اے شہر امن پھر آئیں گے !!
غلام مصطفی نعیمی ہاشمی
نزیل حال حرم مکہ مکرمہ
آٹھ دن کس طرح گزر گیے پتا ہی نہیں چلا۔ سچ پوچھیے تو یہاں آکر کئی بار دن تک کا خیال نہیں رہتا۔ صبح سے شام تک، رات سے روشنی تک ہر ایک لمحہ دلوں کو چین اور روحوں کو قرار عطا کرتا ہے۔ ہر قدم پر بندگی کے مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔ کہیں زار و قطار روتی ہوئی آنکھیں خود کو بھی ندامت کا احساس کراتی ہیں۔ تو کہیں مسکراتے ہوئے چہرے رحمت ربی پر یقین کا بھروسہ دلاتے ہیں۔
🔹یہی وہ شہر امن مکہ ہے جس میں داخل ہونے والا ہر شخص مامون ہو جاتا ہے۔ 🔸جس کی خشک وادیوں کی زیارت سے ایمان سر سبز و شاداب ہوتا ہے۔ 🔹جہاں پہنچ کر رنگ و نسل اور زبان و بیان کی سرحدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ 🔸جہاں ہم جیسے کتنے ہی عجمیوں کے پیچھے اہل عرب مقتدی بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 🔹یہی وہ شہر ہے جسے رب نے "اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ” کہہ کر دائمی رفعت عطا فرمائی۔ 🔸اسی شہر مقدس کو "مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ” کہہ کر ہمیشہ کی سرداری کا تاج پہنایا گیا۔
مکہ مکرمہ کی گلیاں اور روحانی کیفیات
مکے کی گلیاں دن میں روشن اور رات میں تابناک نظر آتی ہیں۔ ہر دوسرے لمحے یہاں ایک الگ کیفیت ہوتی ہے۔ صحن کعبہ میں کبھی بلند آواز سے پکارنے کا مَن ہوتا ہے تو کبھی زبان خود بخود بند ہوجاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے جسم کا روم روم رب سے ہم کلام ہو رہا ہو۔ کبھی عربی عبارات زبان پر رواں ہوتی ہے تو کبھی علاقائی صدائیں بے چین دلوں کی بے چینیاں ظاہر کرتی ہیں۔ پُر سکون طواف کرتے ہوئے اچانک ہی کسی دیوانے کی آہ دلوں کو تڑپا دیتی ہے۔ مظلومی امت پر فریاد کرتی ہوئی صدائیں کسی بھی پر سکون انسان کو احساس درد میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ غرضیکہ مکہ مکرمہ خود میں ان گنت رنگ اور نشانیاں لیے ہوئے ہے۔ ہر ایک انسان اپنے ذوق اور عطائے ربی کے مطابق اپنا حصہ نصیب پاتا ہے۔
رحمت کی بارشوں میں نہانا اور رخصتی کا لمحہ
ایک ہفتے تک رحمت و کرم کی بارشوں میں نہانے کے بعد جب آخری طواف کیا تو کعبہ معظمہ سے رخصت ہوتے وقت آنکھیں چھلک سی آئیں۔ خاموش نگاہوں اور جذبہ بندگی کے ساتھ اتنا عرض کرتے ہوئے رخصتی کی راہ لی:
شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا
تو نے اپنے گھر بلایا میں تو اس قابل نہ تھا
22 رجب المرجب 1447ھ 11 جنوری 2026 بروز اتوار
یہ مضمون شہر امن مکہ کی زیارت اور روحانی تجربات پر روشنی ڈالتا ہے۔ مزید پڑھنے کے لیے متعلقہ مضامین دیکھیں: قرآن میں مکہ کی اہمیت۔

