سیاسی تعصبات اورہندوستانی مسلمان

مولاناغلام مصطفیٰ نعیمی:مدیر اعلیٰ سہ ماہی السواد الاعظم دہلی

آزادی کے ستّر سال بعد بھی ہمارے ملک کی سیاست ذات پات،رنگ ونسل اور مذہبی تعصب کے اردگرد گھوم رہی ہے۔اس لئے یہاں حکومتیں قانون سازی کے وقت صرف اورصرف ذات پات اور مذہبی ولسانی تعصبات پر مبنی پالیسیاں بناتی ہیں تاکہ اسی کے سہارے انتخابی فائدہ حاصل کیا جاسکے بھلے ہی ملک کو کتنا نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
حال ہی میں تین صوبوں کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اسی وجہ سے ہندو اَپَر کاسٹ کو خوش کرنے کے لئے بی جے پی کی مرکزی حکومت نے اعلیٰ ذات کے غریبوں کے لئےحکومتی نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں دس فیصد رِیزَرویشن کا لالی پاپ پیش کیاہے۔
9جنوری کو پارلیمینٹ میں اَپَرکاسٹ غریبوں کے لئے رِیزَرویشن کا قانون پیش کیا گیا۔جس پر سبھی پارٹیوں نے مثالی اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حمایت کا اعلان کیا۔قانون کی حمایت میں 323 افراد نے حمایت میں ووٹ دیا اور محض 3،افراد نے ہی اس غیر دستوری قانون کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ملک میں ابھی رِیزَرویشن کے تحت49.5کوٹہ رِیزَرو ہے۔حالانکہ سیاسی پارٹیوں کے ذریعے پہلے بھی اس سے زیادہ کوٹہ دینے کی کوششیں ہوئی ہیں لیکن عزت مآب سپریم کورٹ نے 50 فیصد سے زیادہ رِیزَرویشن بڑھانے پرپابندی لگا رکھی ہے۔اسی پابندی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے دستورِ ہند میں ترمیم کرتے ہوئے 124واں آئینی ترمیمی بِل پیش کیا جسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں[راجیہ سبھا،لوک سبھا] میں بحث ومباحثہ کے بعد پاس کردیا گیا۔پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد قانون سازی کے لئے اسے صدر جمہوریہ کے پاس بھیجا گیا اورصدر محترم نے بھی اول فرصت میں اسے منظوری دے دی اور منظوری کے ساتھ گجرات ویوپی کی حکومتوں نے اسے اپنے صوبوں میں نافذ کرنے کا اعلان بھی کردیا۔
نئے رِیزَرویشن کی اہلیت:
اس رِیزَرویشن کے لئے اعلیٰ ذات کے غریبوں میں درج ذیل اہلیت درکار ہے:
1-سالانہ آٹھ لاکھ کی انکم
2-پانچ ایکڑ زمین
3-ایک ہزار فٹ کا مکان[گاؤں یاقصبہ میں]
4-شہر میں100گزکامکان۔
5۔Non notifide میونسپلٹی میں 200 گز کا مکان!
اگر کسی اعلیٰ ذات کے غریب میں یہ اہلیتیں موجود ہیں تو وہ حکومت کے اس رِیزَرویشن کاحقدار ہوگا۔
درج بالا شرائط کو دیکھ کراندازہ لگائیے کہ جس انسان کے پاس سالانہ آٹھ لاکھ کی کمائی ہو،یعنی جو شخص ماہانہ 66ہزار روپے کماتاہو ،جس کے پاس گاؤں میں پانچ ایکڑ کھیتی کی زمین،ایک ہزارگز کامکان ہو۔شہر میں 100 گز سے لیکر 200 گز کا مکان ہو ،ایسا اَپَرکاسٹ انسان حکومت کی نظر میں غریب ہے۔اور اس غریب کی مدد کرنے کے لئے اسے مزید سرکاری نوکری اور تعلیمی اداروں میں رِیزَرویشن بھی دیا جائے گا۔ایک طرف یہی حکومت سالانہ ڈھائی لاکھ سے زائد کمانے والوں کو امیر مانتے ہوئے 10فیصد سے لیکر 20 فیصد تک ٹیکس وصول کرتی ہے۔دوسری طرف اگر اعلیٰ ذات کا کوئی بندہ سالانہ آٹھ لاکھ روپے کماتا ہے تو وہ غریب ہے اور حکومت اس کی مدد کرنے کے لئے بے چین وبے قرار ہے۔
رِیزَرویشن کی تاریخ اور ضرورت:
رِیزَرویشن(Reservation) انگریزی لفظ ہے جس کے معنیٰ ہوتے ہیں کسی چیز،جگہ یاکسی علاقے کو کسی مخصوص فرد کے لئے خاص اورمحفوظ کردینا۔چاہے وہ ٹرین کی سیٹ ہو،پارلیمانی سیٹ ہو،نوکری ہو یا پھر تعلیمی اداروں میں داخلہ !!
اس کو مزید آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ جس طرح الیکشن میں کچھ حلقے SC,STکے لئے رِیزَرو کردئے جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس سیٹ سے صرف SC,ST ہی الیکشن لڑسکتا ہے باقی کوئی نہیں،کیوں وہ سیٹ انہیں کے لئے رِیزَرو(Reserved) ہے۔
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں صدیوں تک ذات پات کی بنیاد پر انسانوں کی تقسیم تھی جس کی بنیاد پر یہاں کے اسباب ووسائل پر محض چند فیصد لوگوں کا قبضہ رہا ۔باقی دیگر ہندوستانی قومیں محنت ومشقت اور مزدوری کی زندگی گزارتی رہیں،اسی وجہ سے یہ قومیں سیاسی وتعلیمی امور سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں بہت پیچھے رہ گئیں۔آزادی کے بعد دستور ساز کمیٹی کے دور اندیش افراد نے ایسی اقوام کو برابری کا درجہ دینے اور تعلیمی وسیاسی نمائندگی دینے کے لئے دستور ہند میں کچھ قوموں کو رِیزَرویشن دینے کا انتظام کیا گیا۔
رِیزَرویشن کے لئے تین اہم چیزوں کو بنیاد بنایاگیا:
1۔معاشرتی۔
2۔اقتصادی۔
3۔تعلیمی۔
یعنی جو قومیں ان تین چیزوں میں دیگر اقوام وطن سے کمزور ہیں انہیں رِیزَرویشن کے ذریعے سماج کے مین اسٹریم میں لایا جائے گا۔ابتدا میں رِیزَرویشن کو دس سال کے لئے منظورکیا گیا تھا لیکن وقفے وقفے سے اسے بڑھایا جاتا رہا اور آج ستر سال گزر جانے کے بعد بھی رِیزَرویشن جاری ہے۔
رِیزَرویشن کا موجودہ خاکہ:
ابتدا میں SC ,STکے لئے 22.5فیصد رِیزَرویشن کاانتظام کیا گیاتھا لیکن 1990 میں وی پی سنگھ نے منڈل کمیشن کے ذریعے دیگر کمزور قوموں کو 27 فیصد کا ]موجودہ خاکہ اس طرح ہے:
او بی سی(OBC) 27%
ایس سی(SC) 15%
ایس ٹی(ST) 7.5%
اس طرح کل ملا کر یہ کوٹا49.5فیصد ہوجاتاہے اگر اسی میں موجودہ کوٹہ ملا دیا جائے تو یہ رزرویشن کی حد 59.5 تک پہنچ جائے گی۔
نئے رِیزَرویشن کی ضرورت کیوں؟
حال ہی میں شمالی ہندوستان کی ہندی بیلٹ کے تین بڑے صوبوں[راجستھان،مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ]میں بی جے پی کو کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ہار کی وجوہات میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی نارضگی اہم وجہ بتائی جا رہی ہے ۔اسی وجہ سے اعلیٰ ذات کی ناراضگی دور کرنے کے لئے آناً فاناً یہ قانون بنایا گیا تاکہ 2019کے پارلیمانی الیکشن میں اعلیٰ ذات کی حمایت مل سکے۔
ملک میں اعلیٰ ذات میں تین بڑی قومیں آتی ہیں:
1برہمن۔ ▪2 ٹھاکر۔ ▪3بنیا۔
یہ تین قومیں مل کر ملک کی کئی اہم سیٹوں پر انتخابی عمل کو متاثرکرنے سیاسی طاقت رکھتی ہیں۔ایک جائزہ کے مطابق ملک میں قریب 179سیٹیں ایسی ہیں جہاں ہارجیت کی کنجی انہیں برادریوں کے پاس مانی جاتی ہے۔اور وہاں پر اعلیٰ ذات کے لوگوں کا غلبہ ہے۔ان سیٹوں کی مختصر فہرست درج ذیل ہے:
اترپردیش:(کل سیٹیں80.اعلیٰ ذات 40سیٹوں پر مضبوط ہیں۔
مہاراشٹر:(کل 48سیٹیں ہیں جن میں22سیٹوں پر اعلیٰ ذات کا غلبہ ہے)
گجرات :(کل26سیٹیں جن میں12سیٹوں پر اعلیٰ ذات کے لوگ مضبوط ہیں)
راجستھان :(کل 25سیٹیں ہیں جن میں 14 سیٹوں پر اعلیٰ ذات غالب ہیں)
بہار:(کل 40سیٹیں ہیں۔20 پر اعلیٰ ذات کا غلبہ)
مدھیہ پردیش:(کل 29سیٹیں۔14پراعلیٰ ذات کا غلبہ)
کرناٹک:(کل 28سیٹیں۔13پراعلیٰ ذات کا غلبہ)
جھارکھنڈ:(کل 14سیٹیں۔6پر اعلیٰ ذات کا غلبہ)
آسام: (کل 14سیٹیں۔7پراعلیٰ ذات کا غلبہ)
2014کے الیکشن میں بی جے پی نے ان 179سیٹوں پر اعلیٰ ذات کی زبردست حمایت کی وجہ سے 140سیٹیں جیت کر تمام پارٹیوں کو دھول چٹادی تھی ۔اس بار یہ برادریاں ناراض بتائی جارہی ہیں اس لئے کہیں اپوزیشن پارٹیاں اس ناراضگی کا فائدہ نہ اٹھا لیں یہی سوچ کر ان کے لئے سرکاری نوکری اور حکومتی تعلیم گاہوں میں انہیں دس فیصد رِیزَرویشن کا تحفہ دیا گیاہے۔
مسلمان فیل کے فیل!
رِیزَرویشن کے معاملے میں سب سے زیادہ محروم قوم مسلم ہے۔جسے آج تک کہیں بھی کسی بھی طرح کا رِیزَرویشن نہیں دیا گیا حالانکہ حکومت ہند کے قائم کردہ سچرکمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان اس ملک کی سب سے زیادہ دبی کچلی قوم ہے۔اور مسلمانوں کی حالت سدھارنے کے لئے 10فیصد رِیزَرویشن کی سفارش کی گئی تھی لیکن حکومت نے اپنے ہی کمیشن کی سفارش کو کسی نامعلوم کونے میں ڈال دیا ہے۔ناانصافی کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد سے ہی مذہبی تعصب کی بنا پر تمام حکومتیں یہ کھیل کھیلتی آئی ہیں اور اس کھیل میں سیکولر کہلانے والے کانگریسی لیڈران سب سے پیش پیش رہے ہیں۔
برٹش انڈیا میں1935میں دلت سماج(SC)کو رِیزَرویشن دیا گیا تھا اور یہ رِیزَرویشن ان لوگوں کی ذات کی بنیاد پر دیا گیا تھا تاکہ وہ لوگ بھی تعلیم اور روزگارمیں آگے آسکیں۔اس قانون کے تحت جملہ دلت افراد کو رِیزَرویشن ملتا تھا چاہے وہ کسی مذہب کا ماننے والا ہو۔
1950میں سابق وزیراعظم جواہر لعل نہروکی حکومت میں اس قانون میں ترمیم کی گئی اور رِیزَرویشن کی دفعہ 341 میں”مذہب”کی شق شامل کرکے یہ قانون بنادیا گیا کہ اب اُسی دلت کو رِیزَرویشن ملے گا جو ہندو ہوگا یا ہندو دھرم قبول کرے گا۔ اِسی ترمیم کی وجہ 85 فیصد دلت مسلمانوں کو نقصان اٹھاناپڑا،اور وہ رِیزَرویشن کی سہولیات سے محروم ہوگئے۔اس شق کے نافذ ہوتے ہی اس کوٹے سے مسلم،عیسائی،سِکھ اور جینی باہر ہوگئے۔
1956میں ذیلی ترمیم کے ذریعے اس قانون میں سِکھوں کو پھر سے شامل کرلیاگیا اور 1990میں جین سماج کے لوگوں کو بھی دوبارہ اس کوٹے میں شامل کرلیا لیکن مذہبی تعصب کی بناپر مسلمان اور عیسائی سماج کو ابھی تک اس میں شامل نہیں کیا گیا۔جبکہ دفعہ 341میں مذہب کی قید دستور کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے،کیوں دستور کی دفعہ14,15,16اور25میں صاف کہا گیا ہے کہ مذہب،ذات،نسل اور علاقے کی بنیاد پر کسی ہندوستانی شہری کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔اسی خلاف دستور قانون341 کی ذیلی دفعہ میں لکھا ہے کہ اگر کسی مسلم یا عیسائی کو اس رِیزَرویشن کا فائدہ چایئے تو اسے ہندو دھرم قبول کرنا ہوگا۔یعنی رِیزَرویشن کی آڑ میں بالجبر تبدیلی مذہب کی مہم ہے جو دستور میں دی گئی مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔اس قانون کے خلاف 2004 میں سپریم کورٹ میں کیس داخل کیا گیا لیکن معمولی کیسیز میں بہت جلدی فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ میں ابھی تک 15سال بیت جانے کے بعد بھی اس کیس میں کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے،نہ ہی کانگریس سمیت بی جے پی کی مرکزی حکومتوں نے اس معاملے پر کورٹ میں اپنا جواب داخل کیا ہے جس کی وجہ سے اتنا لمبا وقت گزر جانے باوجود یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے۔
مسلم رِیزَرویشن اور سیاسی پارٹیاں:
مسلم رِیزَرویشن پر تمام سیکولر پارٹیوں کا اسٹینڈ ایک جیسا ہی ہے۔ کوئی پارٹی مسلمانوں کو رِیزَرویشن دینے کے حق میں نہیں ہے،لیکن چونکہ کئی سیکولر پارٹیوں کی ساری سیاست ہی مسلمانوں پر ڈپینڈ کرتی ہے اس لئے اظہار منافقت کے لئے مسلم رِیزَرویشن کی بات کرتی رہتی ہیں لیکن یہ باتیں ہر پارٹی اپوزیشن میں رہتے ہوئے کرتی ہے جیسے ہی وہ پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ایک سیاسی جملہ اچھالا جاتا ہے:
ہم مسلمانوں کوخوددارانہ حصے داری دیں گے،رزرویشن کی خیرات نہیں۔
بس سیدھا سادہ مسلمان اسی ایک ڈائلاگ پر پانچ سال نیتا جی کے قصیدے پڑھتا رہتا ہے۔پچھلے ستر[70]سال سے تمام سیکولر پارٹیاں اسی ایک ڈائلاگ کے سہارے مسلم قوم کی لیڈرشپ کے فرائض انجام دے رہی ہیں اور گائے کی طرح سیدھا مسلمان ان کی اقتدا میں زندگی بسر کرتا آرہا ہے۔2012 میں اتر پردیش کے صوبائی الیکشن میں ملایم سنگھ نے مسلمانوں کو 18فیصد رِیزَرویشن دینے کا وعدہ کیا۔مسلمانوں نے اس وعدے پر اعتبار کرتے ہوئے نیتا جی کو 230 سیٹیں تحفۃً پیش کردیں۔اس کے بعد پورے پانچ سال نیتا جی نے بُھولے سے بھی مسلم رِیزَرویشن کا نام نہیں لیا ۔کسی دل جلے نے اگر پوچھ بھی لیا تو نیتاجی سے پہلے مسلم لیڈر ہی بھڑک اٹھےاور سائل کا سوال گلے میں ہی رک گیا۔مسلم رِیزَرویشن کا یہ ناٹک مہاراشٹر سے لیکر بہار تک چلتاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسی ناٹک پر قوم فدا ہے اور ناٹک کھیلنے والوں سے یہ قوم جی جان سے محبت بھی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:ہندوستان کا بدلتا منظرنامہ اور مسلمان

مزید پڑھیں:بھارت میں سب سے بڑی اقلیت کا تنگ ہوتا دائرہ حیات

-مزید پڑھیں:فتح اَیوانِ کسریٰ:تاریخی تناظر میں

 

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

زمبابوے نے آئرلینڈ کو ہرا کر میچ 31 رنز سے جیت لیا۔ زمبابوے نے آئرلینڈ کو ہرا کر میچ 31 رنز سے جیت لیا۔

[ad_1] ڈیجیٹل ڈیسک، ہوبارٹ۔ T20 ورلڈ کپ 2022 کے سپر 16 راؤنڈ کا چوتھا میچ …

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