امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ : مختصر سیرت و کردار
تمام ارباب سیر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے کمالاتِ علمی کے معترف ہیں۔ علامہ ابن عبدالبر، امام نووی، علامہ ابن اثیر اور دیگر ارباب سیّر علیہم الرحمہ اس بات پر متفق ہیں
تمام ارباب سیر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے کمالاتِ علمی کے معترف ہیں۔ علامہ ابن عبدالبر، امام نووی، علامہ ابن اثیر اور دیگر ارباب سیّر علیہم الرحمہ اس بات پر متفق ہیں
اسی طرح علم کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ انسان کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور بنی آدم کو شعور و فہم بخشتا ہے ، اور انسان کو جب یہ تمیز ہو جاتی ہے تو دیوانہ وار کامیابیوں کی طرف لپکتا ہے ۔
نیز خانقاہ میں مرشد کامل کی صحبت میں رہ کر حاصل کردہ تعلیم و تربیت عام انسان کو درویش بنا دیتی ہے ۔ خانقاہی نظام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دور سے قائم ہے جیساکہ اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم تمام دنیا سے کٹ کر صفہ کے چبوترے پر رہتے اور صبح شام اپنے مرشد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت سے فیض یاب ہوتے ۔
نام ونسب:مفتی عبدالحفیظ رضوی بن شیخ محمد کلب حسین بن شیخ محمد نصرالدین بن شیخ غلام رسول رحمہم اللہ (آپ نسبی اعتبار سے شیخ صدیقی ہیں)
القابات وخطابات:مفکراسلام(واجد پور،ضلع مدھوبنی کے جلسے میں غیرمقلد اور دیوبندی کے مشترکہ سوالات کا جواب دینے کے بعد حضور شیرنیپال رحمہ اللہ تعالیٰ نے
حضرتِ مبلغ اسلام کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد (مولانا شاہ عبدالحکیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ) سے ہوئی، بعد ازاں جامعہ قومیہ میرٹھ میں داخل ہوئے اور سولہ سال کی قلیل عمر میں درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔۔۔۔۔نیز آپ نے علومِ عربیہ کی تکمیل کے بعد علومِ جدیدہ کی تحصیل کا ارادہ کیا (اولاً اٹاوہ ہائی اسکول اور بعد میں میرٹھ کالج) کے اندر انگریزی علوم کی تحصیل فرمائی۔
تاریخ ساز شخصیات میں ایک نام مناظر اھل سنت علامہ مفتی محمد طفیل احمد رضوی نوری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے، آپ علم و تقویٰ کے پیکر، ظاہری و باطنی فیوض و برکات کے درخشاں، درس و تدریس کے ماہر، صبر وقناعت کے بحر بے کراں
سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر ان کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کے لیے کوئی اور ایف آئی آر دائر کی جاتی ہے تو انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔بنچ نے محمد زبیر کے خلاف درج ایف آئی آر کی جانچ کے لیے اتر پردیش حکومت کی طرف سے بنائی گئی ایس آئی ٹی کو بھی ختم کرنے کی ہدایت دی۔
مشورہ در حقیقت اسلام کے سیاسی نظام کا ایک اہم جز ہے، عوام اپنے معاملات میں اور حکام امور مملکت میں اگر مشورے سے کام لیں تو پشیمانی اور اس کے عظیم نقصانات سے محفوظ ہو جائیں۔
آج کل معاشرہ میں مذہبی القاب کے استعمال میں بڑی بے اعتدالیاں دیکھی جارہی ہیں، چاہے ان القاب کی صلاحیت آدمی میں ہو یا نہ ہو ۔نام کے آگے القاب جڑدئیے جاتے ہیں اور بعض مرتبہ القاب سے محض ریاکاری کا جذبہ بھی ظاہر ہونے لگتا ہے
اور سیدنا اعلٰی حضرت فاضلِ بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں : جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا