کنز الایمان :اردو ترجمۂ قرآن کا منفرد عنوان
مولانا محمد ملک الظفر سہسرامی
کنز الایمان اردو زبان میں ایک ایسا ترجمۂ قرآن پاک ہے جس میں لفظ و معنیٰ کی حرمت کی مکمل پاسداری کا مزاج و منہاج نظر آتا ہے۔ ایسا سلیس، سادہ، عام فہم اور با محاورہ ترجمۂ قرآن اردو زبان میں کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر یہ کہ اس ترجمۂ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کے مقامِ عظمت و شانِ رفعت کی بھرپور پاسبانی نظر آتی ہے تو وہیں مقامِ نبوت و ناموسِ رسالت کے تحفظ کا حق بھی ادا ہوتا نظر آتا ہے۔
اس کے قبولِ عام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے کئی تراجم شائع ہو چکے ہیں اہلِ علم و تحقیق اس کی اہمیت، واقعیت اور انفرادی خصوصیات کے حوالے سے سیکڑوں تحقیقی و تأثراتی مقالات تحریر فرما چکے ہیں، کئی جامعات میں اسکالرس حضرات نے اسے موضوعِ تحقیق بنا کر اس پر طویل تحقیق ،تبصرہ و جائزہ پیش فرمایا ہے
قرآن فہمی کے لیے جن اساسی علوم کی ضرورت ہوتی ہے ان پر سیدی امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو گہری مہارت حاصل تھی وہ اسلامی علوم و معارف کا ایک چلتا پھرتا جامعہ تھے یقینا اس دور اور بعد والے ادوار کے لیے وہ اپنی مثال آپ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ منصبِ الوہیت و مقامِ نبوت کی شان کے منافی کوئی لفظ تحریر نہیں فرماتے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے غیر جانب دار، وسیع النظر اہلِ علم و اربابِ فکر نے کنز الایمان کو دیگر تراجمِ قرآن پر نہ صرف یہ کہ فوقیت دی ۔۔۔۔۔بلکہ اسے عشق و ادب کے اعتبار سے بھی نہایت محتاط ترجمۂ قرآن کی سند عطا فرمائی ہے۔تقدیسِ الوہیت اور ناموسِ رسالت کی چوکیداری تو اعلیٰ حضرت کا طرۂ امتیاز رہا ہے ایسے تمام الفاظ کے انتخاب سے گریز فرمایا جو مقامِ الوہیت اور منصبِ نبوت کے شایان نہیں۔
آپ کے قلم گوہر رقم سے تحریر ہونے والے ترجمۂ قرآن مقدس بنام ’’کنز الایمان‘‘ کو دیگر اردو تراجم قرآن کی دنیا میںایک انفرادی شناخت و پہچان حاصل تھی، ہے اور رہے گی ۔۔۔۔۔یہ ترجمۂ قرآن سادہ سلیس ، با محاورہ اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی مفسرین متقدمین کی تفسیرات و توضیحات کے عین مطابق ہے۔ اس تعلق سے مشہور اسلامی اسکالر حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری تحریر فرماتے ہیں:
’’انہوں نے قرآن کریم کا بہت گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا قرآن فہمی کے لیے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے ان پر انہیں گہرا عبور حاصل تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شان نزول، ناسخ و منسوخ ،تفسیر بالحدیث، تفسیر صحابہ و استنباط احکام کے اصول سے پوری طرح با خبر تھے ۔۔۔۔۔۔یہی سبب ہے کہ اگر قرآن پاک کے مختلف تراجم کو سامنے رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو ہر انصاف پسند کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ امام احمد رضا کا ترجمہ’’ کنز الایمان‘‘ سب سے بہتر ترجمہ ہے جس میں شانِ الوہیت کا احترام بھی ملحوظ اور عظمتِ نبوت و رسالت کا تقدس بھی پیش نظر ہے‘‘
شہرت یافتہ ادیب و قلمکار حضرت علامہ محمد میاں کامل سہسرامی رحمۃ اللہ علیہ ’’کنز الایمان‘‘ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’قرآن حکئم کا جو ترجمہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا ہے حق یہ ہے کہ اس پائے کا سلیس، با محاورہ اور ذمہ دار ترجمہ آج تک اردو زبان کی تاریخ میں نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔ رائج الوقت اردو کے ایک ایک ترجمے کو دیکھ لیا جائے زبان و محاورے کی بھرپور رعایت کے ساتھ سوزِ محبت اور گدازِ عشق میں ڈوبا ہوا اس درجہ محتاط ترجمہ کہیں نظر نہ آئے گا‘‘ (قلمی بیاض سے)
اگر ایک طرف عقیدت مندوں ، نیاز مندوں نے کنز الایمان کی انفرادیت اہمیت اور خصوصیات پر کھل کر اپنے تأثرات و تبصرے تحریر فرمائے تو وہیں اغیار و مخالفین کی جماعت سے بھی اہل علم و تحقیق کے تبصرے معرضِ وجود میں آئے۔۔۔اس سلسلے میں امیر جماعت اہل حدیث استاذ’’ سعید بن یوسف زی‘‘نے اس کی انفرادی خصوصیت کے حوالے سے اپنا تبصرہ محفوظ فرمایا اور دیگر تراجم قرآن پاک کو اس کے مقابل غیر محتاط قرار دیا۔۔۔۔۔۔۔ آپ بھی دیدۂ عبرت سے یہ تبصرہ ملاحظہ کریں:
’’یہ ایک ایسا ترجمۂ قرآن مجید ہے کہ جس میں پہلی بار اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ جب ذات باری تعالیٰ کے لیے بیان کی جانے والی آیتوں کا ترجمہ کیا گیا ہے تو بوقتِ ترجمہ اس کی جلالت و تقدیس و عظمت و کبریائی کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے جب کہ دیگر تراجم خواہ وہ اہل حدیث سمیت کسی بھی مکتبۂ فکر کے علما کے ہوں ان میں یہ بات نظر نہیں آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح وہ آیتیں جن کا تعلق محبوبِ خدا شفیع روز جزا سید الاولین و الآخرین حضرت محمد مصطفیﷺ سے ہے جن میں آپ سے خطاب کیا گیا ہے تو بوقتِ ترجمہ مولانا احمد رضا خان نے اوروں کی طرح صرف لفظی و معنوی ترجمہ سے کام نہیں چلایا ہے بلکہ صاحبِ ما ینطق عن الہویٰ و رفعنا لک ذکرک کے مقام عالی شان کو ہر جگہ ملحوظ خاطر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے جو کہ دیگر تراجم میں بالکل ہی ناپید ہے ۔ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ترجمہ میں وہ چیزیں پیش کی ہیں جن کی نظیر علمائے اہل حدیث کے یہاں بھی نہیں ملتی ‘‘
مشہور ادیب ،دانشور اور صحافی مولانا کوثر نیازی کنز الایمان کا خطبہ کچھ اس طرح تحریر کرتے ہیں:
’’امام احمد رضا نے عشق افروز اور ادب آموز ترجمہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کنز الایمان روح پرور ترجمہ عشقِ رسول کا خزینہ اور معارف اسلامی کا گنجینہ ہے‘‘
جماعت مخالفین کے یہ وہ افراد ہیں جن سے امام احمد رضا علیہ الرحمۃ و الرضوان کا شدید مسلکی و نظریاتی اختلاف ہے ان کے دلوں میں اس عبقری کی عقیدتوں کے چراغ روشن نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جادو وہ، جو سر چڑھ کر بولے!
حقیقتوں کا یہ برملا اعتراف امام احمد رضاکی عقیدت مندیوں،نیاز مندیوں کے پس منظر میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔بلکہ ان کے بیکراں علم و فضل کا یہ حقیقت پسندانہ اقرار و اعتراف ہے۔۔۔۔
تفسیر قرآن پاک کے حوالے سے علمائے علم تفسیر نے چار اصول کی نشاندہی فرمائی ہے۔
(۱)تفسیر القرآن بالقرآن(۲)تفسیر القرآن بالحدیث (۳ ) تفسیر القرآن بآثار الصحابۃ و التابعین(۴)تفسیر القرآن باللغۃ العربیۃ و القواعد الاسلامیۃ
کنز الایمان کا تجزیاتی مطالعہ کرنے والے ارباب علم و تحقیق پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اعلیٰ حضرت کا یہ ترجمۂ قرآن پاک علمائے مفسرین کے بیان کردہ اصول و ضوابط کے عین مطابق ہے۔۔۔
اعلیٰ حضرت نے ترجمۂ قرآن کا یہ عظیم اور روشن تاریخی کارنامہ جس انداز میں انجام دیا وہ یقینا ان کی خدا داد علمی لیاقتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہیں اسلامی علوم و فنون پر گہری دسترس تھی کچھ علوم و فنون تو انہوں نے با قاعدہ اساتذۂ ذی وقار کی بارگاہ میں حاضری دے کر حاصل کیے لیکن کچھ علوم و فنون ایسے بھی ہیں جن میں ان کا کوئی استاذ نہیں۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اپنی خداداد فکری صلاحیتوں سے اساتذہ کی رہنمائی کے بغیر وہ فنون حاصل کیے۔ ان کے افکار و خیالات پر گہری نظر رکھنے والے اصحابِ علم و تحقیق پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ وہ علم لدنی کے مالک تھے
اعلیٰ حضرت سیدی امام احمد رضاکی حیات گوناگوں علمی مشاغل میں اس قدر مصروف تھی کہ انہیں بعض دیگر اہم گوشوں کی جانب متوجہ ہونے کا موقع میسر نہ آتا۔۔۔ظاہر ہے کہ ترجمۂ قرآن مقدس کا عظیم کارنامہ کوئی بچوں کا کھیل تو نہیں بلکہ اس کے لیے با قاعدہ اہتمام و انتظام درکار ہے۔۔۔صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی قادری رضوی تلمیذ و خلیفہ امام احمد رضا نے کسی موقع سے اردو ترجمۂ قرآن کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے درخواست گزاری۔ ’’سوانحِ اعلیٰ حضرت‘‘ کے قلم کار حضرت مفتی بدر الدین احمد قادری کے قلم سے یہ ترجمۂ قرآن تحریر کیے جانے کی تمہید ملاحظہ کیجئے اور اس عبقری کی خدا داد صلاحیتوں و لیاقتوں کا خطبہ پڑھئے:
’’جب حضرت صدر الشریعہ کی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا چونکہ ترجمے کے لیے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لیے آپ رات میں سونے کے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آ جایا کریں۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ حضرت صدر الشریعہ ایک دن کاغذ قلم اور دوات لے کر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہو گیا‘‘
ترجمے کا طریقۂ کار یہ تھا کہ اعلیٰ حضرت زبانی طور پر آیات کریمہ کا ترجمہ بولتے جاتے اور حضرت صدر الشریعہ لکھتے رہتے لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتب تفاسیر و لغت کو ملاحظہ فرماتے بعدہٗ آیت کے معنیٰ کو سوچتے پھر ترجمہ بیان کرتے بلکہ آپ قرآن مجید کا فی البدیہہ بر جستہ ترجمہ زبانی طور پر بولتے جاتے جیسے کوئی پختہ یاد داشت کا حافظ اپنی قوت حافظہ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف فرفر فرفر پڑھتا جاتا ہے۔۔۔
حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ قرآن مقدس کا یہ ترجمہ فی البدیہہ برجستہ اور کتب تفاسیر و لغت کی مدد لیے بغیر ہوتا رہا لیکن ترجمہ نگاری کے بعد کوئی مقام اہل علم کو ایسا نہیں ملا جہاں کتب تفاسیر و لغت کے خلاف ترجمہ نظر آیا ہو۔۔اس سلسلے میں اہل علم کی آراء تحریر کرتے ہوئے مفتی بدر الدین احمد رضوی رقم طراز ہیں:
’’جب صدر الشریعہ اور دیگر علمائے حاضرین اعلیٰ حضرت کے ترجمے کا کتب تفاسیر سے تقابل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہااعلیٰ حضرت کا یہ برجستہ فی البدیہہ ترجمہ، تفسیر معتبرہ کے بالکل مطابق ہے‘‘
تفاسیر متقدمین اور کتب لغت کے عین مطابق اس قدر سلیس با محاورہ ترجمۂ قرآن مقدس ایک اندازے کے مطابق چار پانچ سال کی مختصر سی مدت میں ہی پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا ۔۔بالائے حیرت تو یہ ہے کہ نماز عشا کے بعد تھوڑا سا وقت اس اہم کام کے لیے مخصوص تھا۔۔
سیدی اعلیٰ حضرت کے دوسرے اہم علمی کارناموں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے صرف اِس تاریخی اور اہم کارنامے پر توجہ کی جائے تو یہ خود آپ کی عبقریت کا ایک روشن شہادت نامہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ اہل علم و فکر پر یقینا یہ امر مخفی نہ ہوگاکہ ترجمہ نگاری کا کام کس قدر اہم اور مشکل ہے پھر معاملہ جب فرمانِ الٰہی اور قرآن مقدس کی ترجمہ نگاری کا ہو تو مشکلات اور بھی سخت ہوجاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ احتیاط کا تقاضہ مزیدشدت اختیار کر جاتا ہے اور وہ بھی کتب تفاسیر و لغت کی بظاہر مدد لیے بغیر ۔ بعد میںکتب تفاسیر و لغت متقدمین سے مطابقت کی جاتی تو اسے ان کے خلاف نہ پایا جاتا۔۔۔۔
قرآن مقدس کی چند آیات کے تراجم (جو مختلف ترجمہ نگاروں کے قلم سے ہوئے ہیں)کے تقابلی مطالعہ سے کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن کی اہمیت ،واقعیت ،انفرادیت اور خصوصیت پہ مہر لگ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناظرین پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ اس ترجمۂ قرآن پاک کو لاریب دوسرے اردو تراجم پر فوقیت و انفرادیت حاصل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثبوت کے لیے چند آیات کا تقابلی جائزہ ملاحظہ ہو۔۔
(۱)و مکروا و مکر اللہ و اللہ خیر الماکرین
قرآن پاک کی اس آیت کا اردو ترجمہ تحریر کرتے ہوئے عام ترجمہ نگاروں نے جو ترجمہ لکھا ہے وہ انصاف پسند قارئین کے روبرو ہے:
مکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا مکر سب سے بڑھ کر(مولانا محمود الحسن دیوبندی)
اور وہ اپنا داؤں کر رہے تھے اور اللہ اپنا داؤں کر رہا تھا اور اللہ سب داؤں کرنے والوں میں بہتر داؤں کرنے والا ہے(مولانا وحید الزماں)
تو ادھر وہ چال چل رہے تھے اور ادھر خُدا چال چل رہا تھا اور خُدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے(فتح محمد خاں جالندھری)
ان تمام مترجمین نے شانِ الوہیت کے منافی الفاظ کے استعمال میں جس جسارت کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ قابلِ صد افسوس ہے بلکہ مقامِ حیرت بھی ہے۔
ایک سلیم الطبع اور زندہ ضمیر مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان میں داؤں چلنے والا، چال چلنے والا جملہ استعمال نہیں کر سکتا۔نعوذ باللہ من ذلک۔اب ذرا اسی تناظر میں اس آیت قرآنی کے ترجمے میں اعلیٰ حضرت کا ایمانی تیور ملاحظہ فرمایئے:
ان کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کی ہلاکت کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ بہتر تدبیر فرمانے والا ہے(کنز الایمان)
(۲)اللہ یستہزیٔ بہم(البقرۃ :۱۵)
اس آیت قرآنی کا ترجمہ کرتے ہوئے عام مترجمین نے لفظ ’’استہزاء‘‘ کا ترجمہ رقم کرتے ہوئے اللہ جل شانہ کے مقام عظمت کے ساتھ جو ناروا سلوک اختیار کیا ہے اسے دیدۂ عبرت ہو تو پڑھئے:
اللہ ان منافقوں سے ٹھٹھا کرتا ہے(سر سید احمد خاں)
اللہ ان کی ہنسی اڑاتا ہے(مرزا حیرت دہلوی)
اللہ ان سے ہنسی کرتا ہے(مولانا محمود الحسن دیوبندی)
اللہ ان سے دل لگی کرتا ہے(مولانا وحید الزماں)
ان منافقوں سے خُدا ہنسی کرتا ہے(فتح محمد خاں جالندھری)
اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرتا ہے(محمد جونا گڑھی)
