بلقیس بانو : اکثریتی سماج کے ظلم اور حیوانیت کی جیتی جاگتی مثال !!
مسلم دشمنی میں اندھے ہو چکے اس وحشی ٹولے نے بلقیس کی آنکھوں کے سامنے تین سالہ صالحہ اور یک روزہ نومولود بچی کو نہایت بے دردی کے ساتھ پتھر پر پٹک پٹک کر مار ڈالا۔
مسلم دشمنی میں اندھے ہو چکے اس وحشی ٹولے نے بلقیس کی آنکھوں کے سامنے تین سالہ صالحہ اور یک روزہ نومولود بچی کو نہایت بے دردی کے ساتھ پتھر پر پٹک پٹک کر مار ڈالا۔
آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان انگریزوں کی غاصبانہ اقتدار سے قبل اس ملک میں مسلمانوں کی شاندار تاریخ رہی ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں نے نہ صرف حکومت کی بلکہ سیاسی، سماجی، عدل و انصاف اور اخوت و محبت کی لازوال مثالیں بھی قائم کیں۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کر دینا بھی درست … Read more
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل ہوئی۔ اس جنگ میں علمائے کرام نے سب سے زیادہ حصہ لیا۔ان علماء کرام میں ایک علامہ فضل حق خیرآبادی ( متوفی ۱۲۷۸ھ/ ۱۸۶۱ء ) تھے
آزادی کی قدر و منزلت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو ۔ زندہ قومیں اس بیش بہا نعمت کا سودا کسی قیمت پر نہیں کرتیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر آزادی کی نعمت کا حصول ممکن بناتی ہیں۔
تارک السلطنت حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی انھیں ستودہ صفات بزرگوں اور مقربین بارگاہ میں سے ہیں جنھوں نے دنیا کو ذرے کی سی بھی حیثیت نہیں دی ,سمنان کے موروثی بادشاہت و سلطنت,تخت و تاج کو صرف رضائے الہی کی خاطر ترک کر دیا,طاؤس و رطاب, آرام و لطف,راحت و آسائش والی اور شاہانہ زندگی کو خیرباد کہہ کر فقیرانہ زندگی اختیار کی اور راہ سلوک کا مسافر بن گئے۔
اس وقت وطن عزیز ہندوستان میں 75/ واں یومِ آزادی بڑی تزک واحتشام کے ساتھ منایا جارہا ہے- لیکن یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج کے دن لوگ تحریک آزادی میں پسینہ بہانے والوں کو تو خوب یاد کرتے ہیں لیکن خون بہانے والوں کو فراموش کر دیا جاتاہے،
سوشل میڈیا ایک ایسا غیر منظم بازار ہے، جس میں جاہلوں کی کثرت ہے، اگر کوئی اچھی اور سنجیدہ گفتگو ادب کے دائرے میں بھی کرتا ہے توبہت سے عالم نما جاہل، بازاری حرکتوں پر اتر آتے ہیں، جن کی باتیں بے سروپا ،دلیل سے خالی اور مغلظات سے بھر پور ہوتی ہے۔
کوئی انسان دنیا میں ایسا موجود نہیں جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیز نہ رکھتا ہو، اس ضمیر میں لازماً، بھلائی اور برائی کا ایک احساس پایا جاتا ہے، اور چاہے انسان ، کتنا ہی بگڑا ہوا ہو، اس کا ضمیر، اسے کوئی برائی کرنے اور کوئی بھلائی نہ کرنے پر ضرور ٹوکتا ہے،یہ (احساس) اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان نِرا حیوان نہیں بلکہ ایک اخلاقی وجود ہے،
یہاں عوام کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے کہ کوئی کسی سنی عالمِ دین پر اعتراضات یا بکواسات کر رہا ہو تو وہ جان لیں کہ اگر علمِ دین کی توھین کی نیت سے کچھ کہا تو کافر ہو جائے گا معاذ اللہ اور اس سے تجدید ایمان، تجدید نکاح، تجدید بیعت لازم، اور اگر علمِ دین کی توھین مقصود نہیں
وطن سے محبت کے بغیر کوئی قوم آزادانہ طور پر عزت و وقار کی زندگی گزار نہیں سکتی، اپنے وطن کو دشمن قوتوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ جس قوم کے دل میں وطن کی محبت نہیں پھر اُس کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے