلبہ کے درمیان یہ اعلان کر دیا کہ کچھ بچے عربی میں تقریر کرنے کی تیاری کر لیں تاکہ بیرونی مہمانوں کے سامنے عربی دانی کا مظاہرہ کرایا جائے ،بہت سے طلبہ نے اس میں نام تحریر کرائے لیکن پورے دارالعلوم اشرفیہ میں تقریر کرنے کے لیے اگر کوئی اسٹیج پر آیا تو اس کا نام محمد شریف الحق تھا۔ اس وقت اسٹیج پر حضرت صدر الشریعہ، حضرت محدث اعظم ہند ، علامہ غلام جیلانی اعظمی اوراساتذہ اشرفیہ موجود تھے ۔ شارح بخاری نے فصاحت وبلاغت کا وہ مظاہرہ کیا کہ پورا اسٹیج واہ واہ کر رہا تھا اور داد دیتے ہوئے حافظ ملت کھڑے ہو گئے ،صدر الشریعہ نے اس دور میں اپنی جیب سے ۲؍ روپے نکال کر بطور انعام دیے ۔ حضرت فقیہ اعظم ہند ایسے ہی فقیہ اعظم ہند نہیں ہو گئے آپ نے اپنی طالب علمی کا زمانہ بے پناہ محنت و مشقت کے ساتھ گزارا ہے ۔
میری خوش نصیبی یہ ہے کہ ایام زندگی کے آخری تین دنوں تک مغرب سے لے کر 12 بجے شب تک اگر کسی سے دینی اور ملی مسائل پر گفتگو کی ہے تو اس حقیر کا نام مبارک حسین مصباحی ہے ۔ وصال کی رات میں آپ سے 9 بجے تک گفتگو ہوئی پھر ایک دعوت میں جانا ہوا مجھ سے ارشاد فرمایا کہ صبح فلاں چیز لکھ کر لانا لیکن صبح کو یہ اطلاع ملی کہ فقیہ اعظم ہند اس دنیا سے چلے گئے ۔فقیہ اعظم ہند کے فضائل وکمالات کو دیکھا جائے تو ان کی زندگی کا ایک ایک باب اپنے فن کا دبستاں نظر آتا ہے۔ اگر حافظ ملت کسی کے مناظرہ پر اعتماد کرتے تھے تو اس کا نام فقیہ اعظم ہند تھا ۔ اگر حافظ ملت کسی کے تفقہ پر اعتماد کرتے تھے تو اس کا نام فقیہ اعظم ہند تھا ۔اگر حافظ ملت کسی کی حدیث دانی پر اعتماد کرتے تھے تو اس کا نام فقیہ اعظم ہند تھا ۔اگر بغیر پڑھے ہوئے کسی کے فتوے پر تصدیق کی جا سکتی تھی تو ہندوستان کی سر زمین پر اس کا نام مفتی محمد شریف الحق امجدی تھا ۔اشرفیہ کی تاریخ میں دو شخصیتیں سب سے اہم نظر آتی ہیں ایک کا نام حافظ ملت تھا اور دوسری شخصیت کا نام حضرت علامہ حافظ عبد الرؤف بلیاوی تھا جب علامہ عبد الرؤف علیہ الرحمہ کا 1971ء میں انتقال ہوا تو حضرت حافظ ملت نے ان کی جانشینی کے لیے اگر کسی کا انتخاب کیا تو اس کا نام فقیہ اعظم ہند تھا اور حافظ ملت کے انتقال کے بعد علماے مبارک پور کی نظر انتخاب کسی پر پڑی تو اس کا نام فقیہ اعظم ہند تھا ۔ معلوم یہ ہوا کہ علامہ عبد الرؤف کی تدریسی جانشینی کا مسئلہ ہو یا حافظ ملت کی علمی جانشینی کا موقع دونوں مواقع پر دارالعلوم اشرفیہ میں فقیہ اعظم ہند کو یاد کیا گیا ۔