اس آیت کے تحت بھی ترجمہ نگاروں نے اسی ذہنی خباثت کا اظہار کیا ہے جو ایک مرد مومن کے قلب و جگر کے لیے ناسور بن کر رہ گیا ہے۔غور فرمایئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی شانِ زیبا میں کس طرح کے سطحی و سفلی الفاظ کا استعمال روا رکھا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ٹھٹھا کرنا، ہنسی اڑانا، دل لگی کرنا،مذاق کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ استغفر اللہ
مگر اعلیٰ حضرت کی ترجمہ نگاری کا یہ حسین منظر ملاحظہ کیجئے:
اللہ ان سے استہزا فرماتا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے
(۳)ان ربکم اللہ الذی خلق السمٰوٰت و الارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش( اعراف :۵۴)
اس آیت کا ترجمہ رقم کرتے ہوئے عام اردو مترجمین نے ان ربکم اللہ الذی خلق السموت و الارض فی ستۃ ایام کا ترجمہ تو قریب قریب لفظوں کے تھوڑے تغیر و تبدل کے ساتھ یکساں تحریر کیاہے لیکنثم استویٰ علی العرش کا ترجمہ کرتے ہوئے مقام الوہیت کی شان کے خلاف جس طرح کے الفاظ کا استعمال روا رکھا ہے وہ انصاف پسند قارئین کو یقینا ورطۂ حیرت میں ڈال دے گا:
بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان و زمین چھ دن میں بنائے پھر قرار پکڑا عرش پر(مولانا محمود الحسن دیوبندی)
۔۔۔۔پھر عرش پر قائم ہوا(مولانا اشرف علی تھانوی)
۔۔پھر عرش پر جا ٹھہرا(فتح محمد خاں جالندھری)
۔۔پھر قائم ہو گیا عرش پر(مولانا عبد الماجد دریا آبادی)
۔۔پھر آسمان و زمین بنانے کے بعد تخت پر چلا( مولاناوحید الزماں)
۔۔پھر تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا(مولانا مودودی)
اردو ترجمہ نگاروں کے ان تراجم کا بغور مطالعہ فرمائیں تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ وہ تمام مترجمین جو توحید کے ٹھکیدار بنے پھرتے ہیںلفظ ’’استویٰ‘‘ کا ترجمہ تحریر کرنے میں ٹھوکر کھانے سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکے مقام الوہیت و ربوبیت کے منافیٔ شان ترجمہ کر کے گزر گئے ۔اللہ تعالیٰ جسم و جسمانیات اور مکان و مکانیات سے پاک ہے اس اسلامی عقیدے کے تناظر میں یہ ترجمہ قطعی شانِ الوہیت کے منافی ہے
اب ذرا محتاط ترین ترجمہ نگار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے ترجمۂ قرآن کنز الایمان میں اس آیت قرآنی کے ترجمے میں مقام الوہیت و شانِ ربوبیت کی پاسداری کے جلوے ملاحظہ فرمائیں:
بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمیں چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استویٰ فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔(کنز الایمان)
(۴)و ما کنت تدری ما الکتٰب و الایمان(سورہ شوریٰ پ ۲۵۔آیت :۵۳)
اس آیت کے تحت مختلف ترجمہ نگاروں نے جو ترجمہ تحریر کیا ہے وہ غیر جانب دار قارئین کے پیش نظر ہے:
اے نبی! تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور کیا ہے ایمان(مولانا محمود الحسن دیوبندی)
آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا چیز ہے(مولانا اشرف علی تھانوی)
تم نہ کتاب کو جانتے تھے نہ ایمان کو(فتح محمد خاں جالندھری)
آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا چیز ہے(مولانا عبد الماجد دریا آبادی)
اس سے پہلے تجھ کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ ایمان معلوم تھا(مولانا وحید الزماں)
آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے(محمد جونا گڑھی)
تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے(مولانا مودودی)
آپ کو خبر نہ تھی کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے(عبد الکریم پاریکھ)
آپ نہ تو یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے(فہیم الدین صدیقی)
دیکھا آپ نے! اس آیتِ قرآنی کا ترجمہ تحریر کرتے ہوئے کس قدر دریدہ دہنی کے ساتھ رہبر امت نبیٔ کائنات ﷺکو ایمان سے بے خبر اور ناواقف بتایا جارہا ہے ۔مومن ہونا تو دور کی بات ہے اے نبی! تمہیں ایمان کی خبر تک نہ تھی ایمان کیا ہے یہ بھی تمہیں علم نہ تھا۔
اس کے برخلاف امام عشق و محبت اعلیٰ حضرت کا محتاط قلم اس سنگلاخ وادی سے کس پاکیزگی کے ساتھ گزرتا ہے کہ ان کا رہوارِ فکر بغیر ٹھوکر کھائے منزلِ ایمان کی پابوسی کرتا نظر آرہا ہے۔وہ کس پاکیزگی کے ساتھ قلم کو آدابِ بارگاہِ نبوی کا درس دیتے ہوئے ترجمہ نگاری کے مرحلے سے گزر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
اس سے پہلے تم نہ کتاب جانتے تھے اور نہ احکامِ شرع کی تفصیل(کنز الایمان)
(۵)انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تأخر(سورہ فتح پ ۲۶۔آیت :۱)
اس آیت قرآنی کا ترجمہ اردو زبان میں مختلف ترجمہ نگاروں نے جو تحریر کیا ہے قارئین حضرات غیر جانب دار ہو کر اسے ملاحظہ فرمائیں:
ہم نے فیصلہ کردیا تیرے واسطے شرعی فیصلہ تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہو چکے تیرے گناہ اور پیچھے(مولانا محمود الحسن دیوبندی)
بے شک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح دی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرمادیں(مولانا اشرف علی تھانوی)
بے شک ہم نے تم کو فتح دی شرعی و صاف تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے (فتح محمد خاں جالندھری)
بے شک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح دی تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے(مولانا عبد الماجد دریا آبادی)
اے پیغمبر! یہ حدیبیہ کی صلح کیا ہے؟ ہم نے تجھ کو کھلم کھلا فتح دی تاکہ تو اللہ کا شکرادا کرے ۔اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ بخش دے(مولانا وحید الزماں)
بے شک اے نبی! ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے تاکہ جو کچھ تیرے گناہ آگے ہوئے اور جو کچھ گناہ پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے(محمد جونا گڑھی)
اے نبی ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے(مولانا مودودی)
بے شک ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی کہ اللہ نے تمہاری اگلی پچھلی چوک پر بخشش فرمادی(مولانا پاریکھ)
اے محمد! ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح عطا کی تاکہ اللہ تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے(فہیم الدین صدیقی)
اس آیت قرآنی کا ترجمہ کرتے ہوئے اردو ترجمہ نگاروں نے گستاخی اور دریدہ دہنی کی حد کردی ۔نعوذ باللہ من ذلک۔۔مسلم گھرانے کا ایک ایک فرد جانتا ہے کہ نبی معصوم ہوتے ہیں ان کی ذات سے کسی طرح کے گناہ کا صدور ممکن نہیں ۔عصمت انبیا اسلامی عقائد کا ایک مسلم الثبوت عقیدہ ہے ۔ہاں خطائے اجتہادی ہو سکتی ہے ۔لیکن ان مترجمین نے نبی کو نین سید المعصومین حضرت محمد رسول اللہﷺکی ذات اقدس کو ایک پاپی گنہگار اور خطا کار کی شکل میں پیش کرکے ایمان و عقاید کی پوری عمارت کو متزلزل کر دیا ہے ۔نہ صرف یہ کہ نبیٔ کونین ﷺکے پچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کا اظہار کیا جا رہاہے بلکہ اس بات کا بھی اقرار ہے کہ آپ سے آنے والے دنوں میں بھی گناہ کا صدور ہوگا۔نعوذ باللہ من ذلک۔
اب ذرا اس پس منظر میں کنز الایمان کا ایمان افروز اور روح پرور ترجمہ ملاحظہ فرما کر ان دریدہ دہنوں اور گستاخوں سے کہئے۔ع
دیکھو! اس طرح سے کرتے ہیں سخن ور باتیں
بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرما دی ۔تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔(کنز الایمان)
(۶)ووجدک ضالا فہدی
اس آیت کا ترجمہ تحریر کرتے ہوئے بھی عام مترجمین لفظ ’’ضال‘‘ کی ترجمہ نگاری کرتے ہوئے منصبِ نبوت کے پاسدار نظر نہیں آتے اور یہ ان حضرات کے ہاتھوں میں بازیچۂ اطفال نظر آتا ہے۔غیر جانب دار قارئین ملاحظہ فرمائیں:
پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ سوجھائی(مولانا محمود الحسن دیوبندی)
اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شریعت سے بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا راستہ بتلا دیا(مولانا اشرف علی تھانوی)
رستے سے نا واقف دیکھا تو سیدھا راستہ دکھایا(فتح محمد خاں جالندھری)
آپ کو بے خبر پایا سو راستہ بتا دیا(مولانا عبد الماجد دریا آبادی)
اس نے تجھ کو بھولا بھٹکا پایا پھر راہ پر لگایا(مولانا وحید الزماں)
اور تجھے راہ بھولا پاکر ہدایت دی(محمد جونا گڑھی)
اور تمہیں ناواقفِ راہ پا یا پھر ہدایت بخشی(مولانا مودودی)
اورراستے سے نا واقف دیکھا تو راستہ دکھایا(فہیم الدین صدیقی)
اردو ترجمہ نگاروں کے ان تراجم کا دل پر ہاتھ رکھ کر مطالعہ فرمایئے تو آپ کو نظر آئے گا کہ ان تمام مترجمین نے ترجمہ نگاری کے مرحلے سے گزرتے ہوئے منصبِ نبوت و رسالت کو مدِّ نظر رکھے بغیر جس دریدہ دہنی و گستاسخی کا مظاہرہ کیا ہے اس نے ان کے ایمان بالرسالۃ پہ سوالیہ نشان قائم کر دیا ہے ۔۔۔۔۔تقریباً تمام ترجمہ نگاروں نے سید المعصومین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو راہ سے بھٹکا ہوا ، شریعت سے بے خبر ،بھولا بھٹکا قرار دیا ہے۔جب کہ سورۂ النجم میں خود اللہ تبارک و تعالیٰ بہت واضح اور صاف الفاظ میں مقام نبوت و منصب رسالت کے تعلق سے اسلامی عقیدے کا اظہار فرما رہا ہے ۔ ما ضل صاحبکم و ما غوی۔۔۔۔(اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے ۔۔۔۔۔تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔۔۔(کنز الایمان)ظاہر ہے ان ترجمہ نگاروں کے تراجم کی روشنی میں ’’ ضل‘‘ کا ترجمہ گمراہی و ضلالت سے کیا جائے تو نعوذ باللہ من ذلک قرآن کی یہ دو آیات آپس میں متضاد و متصادم نظر آئیںگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر وہ تراجم منصب نبوت کے منافی بھی قرار پاتے ہیں
اب ذرا اس تناظر میں سیدی اعلیٰ حضرت کا محتاط ترین ترجمہ ملاحظہ فرمایئے:
اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔۔ ترجمہ نگاری کا حق بھی ادا فرما دیا اور منصب نبوت کا آبگینہ بھی چور چور اور پاش پاش ہوتا نظر نہیں آتا۔
مشتے نمونہ از خروارے کے تحت چند آیات کے تراجم کا جو تقابل پیش کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے کنز الایمان کی اہمیت ،انفرادیت اور خصوصیت کے جو نقوش ابھرتے ہیں وہ قارئین سے پوشیدہ نہیں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اوّلین تین آیات کی ترجمہ نگاری میں حضرت مترجم نے لفظ ’’مکر‘‘ ’’استہزاء‘‘ اور ’’استواء‘‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے شانِ الوہیت اور مقامِ ربوبیت کی نزاکتوں کا لحاظ و پاس رکھتے ہوئے لفظوں کا بے پناہ محتاط انتخاب فرمایا ہے ۔۔۔جب کہ آخری تین آیات میں مقامِ نبوت و منصبِ رسالت کے آداب و احترام کی وہی جلوہ گری نظر آتی ہے جو اس کا تقاضا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔یہی تو وہ خوبی ہے کہ جماعت مخالفین کے اصحابِ فکر و اربابِ قلم کی زبان پہ بھی اس کا خطبہ جاری ہو گیا اور وہ یہ تحریر کرنے پر مجبور ہو گئے کہ
’’انہوں نے اپنے ترجمے میں وہ چیزیں پیش کی ہیں جن کی نظیر علمائے اہلِ حدیث کے یہاں بھی نہیں ملتی‘‘
معنوی اور حقیقی خوبیوں کے علاوہ زبان و بیان کی سلاست ،لب و لہجے کی نفاست ،لفظوں کا خوبصورت اور محتاط انتخاب اور ایجاز و اختصار تو بس ع
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جاایں جاست
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مزید پڑھیں:
