جہاد اور دہشت گردی کا فرق

جہاد اور دہشت گردی کا فرق

از: محمدانجم کمالی قادری، نیپال


یہ بات مسلم ہے کہ کسی بھی شی کا حقیقی مفہوم اس کی تعریف و توضیح سے آشکار ہوجاتا ہے، اور اس کے معانی کی تہ تک رسائی آسان ہوجاتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جہاد اور دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟ اور ان دونوں کے مابین کیا فرق ہے ؟ اولا ان کی تعریف رقم کرتے ہیں اور مختصر تشریح تاکہ ان کا فرق واضح و نمایاں ہوجاے ۔
جہاد ایک ایسے عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے پر امن معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اور ریاست تمام تر دباؤ اور مظالم سے محفوظ رہتی ہے، تعصب و تشدد کرنا، قتل و غارت کرنا نہ صرف ناجائز بلکہ جائز کاموں کے لیے بھی اسلام میں سختی کے ساتھ منع ہے ۔ اور دہشت گردی کی تعریف کا مفہوم یہ ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے غیر قانونی ذرائع کا استعمال کرنا، دوسرے لفظوں میں عام شہریوں یا فورسیز کے خلاف سیاسی یا ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے انفرادی یا اجتماعی طور پر تشدد کرنا، دھمکیاں دینا خود کش یا کسی بھی طرح کا بم بلاسٹ اور طاقت کا غیر قانونی استعمال دہشت گردی کہلاتا ہے۔
مذکورہ بالا تعریف کی روشنی میں ہم جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو واضح طور پر ملاحظہ کرسکتے ہیں مگر اسلام دشمن عناصر اور باطل پرست طاقتوں کی عیاری اور ستم ظریفی کا کیا کہنا کہ خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے اسلام جو سلم سے ماخوذ ہے اس کے عنصر میں ہی peace یعنی امن و آشتی کی خاک شامل ہے اس کا رب سلام، اس کے ماننے والوں کا ٹھکانہ دار السلام، اس کا بانی پیغمبر امن و اماں ہے یہ بشکل جہاد پوری دنیا میں امن و آشتی اور عدل و مساوات کی فضا قائم کرنے کا پیغام دیتا ہے ۔ مگر ظالموں نے جہاد جیسے پاکیزہ، مقدس اور محبوب ترین عمل کو دہشت گردی کا نام دے دیا ۔ اسلام نے انسانی حقوق اور کائنات رنگ و بو میں قیام امن کا کس درجہ خیال رکھا ہے ذیل کے اقتباس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
"مجاھدین کو جنگ میں بھیجتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نصیحت کی جاتی تھی کہ اللہ سے ڈرتے رہنا، ساتھیوں سے بھلائی کرنا، عہد کو پورا کرنا، عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا، فصلوں اور جانوروں کو نقصان نہ پہنچانا، مثلہ نہ کرنا، آگ نہ لگانا ”
سچ پوچھیے تو اصول جنگ میں ایسی رواداری مذہب اسلام کا ہی خاصہ ہے۔
دوسری طرف اسلام مخالف طاقتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوجاے گا کہ دوسرے پر دہشت گردی کا الزام تھوپنے والے اور خود کو معصوم تصور کرنے والے کتنے بڑے ظالم سفاک اور دہشت گرد ہیں ۔
میرے خیال میں جب امریکہ روس اور فرانس غریب ممالک سے سامان حرب اور جنگی ہتھیار فروخت کرکے انھیں جنگ کی ترغیب دیتا ہے تو دہشت گردی کا چہرہ سامنے آجاتا ہے ۔
جب امریکہ، عراق اور افغانستان پر بمباری کرکے اپنی ناپاک طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے تو دہشت گردی کا چہرہ سامنے آجاتا ہے۔
جب اسرائیل فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلتا ہے تو دہشت گردی کا چہرہ سامنے آجاتا ہے ۔
جب روہینگیا کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو دہشت گردی کا چہرہ سامنے آجاتا ہے ۔
جب کشمیر کے پھول جیسے چہرے کو بم اور بارود کے ذریعے مسخ کیا جاتا ہے تو دہشت گردی کا چہرہ سامنے آجاتا ہے ۔
اور جب ملک میں بشکل ماب لنچنگ ملت کے نوجوانوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا جاتا ہے تو دہشت گردی کا چہرہ سامنے آجاتا ہے ۔
یہ اور اس جیسی اور بھی مثالیں ہیں جو جہاد اور دہشت گردی کا فرق واضح کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ اب آخری جملے کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں "اگر حقیقت کے آئینے میں دیکھیے تو جہاد سراسر عدل و انصاف اور دہشت گردی سراسر ظلم و جبر کا دوسرا نام ہے. ”
دعا ہے مولیٰ تعالیٰ کائنات عالم کو پھر سے امن و سکون کا گہوارہ بنادے ۔ آمین

مزید پڑھیں:

  • Posts not found

Leave a Comment