جشنِ آزادی: عظیم نعمت، حقیقت اور اہمیت
آزادی کی قدر و منزلت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو ۔ زندہ قومیں اس بیش بہا نعمت کا سودا کسی قیمت پر نہیں کرتیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر آزادی کی نعمت کا حصول ممکن بناتی ہیں۔
آزادی کی قدر و منزلت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو ۔ زندہ قومیں اس بیش بہا نعمت کا سودا کسی قیمت پر نہیں کرتیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر آزادی کی نعمت کا حصول ممکن بناتی ہیں۔
تارک السلطنت حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی انھیں ستودہ صفات بزرگوں اور مقربین بارگاہ میں سے ہیں جنھوں نے دنیا کو ذرے کی سی بھی حیثیت نہیں دی ,سمنان کے موروثی بادشاہت و سلطنت,تخت و تاج کو صرف رضائے الہی کی خاطر ترک کر دیا,طاؤس و رطاب, آرام و لطف,راحت و آسائش والی اور شاہانہ زندگی کو خیرباد کہہ کر فقیرانہ زندگی اختیار کی اور راہ سلوک کا مسافر بن گئے۔
اس وقت وطن عزیز ہندوستان میں 75/ واں یومِ آزادی بڑی تزک واحتشام کے ساتھ منایا جارہا ہے- لیکن یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج کے دن لوگ تحریک آزادی میں پسینہ بہانے والوں کو تو خوب یاد کرتے ہیں لیکن خون بہانے والوں کو فراموش کر دیا جاتاہے،
سوشل میڈیا ایک ایسا غیر منظم بازار ہے، جس میں جاہلوں کی کثرت ہے، اگر کوئی اچھی اور سنجیدہ گفتگو ادب کے دائرے میں بھی کرتا ہے توبہت سے عالم نما جاہل، بازاری حرکتوں پر اتر آتے ہیں، جن کی باتیں بے سروپا ،دلیل سے خالی اور مغلظات سے بھر پور ہوتی ہے۔
کوئی انسان دنیا میں ایسا موجود نہیں جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیز نہ رکھتا ہو، اس ضمیر میں لازماً، بھلائی اور برائی کا ایک احساس پایا جاتا ہے، اور چاہے انسان ، کتنا ہی بگڑا ہوا ہو، اس کا ضمیر، اسے کوئی برائی کرنے اور کوئی بھلائی نہ کرنے پر ضرور ٹوکتا ہے،یہ (احساس) اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان نِرا حیوان نہیں بلکہ ایک اخلاقی وجود ہے،
یہاں عوام کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے کہ کوئی کسی سنی عالمِ دین پر اعتراضات یا بکواسات کر رہا ہو تو وہ جان لیں کہ اگر علمِ دین کی توھین کی نیت سے کچھ کہا تو کافر ہو جائے گا معاذ اللہ اور اس سے تجدید ایمان، تجدید نکاح، تجدید بیعت لازم، اور اگر علمِ دین کی توھین مقصود نہیں
وطن سے محبت کے بغیر کوئی قوم آزادانہ طور پر عزت و وقار کی زندگی گزار نہیں سکتی، اپنے وطن کو دشمن قوتوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ جس قوم کے دل میں وطن کی محبت نہیں پھر اُس کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے
رکشا بندھن یا راکھی کا تہوار بہن بھائیوں کے پیار ،ان کے خوبصورت اٹوٹ رشتے کا تہوار ہے جو دنیا بھر میں موجود ہندو برادری روایتی جوش و خروش سے مناتی ہے۔ راکھی کا تہوار بھی ملنے ملانے اور گھروں کے ساتھ خوشیاں منانے کا موقع فراہم کرتا ہے
تمام ارباب سیر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے کمالاتِ علمی کے معترف ہیں۔ علامہ ابن عبدالبر، امام نووی، علامہ ابن اثیر اور دیگر ارباب سیّر علیہم الرحمہ اس بات پر متفق ہیں
اسی طرح علم کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ انسان کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور بنی آدم کو شعور و فہم بخشتا ہے ، اور انسان کو جب یہ تمیز ہو جاتی ہے تو دیوانہ وار کامیابیوں کی طرف لپکتا ہے ۔