فقیہ اعظم ہند الجامعۃ الاشرفیہ کے لیے اتنے حساس تھے کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا مفتی بدر عالم صاحب نے فقیہ اعظم ہند سے عرض کیا کہ حضور فلاں مولوی صاحب الجامعۃ الاشرفیہ کے بارے میں یوں یوں کہہ رہے تھے تو فقیہ اعظم ہند کا تیور بدل گیا اور بولے مولانا! مجھ سے آکر شکایت کرتے ہو، اس مولوی کوآپ نے مارا کیوں نہیں ، عالمی، ملکی اور جماعتی مسائل پر بھی وہ اتنے ہی حساس تھے کہ جب کوئی مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا تو اس وقت فقیہ اعظم ہند کا تفقہ کام کرتا ہوا نظر آتا تھا ۔ جب 1949ء کے اندر عرب کی سرزمین فلسطین کے اندر اسرائیل کو جگہ دیدی گئی تو عالم اسلام میں ایک سوال کھڑا ہوا کہ قرآن عظیم میں ہے : وضربت علیہم الزلۃ والمسکنۃ وباوء ابغضب من اللّٰہ۔ترجمہ : ان پر ذلت اور گدا گری چھا پ دی گئی اور وہ من جانب اللہ نشانہ غضب ہیں ۔
اس کے باوجود اسرائیل کو بلند مقام اور دولت کی ریل پیل کیوں ملی اس کا جواب کسی نے نہیں دیا جب یہ مسئلہ فقیہ اعظم ہند کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو اتنی خوبصورتی کے ساتھ اس کو سلجھایا کہ اس وقت کے علماے کرام اور عقلاے روزگار دنگ رہ گئے اور کہا کہ ہماری نظر وہاں کیوں نہیں پہنچی ۔ حضرت فقیہ اعظم ہند نے فلسفیانہ موشگافیوں کی بنیاد پر جواب نہیں دیا تھا ،صرف خاموش کرنے کے لیے الزامی جواب نہیں دیا تھا بلکہ قرآن کریم کی اس آیت پاک کی تفسیر کے لیے دوسری آیت کریمہ کو پیش کر دیا تھا ۔وضربت علیہم الذلۃ این ماثقفوا الابحبل اللّٰہ وحبل من الناس۔ترجمہ: ان یہودیوں پر ذلت چھاپ دی گئی جہاں رہیں مگر یہ کہ اللہ کی رسی پکڑ لیں یا لوگوں کی رسی پکڑ لیں ‘‘۔
آج فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کا قیام امریکہ کی بے جا حمایت کا مرہون منت ہے ۔ اگر آج امریکہ اپنا دست تعاون کھینچ لے تو اسرائیل کو روئے زمین پر کہیں ٹھکانہ نہیں ملے گا ، یہودیوں کو اللہ کی رسی تو نہیں مل سکتی وحبل من الناس کے مطابق امریکہ کا سہارا مل گیا ہے جس کی وجہ سے انہیں عارضی ٹھکانہ مل گیا ۔ جس دن ان لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگا وہ یہودیوں کی تباہی اور ذلت ورسوائی کا آغاز ہوگا ۔ اور یہ قوم پھر اپنی تاریخ ماضی دہراتی ہوئی نظر آئے گی ۔
دوسرا اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ حدیث پاک میں ہے کہ کوئی کافر حرمین طیبین پر حکومت نہیں کر سکتا جب کہ وہاں نجدی وہابی کی حکومت ہے اور وہ آپ کے مسلک کے اعتبار سے کافر ہیں ۔ حضرت فقیہ اعظم ہند نے جو اس کا جواب دیا ہے آج تک دنیاے وہابیت میں سناٹا ہے اور اس کے جواب الجواب کے لیے کسی کے اندر جرأت نہیں ہے ۔ فقیہ اعظم ہند نے ارشاد فرمایا کہ ان الفاظ اور اس مفہوم کی کوئی حدیث ذخیرہ حدیث میں موجود ہی نہیں، رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی مقام پر یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ وہاں کسی کافر کی حکومت نہیں ہو سکتی ،اگر تھوڑی دیر کے لیے تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہاں کسی کافر کی حکومت نہیں ہو سکتی تو بالکل پہلی مرتبہ وہاں نجدیوں کی حکومت نہیں ہوئی ہے اس سے قبل کافروں وملحدوں کی حکومت ہو چکی ہے ، عبیدہ فاطمی کون تھے جنھوں نے دو برس تک حرمین طیبین پر ظالمانہ حکومت کی، ان بد ترین لوگوں میں ایک حاکم بامر اللہ تھا اس نے فرعون کی طرح اپنی خدائی کا عزم کر لیا تھا ۔ معترضین جواب دیں وہ کافر تھا یا مسلمان ۔؟ قرامطہ جنھوں نے ۲۱؍ سال تک حجر اسود کو چرا کر رکھا اور حرمین طیبین پر حکومت کی وہ کافر تھا یا مسلمان؟ اور یزید پلید جس کے متعلق بعض علماے کرام نے کفر کا فتویٰ دیا ہے اس نے بھی حرمین طیبین پر حکومت کی ۔ فقیہ اعظم ہند نے اس کا یہ جواب عنایت فرمایا تو اس کے بعد سے آج تک کوئی اس مسئلہ کو اٹھاتا نظر نہیں آتا ہے ۔دیو بندیوں اور وہابیوں کی جانب سے جب بھی کوئی اعتراض کیا جاتا ، کتاب لکھی جاتی تو مچل جایا کرتے تھے ، تڑپ جاتے تھے، عصربعد کی نشستوں میں اساتذۂ اشرفیہ پر بگڑتے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تمہاری حس مر گئی ہے؟ باطل تمہارے دروازے پر آجائے تب تم کو احساس ہوگا ۔ آپ مغرب کی نماز پڑھتے کھانا تناول فرماتے اور داراالافتاء میں بیٹھ جاتے فجر بعد آپ کی پیشانی کا رنگ بدلا ہوا نظر آتا بشاشت کے ساتھ ارشاد فرماتے ۔ ظالم نے کتاب لکھی تھی آج میں نے اس کا جواب لکھ دیا ہے، ظالم نے پوسٹر شائع کیا تھا شریف الحق نے اس کا جواب تیار کر دیا ہے۔ ایسا کوئی حساس عالم ہندوستان کی سر زمین پر نظر نہیں آتا، مگرمچھ کے آنسو بہانہ اور بڑی بڑی باتیں کرنا الگ بات ہے لیکن خون جگر جلا کر اپنی جماعت کے شجر کی آب یاری کرنا بہت مشکل ہے ۔ حضرت فقیہ اعظم ہند کی زندگی کو دیکھیں جتنا علم آپ کے پاس تھا اللہ تعالی نے اس علم کو استعمال کرنے کی توفیق بھی عطا کی ۔
آج پوری دنیا کا دانشور طبقہ اس بات پر متفق ہے کہ کوئی انسان علم کا سمندر بن جائے اور وہ اس کا اظہار نہ کرے یا اس کی کوئی تصنیف منظر عام پر نہ آئے تو عقیدت مندوں کا ہجوم نعرہ تولگا سکتا ہے لیکن دنیا کا دانشور طبقہ اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا ۔ فقیہ اعظم ہند علم کے بحر ناپیدا کنار تھے ، آپ ذرا دیکھیں الملفوظ پر برسوں سے دیوبندی وہابی اعترا ض کر رہے تھے ، لیکن کوئی عالم اس کا جواب لکھنے کو تیار نہیں ہوا ،ہندوستان کی بساط علم اور بساط اہل سنت پر اگر کسی مرد مجاہد کے قلم نے تحفظ ناموس اعلیٰ حضرت اور تحفظ ناموس مفتی اعظم ہند کا کام انجام دیا ہے تو اس کا نام فقیہ اعظم ہند تھا ، آپ نے تحقیقات لکھ کر الملفوظ پر وارد ہونے والے اعتراضات کا وہ دنداں شکن جواب دیا ، آج جب بھی کوئی مخالف ان اعتراضات کو دہراتا ہے تو ہمارے عالم کے ہاتھ میں تحقیقات کا نسخۂ کیمیا ہوتا ہے ۔ فقیہ اعظم ہند نے صرف اعتراضات کا جواب ہی نہیں دیا ہے بلکہ الزامی سوالات بھی قائم کیے ہیں ، بریلی کے مناظرہ کی بات آئی تو منظور احمد نعمانی نے ’’فتح بریلی کا دل کش منظر ‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی اس نے اس میں لکھا کہ دیو بندیوں کو فتح حاصل ہوئی اور بریلویوں کی شکست فاش ہوئی ،ایک دو ایڈیشن نہیں متعدد ایڈیشن بر صغیر میں پھیلے ۔ فقیہ اعظم ہند کی غیرت ایمان کو جوش آیا اور آپ نے ’’سنی دیوبندی اختلافات کا مصنفانہ جائزہ ‘‘ لکھ کر مولوی منظور احمد نعمانی کے اعتراضات اور ’’فتح بریلی کے دل کش منظر‘‘ کا ایسا مسکت جواب دیا ہے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی دیو بندیت کے اندر ایک سناٹا نظر آتا ہے ۔ مصنفانہ جائزہ میں پوری علمی دیانت داری کے ساتھ دیو بندی مکتب فکر کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ اور اہل سنت وجماعت کی حقانیت چودہویں کے چاند کی طرح آشکار ہوگئی ہے ۔
اعتراض کیا جاتا تھا کہ بریلوی صرف عرس، تیجہ، چالیسواں اور فاتحہ کے کھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے ،اپنے عاشق رسول ہونے کا بہت نعرہ بلند کرتے ہیں لیکن حدیث کے موضوع پر ان کی کوئی کتاب نہیں ہے۔ بخاری شریف کو اپنی درس گاہوں میں پڑھاتے ہیں لیکن سمجھنے کے لیے ان کے اندر کوئی شرح نہیں ، ایک دو سال نہیں برسوں سے یہ اعتراضات علماے دیوبند کی جانب سے علماے اہل سنت کی جانب تیر ونشتر بن کر آرہے تھے ۔ حضرت فقیہ اعظم ہند کی غیرت علمی بیدار ہوئی اور بخاری شریف کی شرح ’’نزھۃ القاری ‘‘نو جلدوں میںلکھ کر پوری جماعت کا کفارہ ادا کر دیا ،یہ نہیں بخاری شریف کا صرف ترجمہ اور تشریح کر دی ہو بلکہ علوم وفنون کاموجزن سمندر اس میں انڈیل دیا ہے۔ دیو بند کے بڑے سے بڑے محدث کی حدیث دانی اس کے سامنے گرد راہ بنتی نظر آتی ہے ۔ فقیہ اعظم ہند اپنے کارناموں کی بنیاد پر زندہ ہیں ۔ اپنے قلم وتفقہ کی بنیاد پر زندہ ہیں ، فقیہ اعظم ہند کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی فتویٰ نویسی ہے ، جس دن ان کے لگ بھگ ستر ہزار فتاوی مکمل مرتب ہو کر منظر عام پر آجائیں گے تو افادیت وضخامت میں فتاویٰ رضویہ کے بعد فتاویٰ شارح بخاری کانمبرہوگا جیسے جیسے یہ زمانہ ترقی کرتا جائے گا فقیہ اعظم ہند کی شناخت میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔ جیسے جیسے ان کا علمی شعور بیدار ہوگا ۔ فقیہ اعظم ہند کی علمی شناسائی بڑھتی چلی جائے گی ۔
اعلیٰ حضرت ، صدر شریعت، مفتی اعظم حافظ ملت
تو ان سب کے وصف کا سنگم نائب مفتیِ اعظم ہند
فقیہ عصر بھی ہے وہ فقیہ اعظم بھی
بفیض حضرت نعمان سب سے اعلم بھی
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں
- Posts not found
