اعلی حضرت اور ذکر خدا عزو جل!!

ــ اعلی حضرت اور ذکر خدا عزو جل ــ!!

 شمس الـزماں خان جامعی صـابری "مظفرپور”


اعلی حضـرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے علو مرتبت کا راز یہ ہے کہ سرکار اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا عمل اس حدیث پر کامل طریقے سے تھا "لاتکثر و الکلام بغیر ذکراللہ "اللہ کا نام لیے بغیر زیادہ بات چیت نہ کرو ـ ۔
ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے بارے میں یہ جـاننا ہو کہ وہ کتنا بڑا اللہ والا ہے اس کے پاس بیٹھو اس کی باتیں سنوں جس کی مجلسوں میں جس کی باتوں میں جتنا زیادہ اللہ کا نام آئیگا سمجھ جاؤ کہ وہ اتنا ہی بڑا اللہ والا ہے الحمد للہ جب میں اعلی حضرت کو پڑھتاہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مجلس ان کی ایسی نہیں جو ذکر اللہ سے خالی ہو ان کی تصنیف کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو اللہ کے ذکر سے خالی ہو ہر صفحے پر "سبحان اللہ ” الحمد للہ”بحمد اللہ "و بااللہ توفیق”بفضلیہ تعالی”بعون الملک الوھاب” اس طرح کے تسبیح و تحمید والے کلمات ملے نگے اور یہ بھی کہ کوئی فتوی ایسا نہیں جو ذکر اللہ سے خالی ہو ہر فتوی کے شروع یا آخر میں یہ لکھاہوتا”واللہ تعالی اعلم” ولہ الحمد وھو تعالی اعلم ” ــ

اعلی حضرت سرکار فاضل بریلوی علیہ الرحمہ اپنے اشعار میں یوں ذکر خدا کرتے ہیں:

ع وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا ــ

اور نصیحت ــ

اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اکتاتا
خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے ــ
اور
تو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دھلیں
کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا ـــ

یہ تو میں نے مثال میں دو تین اشعار رکھیں ہیں یوں تو سیکڑوں اشعار ایسے ہیں جس میں خدا کی یاد ذکر خدا کی تلقین خوف خدا کا پیغام موجود ہے اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کی اس پہلو سے سارے عشاق کو یہ پیغام دے دیا کہ تمـہارا وجود بھی ذکرخدا میں اسی طرح مصروف رہے اور خوف خدا دل میں ہمیشہ ہے اور ہمیشہ یہ تصور بھی رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے قارئین اعلی حضرت سرکار کو ان کی زندگی کہ اس پہلو نے انہیں عالم السلام میں ایک بڑا مقام بخشا ہے ہمیں اور آپ کو بھی ان کی اس تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے بس اپنے قلم سے نکلے ہوئے کچھ اشعار کے ساتھ اپنے قلم کو روکتا ہوں ـ۔

ہند کی دھرتی پہ سلطان جہاں کا معجزہ، میرا رضا
مــــنبع علــم شــریعت، مــرشد راہ ھدی، میرا رضا

مفتی و عالم ہو، عابد ہو کہ کوئی منطقی، ہر آدمی
فخر سے کہتا ہے سینہ ٹھوک کر یہ برملا، میرا رضا

پیشوائے اہل سنت کون ہے پوچھا گیا، میں نے کہا
ہے بریلی شہر میں اے’’شمس‘‘ وہ جلوہ نما، میرا رضا ـ

اللہ تعالی ہم تمامی کو اعلی حضرت کے فیضان سے مالامال کرے اور ان کی سیرت کو اپنانے کی توفیق و رفیق بخشے ــــ!!

 شمس الـزماں خان جامعی صـابری "مظفرپور”


الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں


مزید پڑھیں:
  • Posts not found

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

گنبد اعلیٰ حضرت

حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم: فیضان رضا علیمی

یوں تو حضور جیلانی میاں علیہ الرحمہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری نے بسم اللہ خوانی کے وقت ہی جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما دی تھی اور آپ کے والد ماجد نے بھی ۱۹ سال کی عمر شریف میں ہی اپنی خلافت اور بزرگوں کی عنایتوں کو آپ کے حوالہ کر دیا تھا لیکن باضابطہ تحریر ی خلافت و اجازت ، نیابت و جانشینی اور اپنی ساری نعمتیں علامہ حامد رضا خان قادری نے اپنی وفات سے ڈھائی ماہ قبلہ ۲۵۔

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: