نئی تعلیمی پالیسی 2020 مواقع اور اندیشے(قسط2)
از۔محمدقمرانجم فیضی
قارئین کرام ۔جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نئی قومی تعلیمی پالیسی ‘میک ان انڈیا ، اسکیل انڈیا ، اسٹارٹ اپ انڈیا اور خود کفیل ہندوستان مشن کو کامیاب بنانے کے لئے انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ علم۔ سائنس ، تحقیق ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کو شامل کرتے ہوئے ہندوستان کے عالمی گرو بننے کے عزم میں معاون ثابت ہوگا۔
(3)ڈیجیٹل لرننگ رِسورسز، آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل تعلیم کے نام پرتقسیم کرنا، جس کے ذریعے (100) اعلیٰ یونیورسٹیز میں آن لائن تعلیم شروع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ پسماندہ اور غریب طبقات کو تعلیمی عمل سے بے دخل کرنے کی ایک شاطرانہ چال اور مذموم سازش نظر آرہی ہے۔نئی تعلیمی پالیسی میں ڈیجیٹل اور آن لائن ایجوکیشن اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی بات بہت زوروشور سے ضرورکی گئی ہے لیکن ٹیکنالوجی کے فروغ،اس کی وسعت پذیری اور طلبہ کا ٹیکنالوجی تک رسائی جیسے اہم اقدامات کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی ہےجس سےیہ اندیشہ لاحق ہوتاہےکہ غریب طبقات کو ڈیجیٹل لرننگ رِسورس کےنام پر تعلیمی عمل سے بےدخل کیا جائے گا (4)اعلیٰ تعلیم میں رکاوٹ ڈالنا،
تعلیمی امور کی (نصاب کی تیاری وغیرہ)آزادی میں یکسانیت اور مرکزیت ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہے تمام یونیورسٹیوں، کالجوں اور انسٹی ٹیوٹ کے لئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ذریعہ امتحانات کے انعقاد کو سنٹرلائز کرنا اگرچہ مثالی معلوم ہوتا ہے لیکن یہ یو نیورسٹیوں اور خود مختاری کے نظام کے تحت چلنے والے کالجوں ، یونیورسٹیوں کی خود مختاری کو تسلیم کرنےکےبجائے انکار کے مترادف ہے۔اگر چہ (NEP)تکرنا۔
امور ونصاب وغیرہ کے بوجھ کو کم کرنے کی بات کرتی ہے لیکن (NEET) اور دیگر تمام ریاستوں کے امتحانوں کے انعقاد کا معاملہ مرکزی ایجنسیوں (NTA) اور اس جیسی دیگر ایجنسیوں کو سپرد کرتے ہوئے پریشانیوں اور مسائل کے ایک نئے سیلاب کو دعوت دینےکے مواقع بھی فراہم کرارہی ہے(5)تعلیم کا بھگواکَرَن،
نصاب میں تین زبانوں کی پالیسی برقرار رہےگی، البتہ مادری زبان، مقامی زبان 5 ویں جماعت یا8 ویں جماعت تک ہی تعلیم کا ذریعہ ہوگی۔چھٹی جماعت سے سہ لسانی فارمولا اختیار کیا جائے گا۔ مقامی زبانوں کے علاوہ درج فہرست زبانوں میں سے علاقائی اعتبار سے زبانیں پڑھائی جائیں گی، سنسکرت کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انگریز ی زبان پر توجہ کم کر دی جائے گی۔ اساتذہ کو درس و تدریس کے علاوہ دیگر حکومتی و ترقیاتی کاموں کی زحمت نہیں دی جائے گی۔ ان کی الیکشن کے موقع پر ڈیوٹی یا سرکاری اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کے انتظامات کی ذمہ داری بھی نہیں ہوگی۔ استاد کا کام صرف پڑھانا ہوگا اور معیاری تعلیم کی طرف توجہ مرکوز کرنا ان کی اہم ذمّہ داری ہوگی۔
کیا یہ فراہمی ممکن ہو پائے گی؟ کیا یہ صرف ایک اشارہ ہے چین،جنوبی کوریااور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ تعلیم انجینئرنگ،میڈیسن ان کی اپنی مقامی زبانوں میں دستیاب ہے۔ہمارے ملک میں اگر نیٹ(NEET)،آئی آئی ٹی (IIT)جے ای ای (JEE)جیسے امتحانات انگریزی میں منعقد کئے جاتے ہیں تو کیا والدین اپنی مادری زبان میں بچوں کو پڑھانا پسند کریں گے؟ اس طرح کےکئی اندیشےہیں جن کےجوابات اگر یہ پالیسی نہیں دے سکتی ہے تو کیا پھر اسے صرف کھوکھلے مثالی پن کے دعوی داری کی ایک علامت سمجھاجائے؟
دوسری زبانوں کے مقابلے میں سنسکرت زبان کے عروج و ارتقاء کو زیادہ ترجیح دینا مودی حکومت کا اولین مقصد ہے اور سنسکرت زبان کو ملک کی دیگر کلاسیکی زبانوں کے مقابلے میں فوقیت دینا،سنسکرت کوقومی زبان کے طور پر ترقی و ترویج دینے کےلئے ایک پلان تیار کیا گیا ہے جس کا جیتاجاگتا ثبوت دوسری قومی زبانوں کو پالیسی میں شامل تو کرنا، مگر زیادہ زور سنسکرت زبان کی ترویج واشاعت پر دینا،انکی متعصابہ چشمک منصوبوں کا یہ بھی ایک مظہر ہے۔ اگرچہ نئی تعلیمی پالیسی میں دوسری زبانوں کی بات ضرورکی گئی ہے لیکن سنسکرت پر زیادہ زور دینے سے حکومت کی ترجیحات کا پتا چلتاہے۔اس کے علاوہ حکومت کی تمام تر توجہ ہندوستان کے قدیم تعلیمی نظام اور طریقہ تعلیم پر مرکوز کرنے کی کوششوں سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ مختلف ادوار و مراحل میں تیارکردہ و ترقی یافتہ تعلیمی تجربات و طریقوں کو حکومت یکسر نظر انداز اور مسترد کرتے ہوئے کھلم کھلا تعصب ومنافرت کا اظہار کررہی ہے۔تعصب اور علم دشمنی پر مبنی اس طرح کی پالیسوں سے ملک کو شدید نقصان پہنچنےکےاندیشے ہیں، (6)پوسٹ گریجویشن کورسس اب 3 سال کے بجائے 4 سال تک کردینا، (ایم،فل) ماسٹر آف فلاسفی، کورس کو ختم کرنا اورانٹگریڈڈ پروگرام میں (ایم،اے)کی میعاد کو کم کرنے کی پالیسی کو تیار و منظور کرنے والوں کی ریسرچ و تحقیق کے بارے میں فکر و فہم کی اور لیاقت پر سوالیہ نشان ابھرنے لگے ہیں۔ جب کہ (ایم،فل) ایک تربیتی میدان ہے جس سے تحقیقی جذبے کو فرو غ ملتا ہے۔ ایم فل کے خاتمے سے حکومت کی جانب سے تحقیق کے لئے فنڈز اور مالی امدادمیں تخفیف وکمی کا واضح اندیشہ ہےنیز ڈی ایڈ، دوسالہ بی ایڈ، کی جگہ چارسالہ بی ایڈ اب تدریس کا معیار ہوگا ،(7)نئی تعلیمی پالیسی میں طلبہ کوکمزورکرنا۔طلبہ تنظیموں کے پرزور مطالبے اور تحریکوں کے باوجود خانگی تعلیمی ادارہ جات میں قانون وعدلیہ کی جانب سے فراہم کردہ لازمی تحفظات کی ضرورت واہمیت اور ریزرویشن پالیسیوں کو منظم طریقے سے نافذ کرنے کے مثبت اقدامات کا کہیں بھی کوئی ذکر نہیں ملتا،اور مزید یہ کہ اس پالیسی کے ذریعے آئین کے وفاقی ڈھانچے کو مشق ستم بنایا گیا ہےتعلیم چونکہ قانون کی متوازی فہرست میں شامل ہے،اور یہ شق بے شک مرکز اور صوبائی حکومتوں کے مابین مشاورت اور ہم آہنگی کا مطالبہ کرتی ہے لیکن ملک کے طول و عرض میں اس کے یکساں نفاذ سے مرکز ی حکومت منع بھی کرتی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس نکتہ پر کسی قسم کی کوئی توجہ نہ دینے سےقانون و عدلیہ کے وفاقی ڈھانچےاور اس شق کی معنویت وآفاقیت کو شدید نقصان پہنچنےکے مکمل اندیشے ہیں، (8)تعلیمی بجٹ 6%فیصدکرنا،
ملک کی اولین تعلیمی پالیسی(کوٹھاری کمیشن1968ء) کو نافذ کرنے سےلےکر آج تک بجٹ کا 4%فیصدجی ڈی پی(GDP)تعلیمی اخراجات کے لئےمتعین ہوتاتھا مگر اس بار %6 فیصدہوگا، ہرچندکہ یہ بھی خاطر خواہ نہیں ہے مگر اسے بجٹ میں اضافے کی ابتداء مان کر آگے بڑھا جاسکتاہےاگر یہ بجٹ پورا کا پورا خرچ تعلیمی اخراجات میں ہوتاہے اور جہاں ضروری ہے
وہاں خرچ کیاجاتاہے تو اس سے حسب توقع فائدہ ہونے کے مواقع ملیں گے، مگر ایسے حالات میں جب کہ ملک اپنی تاریخ کے بدترین معاشی مالی، اقتصادی بحران والی دور سے گزررہاہے۔حکومت کے اس مالی امداد واعانت کے دعوؤں کی قلعی بھی اس بات سے پوری طرح کھل جاتی ہے کہ تعلیمی سرمایہ کاری اور اخراجات کا بوجھ ”خانگی مخیر حضرات "کی صورت میں مرے دبے کچلے ہوئے عوام کے کندھوں پر ایک اور ظلم وجبر کا بوجھ ڈال کر حکومت اپنی علمی وعملی ذمہ داریوں سے سبکدوشی اختیار کرچکی ہے۔
(9)پرائیوٹ، پارٹنر شپ ایک سازش،
پروگرام اسکولی اور اعلیٰ تعلیم دونوں جدید تعلیمی پالیسی کی آڑ میں بھولے بھالے عوام کا خون چوسنے والے کارپوریٹ اداروں کے دست میں دینے کے سوا کچھ اور نہیں نظر آرہاہے۔ اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے بنیادی قومی شعبوں کو خانگی و نجی اداروں کے حوالے کرتے ہوئے اور خانگی تعلیمی نظام کو فروغ دیتے ہوئے حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی سےراہ فرار اختیار کرنےکے مواقع تلاش کررہی ہے۔اور نئی تعلیمی پالیسی میں لفظ خانگی ،نجی
پرائیوٹ کے بجائے(عوامی فلاحی شراکت) استعمال کرتے ہوئے حکومت عوام کو گمراہ کررہی ہے۔اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ عوام اور رضاکار مخیر افراد و اداروں کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے حکومت اپنی ذمہ داریوں و فرض منصبی سے نہ صرف پہلوتہی بلکہ راہ فرار اختیار کے مواقع تلاش رہی ہے۔
اس قسم کی فرائض اور ذمہ داریوں سے پہلو تہی ملک کی آزادی سے لےکرتادم تحریر کسی حکومت کے دوراقتدار میں دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔لیکن مودی حکومت عوامی فلاحی شراکت داری کی آڑمیں اسکولوں کے معیار انفراسٹرکچر کو یقینی بنانے سے مجرمانہ فرار اختیار کررہی ہے۔ پبلک،فلانٹرافسٹ پارٹنر شب کے نام پر اسکولوں و اسکولی تعلیم کو چند پیسوں والے افراد کی صوابدید پر چھوڑدینے کی کوشش یقینا قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے
اس طرح کا کوئی بھی قدم ملک کے اسکولی تعلیمی نظام کو کارپوریٹ سیکٹر اور نجی افراد کے حوالے کرتے ہوئے غریب طلبہ کے حصول تعلیم و ترقی کے خوابوں کی تکمیل کو چکنا چور کرنے کے مترادف ہوگا۔اس طرح کے اقدامات سے تعلیمی تجارتی کو فروغ ملے گا اور تعلیم ایک بکاؤ چیز بن کر رہ جائے گی۔غریب اور پسماندہ خاندان کے بچوں کے لئے اس طرح کی حکمت عملیاں انھیں تعلیم کے حصول سے یکسر محروم کردے گی۔ملک کی تقدیر اور سرمایہ پہلے ہی چند افراد تک محدود ہے یہ پالیسی ان کی اجارہ داری کو مزید تقویت دے گی۔غریب اور پسماندہ خاندانوں کی زندگیاں جہالت اور علمی کی کمی کی باعث ظلمتوں کی نذر ہوکر مزید اجیرن ہوجائے گی، (10)سرکاری عربی مدارس وجامعات کو بند کرنا،ہندوستان میں نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے ذریعے گروہی تنظیم جیسے اسکول کمپلیکس کےنام پر بہت ہی منظم طریقے سے سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کی کوششوں کی راہ ہموارکی گئی ہے۔اکثر کم انرول مینٹ کی شرح (بچوں کے کم شرح داخلہ)اور معاشی مسائل کوسرکاری مدارس بند کرنے کی وجوہات میں نمایاں کرکے بتا یا جاتا ہے۔جبکہ ہر کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے کہ سرکاری مدارس میں طلبہ کی شرح داخلہ میں کمی کی اصل وجہ حکومت کی جانب سے خانگی اداروں کی حوصلہ افزائی اور ان کے فروغ کے لئےساز گار حالات کے مواقع فرہم کرنا ہے۔سرکاری مدارس میں تعلیمی سہولتوں پر فنڈس و سرمایہ لگانے سے حکومت کا گریز و اجتناب سرکاری مدارس کے معیار اور مقبولیت میں کمی کی سب سے اہم وجہ ہے۔ نقائص ووعیوب کو دور کرنے کے بجائےیہ پالیسی سرکاری عربی مدارس وجامعات کی مسدودی کےعمل کو مزید تیز تر کردینےکے مواقع میسر کرا رہی ہے، (11)نجی اسکولوں کولُوٹنےکا راستہ صاف کرنا، تعلیمی اداروں کے سیلف ریگولیشن یا الحاق کی منظوری کے سلسلے میں تعلیم نظام کے تمام مراحل ،من جملہ پری اسکول کی تعلیم سے لےکردیگر سطحوں پر پرائیویٹ پبلک فنڈ ٹرافسٹ طریقے کو رائج کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے تاکہ معیار کے ضروری تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔ ریاست میں اسٹیٹ اسکول اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایس ایس ایس اے۔SSSA) کے نام سے ایک آزاد ادارہ قائم کیا جائے گا۔ معیار کے حصول اور اسے یقینی بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ اقدام دینی مدارس و جامعات کو نجی شراکت داروں کی صوابدید پر چھوڑدینے اور ان امور سے حکومت اپنا پلہ جھاڑ لینے کی ایک مذموم کوشش کررہی ہے۔یہ عمل بھی بالکل اسی عمل کی ایک کڑی اور تسلسل ہے جس طرح سے ملک کی معیشت کو مختلف شعبوں کا نجی کرن کرتے ہوئے تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔
(12)پبلک فنڈڈ یونیورسٹیوں اور کالجوں کوختم کرنا۔
اسکولی تعلیم کی طرح بڑی کثیر جہتی یونیورسٹیز، کالجس اور ایج ای آئی، اور نالج ہبس جیسے اداراجات اور علمی مراکز کے قیام کی تجویز پیش کرتی ہے جہاں 3000 اور اس سے زیادہ طلبہ کو داخلہ دیا جائے گا۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ چھوٹی یا درمیانے درجے کی سرکاری فنڈز سے چلنے والی یونیورسٹیوں، کالجوں یا انسٹی ٹیوٹ کو بڑی کثیر جہتی یونیورسٹیوں کے قیام کے نام پرتالہ لگادیاجائے گا۔ انتہائی متعصب انداز میں اس پالیسی کے ذریعہ بڑی دینی مذہبی جامعات کی تعمیر کے نام پر کالجوں کو بند کرنے کے لئے ‘نالندا اور تکشاشیلہ’ جیسے ناموں کے سہارےسے اپنی بدنیتی کو چھپانے کے مواقع تلاش کئےگئے ہیں، (13)نئی تنظیم کے نام پر عوامی چندے کوروکنا،
تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے(HEI’s) ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا (HECI)کے زیر انتظام ہوں گے۔(HEI’s) سے متعلق امور کی نگرانی کے لئے (HECI) کے تحت کئی ضمنی اداروں کاقیام عمل میں لایاجائے گا۔ اعلیٰ تعلیم کے تما م شعبے بشمول اساتذہ کی تعلیم و تربیت سوائے قانون اور میڈیسن کی تعلیم کی نگرانی کا کام انجام دینا والا نیشنل ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری کونسل (NHERC) واحد نگران ادارہ (Single Point Regulator) ہوگا۔نیشنل ایکریڈیشن کونسل (NAC)تعلیمی اداروں کو منظوری و الحاق فراہم کرنے والا دوسرا ادارہ ہوگا۔ہائرایجوکیشن گرانٹس کونسل(HEGC)تیسرا ادارہ ہوگا جو مالی امور (فنائنسنگ) کی انجام دہی کرے گا۔تعلیمی معیار کی نگرانی کے لئے جنرل ایجوکیشن کونسل(GEC)چوتھا ادارہ ہوگا۔اس طرح کے کئی شعبوں اور اداروں کے قیام کا تکنیکی طور پر یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ سرکار یوجی سی (UGC)اور اس جیسے موجودہ کئی اداروں کے وجود کو ختم کرتے ہوئے اپنی سیاسی طاقت،زور اور توانائی کے ذریعے ملک کے کثیر جہتی تعلیمی نظام کوصرف اپنے نظریات کے مطابق بنانا چاہتی ہے۔ یہ تمام اقدامات،ادارجات میں ربط ضبط و ہم آہنگی کی بات صرف اور صرف تعلیم کے لئے مختص خود مختار فنڈنگ نظام کو سیاسی کنٹرول فراہم کرنے کے لئے کئے گئے ہیں۔اس طرح کے اقدامات سے پہلے ہی سے سیاسی و سرکاری رشوت خوری کی وجہ سے ادھ مرا نظام مزید کرپشن کا شکار ہوکر سماجی اضطراب کے باعث بدترین نمونہ بن جانےکے100%فیصدی اندیشے ہیں (14)روہت ویمولا قتل کیس، روہت ویمولا نے اپنی ساری زندگی علم کے میدان میں لگا دی تھی اور جب ملک میں رواداری اور عدم رواداری کا معاملہ ٰآیا تو اس نے رواداری کا ساتھ دیا، اور فرقہ پرست پارٹیوں کے خلاف صدا بلند کی سے
جس کی وجہ اسکو ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا اور
اسکا بائکاٹ کیاگیا، اور پھر سیاسی دباؤ ڈالا گیا
جس کی بنیاد پر روہت ویمولانے خودکشی کرلی،
ہندوستان کے طلباء بناکسی ذات ،مذہب،فرقہ، کے حق کی آواز ہمیشہ بلند کرتے رہتے ہیں،اوراس طرح کے متعدد واقعات سامنے آنے کے باوجود قومی تعلیمی پالیسی ہندوستانی تعلیمی نظام میں پائے جانے والے امتیازی سلوک کے وجود کو تسلیم کرنے سے قاصرہے۔ اس مسئلے کوقومی تعلیمی پالیسی صرف پسماندہ طلبہ کے تال میل(ایڈجسٹمنٹ) کے ایک چھوٹے مسئلہ کے طور پر دیکھتی ہے۔معاشرتی تفریق اور انصاف کے فقدان کے باعث ادارہ جاتی قتل کے وارداتیں بھی ہمارے تعلیمی نظام میں ایک ناسور کے طور پر پھیلتے ہی جارہی ہے۔پالیسی کا اس اہم مسئلے سے روگردانی تشویش ناک کا باعث ہے(15)نجی یونیورسٹیوں کو فروغ دینے اورچندہ دینے کی وکالت کرنا،
نئی تعلیمی پالیسی میں بار بار تعلیم میں نجی سرمایہ کاری اور انسانی سخاوت(Philanthropist) کی ’اہمیت‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ نجی اورکاروباری اداروں کو ہائر ایجوکیشن میں اپنے کاروبار کو وسعت اور فروغ دینے کا ایک واضح پیغام ہے۔ بلکہ حکومت کی جانب سے ان کی مالی اعانت کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ یہ مخیر انسان وحضرات کون ہوں گے۔ یہ اعلیٰ تعلیم کوکارپوریٹ اور نجی کنٹرول میں دینے کی ایک شاطر چال کے سوا کچھ اور نہیں ہے،ایک طرف الحاق و معیار کے نام پر عوامی فنڈز سے چلنے والی جامعات کو بند کرنے کا (NEP)ایک ڈیزائن بناتی ہے وہیں دوسری جانب یہ نئے ہائر ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کو کھولنے کے لئے بہت ہی کم اصول و ضوابط کا وعدہ کرتی ہے۔اس دوغلی منافقانہ پالیسی سےبات بلکل صاف عیاں ہے کہ اصول و ضوابط، قانون، اغراض ومقاصد کو کم کرتے ہوئے نئے ادارہ جات کو اجازت دے کر معیار اور معیار کی برقراری اور اس کی دیکھ بھال نہ کرنے کا حکومت ایک مذموم ومقہور ارادہ رکھتی ہے۔اس طرح کی پالیسی سے فیس میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا۔یہ پالیسی تعلیمی مافیاؤں کے لئے سونے کا انڈادینے والی مرغی سے کم نہیں ہوگی۔نئی تعلیمی پالیسی واضح طورپر اعلیٰ تعلیم میں فیس کے اضافے کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے حصول سے پسماندہ اور غریب عوام کو دانستہ طور پر محروم کرنےکے مواقع دےرہی ہے
مضمون نگار۔روزنامہ شان سدھارتھ سدھارتھ نگرکےصحافی ہیں۔رابطہ نمبر-6393021704
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مزید پڑھیں:
