ماہ صفر المظفر کے تعلق سے خیالات فاسدہ کی حقیقت

ماہ صفر المظفر کے تعلق سے خیالات فاسدہ کی حقیقت

تحریر:محمد حبیب القادری صمدی(مہوتری، نیپال)

mdhabibulqadri@gmail.com

شعبہ تحقیق: جامعہ عبد اللہ بن مسعود (کولکاتا)


صفر المظفر  اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔اس مہینہ کے متعلق زمانہ جاہلیت ہی سے یہ مشہور ہے کہ یہ مہینہ  منحوس اور آسمان سے آفتیں اور بلائیں نازل ہونےوالا مہینہ ہے۔زمانہ جاہلیت کے لوگ اس مہینہ میں خوشی کے جتنے تقریبات مثلا: شادی بیاہ، رخصتی اور عقیقہ وغیرہ قائم کرنا منحوس و معیوب سمجھتے تھے یہاں تک کہ سفر سے بھی گریز کرتے تھے۔مگر افسوس صد افسوس بدقسمتی سے وہی نظریہ و عقیدہ نسل در نسل چلا آرہا ہے۔ جبکہ مذہب اسلام میں اس قسم کے باطل خیالات و نظریات کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔آقائے کریم ﷺ ایسے توہمات اور قیامت تک کے  فاسد عقائد ،باطل نظریات وخیالات کو اپنے پائوں تلے روند چکے ہیں۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’لاعدویٰ ولاطیرۃ ولاھامۃ ولاصفر‘‘(نہ تعدی(بیماری کا اڑکر لگنا) کوئی چیز ہے،اور نہ بدشگونی کوئی چیز  ،نہ  الو  کی کوئی نحوست  ہے اور نہ ہی صفر )۔(صحیح بخاری،کتاب الطب،باب لاھامۃ،ج:۲،ص:۸۵۷)

اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  سے ایسا ہی مروی ہے۔(سنن ابن ماجہ،باب من کان یعجبہ الفال ویکرہ الطیرۃ،ص:۲۵۳)اور سنن ترمذی میں ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما  بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیاں کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا:’’۔۔۔لاعدویٰ ولاصفر خلق اللہ کل نفس فکتب حیاتھا و رزقھا ومصائبھا‘‘نہ تو ایک بیمار سے دوسرے کو بیماری لگتی ہے اور نہ ہی صفر کی کوئی حقیقت ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر نفس کو پیدا فرمایا   پھر اس کی زندگی ، رزق اور مصائب لکھ دیے۔(سنن ترمذی،کتاب القدر، باب  ماجائ لاعدویٰ ولا ھامۃ ولاصفر،ج:۲،ص:۳۶)

اور مشکوٰۃ شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی ہے مروی ہےتھوڑے  الفاظ کی زیادتی کے ساتھ۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے  نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:’’لا عدوی ولاصفر ولاغول‘‘(نہ تعدی کوئی چیز ہے ،نہ صفر اور نہ  ہی بھوت)(مشکوٰۃ المصابیح،باب الفال و الطیرۃ،الفصل الاول،ص:۳۹۱/۳۹۲،حدیث: ۴۵۷۷)

حکیم الامت حضرت علامہ مفتی یار خاں نعیمی بدایونی علیہ الرحمہ لفظ’’صفر ‘‘کے تحت فرماتے ہیں:’’صفر سے مراد یا تو ماہ صفر ہے جسے اب بھی بعض منحوس جانتے ہیں یا اس سے مراد پیٹ کا درد ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پیٹ کا درد ایک سانپ ہے جو پیٹ میں رہتا ہے اس کا مروڑہ کھانا پیٹ کا درد ہے۔ اس میں ان دونوں خیالات کی تردید ہے۔(مرآۃ المناجیح، فال اور بد فال کا بیان،ج:۶،ص:۲۱۹،نعیمی کتب خانہ گجرات)

ماہ صفر  المظفرکے متعلق ایک من گھڑت روایت کا جائزہ!

ماہ صفر المظفر کے متعلق باطل و فاسد عقیدہ پھیلانے کی  خاطر دشمنان اسلام نے نبی کریمﷺ کی جانب ایک جھوٹی اور من گھڑت روایت منسوب کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے ۔وہ روایت یہ ہے۔’’من بشرنی بخروج صفر ، بشرتہ بالجنۃ‘‘(جو شخص مجھے ماہ صفر کے ختم ہونے کی خبر دے گا میں اسے جنت کی بشارت  دوں گا)۔نااہل اور ناقص العقل حضرات مذکورہ روایت سے یوں استدلال کرتے ہیں کہ اس مہینہ میں نحوست تھی جبھی تو رسول اللہ ﷺ نے ماہ صفر کے ختم ہونے کی خبر دینے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ میں اسے جنت کی بشارت دوں گا ۔ اس (جھوٹی اور من گھڑت) روایت کی تردید مذکورہ  احادیث مبارکہ سے اچھی طرح ہوگئی اب   اقوال فقہا کی عبارت پیش کرنے کی سعادت  حاصل کر رہا ہوں، ملاحظہ فرمائیں!اور خود بھی فیصلہ کریں! کہ احادیث مبارکہ اور اقوال فقہا کے ہوتے ہوئے مذکورہ روایت پر عمل کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:’’سالتہ فی جماعۃ لا یسافرون فی صفر ولا یبدؤون بالاعمال فیہ من النکاح و الدخول ویتمسکون بما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ’’من بشرنی بخروج صفر بشرتہ بالجنۃ‘‘ھل یصح ھذا الخبر وھل فیہ نحوسۃ ونھی عن العمل؟۔۔۔قال: أما مایقولون فی حق صفر فذٰلک شئی کانت العرب یقولونہ ۔۔۔لتنفیذ مقالتھم ینسبون الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم وھو کذب محض کذا فی جواھر الفتاویٰ‘‘

میں نے دریافت کیا ایسے لوگوں کے بارے میں جو ماہ صفر میں سفر نہیں کرتے  اور نہ ہی اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں ۔مثلا:شادی بیاہ، اور اپنی بیویوں کے پاس جانا وغیرہ اور اس بارے میں نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد ’’من بشرنی بخروج صفر بشرتہ بالجنۃ‘‘ (کہ جو مجھے ماہ صفر کے ختم ہونے کی خوشخبری دے گا میں اسے جنت کی بشارت دوں گا)سے دلیل پکڑتے ہیں۔کیا یہ ارشاد (سند کے اعتبار سے )صحیح ہے؟ اور کیا اس مہینے میں نحوست ہے؟ اور کیا  اس ماہ میں کسی کام کو شروع کرنے سے  منع کیا گیا ہے؟ تو جواب ملا  کہ ماہ صفر کے بارے میں لوگوں میں جومشہور ہے ،یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو اہل عرب(یہود ونصاریٰ) کے ہاں پائی جاتی تھیں۔ جنہیں وہ ثابت کرنے کے لیے نبی کریمﷺ کی جانب منسوب کرتے تھے۔حالانکہ یہ خالص جھوٹ ہیں۔(الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ، باب المتفرقات،ج:۵،ص:۴۶۱،دار الکتب العلمیۃ)امام اہل سنت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ ایک سوال(کیا محرم و صفر میں نکاح کرنا منع ہے؟) کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:نکاح کسی مہینہ میں منع نہیں ،یہ غلط مشہور ہے۔(ملفوظات اعلی حضرت،حصہ اول،ص:۹۵،مجلس مدینۃ العلمیۃ)

حقیقت

سچ تو یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا وہ وقت جو اللہ رب العزت  کی ناراضگی میں گزرا وہ وقت منحوس ہے ،نہ کہ کوئی مہینہ یا دن۔لہٰذا اگر کوئی انسان ماہ صفر المظفر میں عبادت اور نیکی کا کام کرے گا تو وہی مہینہ اس کے لیے خیر و برکت  اور کامیابی وکامرانی کا ضامن بنے گا۔مثلا: کوئی شخص نماز فجر جماعت کے ساتھ اداکرتا ہے اور کوئی پڑے پڑے وقت گزار دیتا ہے ۔ اب آپ دیکھیں! ایک ہی وقت اس نمازی کے لیے خیرو برکت اور کامیابی  کا ذریعہ بنا اور کسی کے لیے منحوس۔تو پتہ چلا کسی مہینے یا وقت میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ ہمارے اعمال  ہی میں کمی ہے۔لہٰذا زمانے کو منحوس کہنے سے گریز کریں!حدیث قدسی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’قال اللہ یوذینی ابن آدم یسبت الدھر وانا الدھر بیدی الامر اقلب اللیل والنھار‘‘اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے ،وہ زمانے کو گالی دیتا ہے ۔حالانکہ زمانہ ،میں ہوں،بادشاہت میرے ہاتھ میں ہے، میں ہی دن اور رات کو بدلتا ہوں۔(صحیح بخاری، کتاب التفسیر،باب ومایھلکنا  الا الدھر،ج:۲،ص:۷۱۵)مذکورہ حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت کے پیدا کردہ کسی شئی میں عیب ٹھہرانا ،اس کی کاری گری میں عیب نکالنا ہے۔

بدشگونی شرک اصغر ہے!

بدشگونی سے احتراز لازم پکڑیں! کیونکہ بدشگونی کو شرک اصغر کہا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ  ابن مسعود رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’الطیرۃ شرک ومامنا الا ولکن اللہ یذھبہ بالتوکل‘‘۔پرندے اڑانا (بدشگونی)شرک(اصغر)سے ہے ۔ اور نہیں ہے ہم سے کوئی مگر اللہ تعالیٰ اس کو توکل سے لے جاتا ہے۔(سنن ابن ماجہ،باب من کان یعجبہ الفال ویکرہ الطیرۃ،ص:۲۵۳)اور مشکوٰۃ شریف میں ایسا ہی ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح،باب الفال و الطیرۃ،الفصل الثانی،ص:۳۹۲) حکیم الامت حضرت علامہ مفتی یار خاں نعیمی بدایونی علیہ الرحمہ مذکورہ حدیث مبارکہ کی تشریح میں  فرماتے ہیں:‘‘شرک عملی ہے مشرکوں کاسا  کام یاشرک خفی۔۔۔معنی یہ ہیں  کہ ہم مسلمانوں سے جو کوئی بد فالیاں لیتا ہے تو وہ خطرات و شبہات میں پڑجاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس شبہ و خطرہ کو توکل کے ذریعہ ختم فرمادیتا ہے کہ جوکوئی توکل اختیار کرے وہ ان شبہات میں نہیں پڑتا ۔ اس مطلب کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے احمد، طبرانی نے حضرت عبد اللہ ابن عمر و سے مرفوعا روایت کیا کہ جسے بدفالی اس کے کام سے روک دے وہ مشرک ہوگیا ، اس کا کفارہ یہ ہے کہ یہ کہہ لے ’’اللھم لاخیر الاخیر ک ولا طیر الا طیرک ولاالہ غیرک’’۔ملخصا(مرآۃ المناجیح، فال اور بد فال کا بیان،ج:۶،ص:۲۲۲،نعیمی کتب خانہ گجرات)

ماہ صفر کے آخری چہار شنبہ(بدھ)کی شرعی حیثیت

بعض نااہل حضرات ماہ صفر کے آخری بدھ کو  دھوم دھام سے خوشی کی تقریب مناتے ہیں ،خوب خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور مٹھائیاں وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔جبکہ شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ، لوگوں میں یہ غلط مشہور ہے کہ رسول کریم ﷺ صحت یاب ہوئے تھے ۔ حالانکہ روایتوں میں آتا ہے کہ  اس دن رسول اللہ ﷺکا مرض اور بڑھ گیا تھا ، لہٰذا یہ خوشی کا دن ہر گزنہیں ہوسکتا ،بلکہ یہودو نصاریٰ خوش ہوسکتے ہیں ۔اور ممکن ہے انہیں لوگوں نے یہ خبر اڑائی ہو۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ و الرضوان ایک سوال( کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ صفر کے اخیر چہار شنبہ کے متعلق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز حضرت محمد ﷺ نے مرض سے صحت پائی تھی۔ بنابر اس کے اس روز کھانا شیرینی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کو جاتے ہیں علی ہٰذا القیاس مختلف جگہوں میں مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نحس و مبارک جان  کر گھر کے پرانےبرتن گلی توڑڈالتے ہیں ۔۔۔الخ )کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم ﷺ کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی۔ اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور ایک  حدیث مرفوع میں آیا ہے۔ اخراربعا من الشھر یوم نحس مستمر۔ اور مروی ہو ابتدائی ابتلائے سیدنا ایوب علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ  و التسلیم ۸۰ دن تھی۔ اسے نحس سمجھ کر مٹی کے برتن توڑدینا گناہ و اضاعت مال ہے ۔بہر حال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم‘‘احکام شریعت ،مسئلہ:۹۳ ، حصہ: ۲،ص:۱۹۲) اور حکیم الامت حضرت علامہ مفتی یار خاں نعیمی بدایونی علیہ الرحمہ  تحریر  فرماتے ہیں:’’بعض لوگ صفر کے آخری چہار شنبہ کو خوشیاں مناتے ہیں کہ منحوس شہر چل دیا یہ بھی باطل ہے‘‘۔(مرآۃ المناجیح، فال اور بد فال کا بیان،ج:۶،ص:۲۱۹،نعیمی کتب خانہ گجرات)۔

اور فتاویٰ بحرالعلوم میں حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ ایک سوال(کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ  ذیل میں کہ ، صفر کی آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل ہے یا نہیں ؟بہت سی جگہ لوگ بڑے اہتمام سے وضو کرتے ہیں ۔پرانے برتنوں کو توڑ تے ہیں اور نئے برتنوں میں عمدہ کھانا پکاتے ہیں  اور روح اقدس ﷺ کو نیاز کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ اسی دن حضور ﷺ کو صحت حاصل ہوئی تھی۔حضور اقدس ﷺ نے غسل صحت فرمایا اور صحابہ کرام کے ساتھ جنگل میں تشریف لے گئے۔بعض دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں کہ آخری بدھ کو حضور اقدس ﷺ کو مرض وصال شروع ہوا تھا، اس  دن مدینہ کے یہودیوں نے خوشی منائی تھی،صحیح کیا ہے؟مطلع کریں!) کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’آخری چہار شنبہ کے نام پر مسلمانوں نے جو رسمیں ایجاد کرلی ہے ۔شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے  حدیث شریف سے اس کے خلاف ثابت ہے۔ ارشاد نبوی ہے:’’لاھامۃ ولاصفر‘‘(مشکوٰۃ:حدیث:۴۵۷۷) الو کے بول اور صفر کوئی چیز نہیں ،ہاں روایتوں سے ثابت ہے کہ اس دن رسول ﷺ کا مرض بڑھ گیا تھا۔واللہ تعالیٰ اعلم‘‘(فتاویٰ بحرالعلوم،کتاب الحظر و الاباحۃ،ج:۵،ص:۲۶۶/۲۶۷)

خلاصہ کلام

حاصل کلام یہ کہ نہ قرآن مقدس ،احادیث کریمہ اور نہ ہی اقوال فقہا  سے ثابت ہے  کہ یہ مہینہ نحوست والا ہے یا  اس  میں آفتوں اور مصیبتوں کا نزول ہوتا ہے۔بلکہ اس کے منحوس ہونے کے بارے میں گماں بھی نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ اس مہینہ کا نام ہی ہے ’’صفر المظفر‘‘ جس کا معنی ہے کامیابی کا مہینہ۔جس کے اندر خیر وبرکت پوشیدہ ہو بھلا وہ  آفتوں اور مصیبتوں کا مہینہ کیسے ہوسکتا ہے؟الغرض:مذکورہ روایت کا ماہ صفر کے نحوست سے دورکا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور نہ  ہی آخری چہار شنبہ کی کوئی حقیقت ہے۔اللہ رب العزت ہم سب کو عقل سلیم  عطا فرمائے۔آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلینﷺ

91-8979256335


الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں


مزید پڑھیں:
  • Posts not found

Leave a Comment