ہم جشن یوم جمہوریہ کیوں مناتے ہیں؟

یوم جمہوریہ

بلاشبہ وطن عزیز [ہندوستان] کی تاریخ میں دو دن بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں, ایک 15اگست [یوم آزادی]جس دن ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادہوا, دوسرا 26جنوری[جسے یوم جمہوریہ یا ری پبلک ڈے Republic Day یا گن تنتر دِوس کہا جاتا ہے] جس دن ملک جمہوری ہوا, یعنی اپنےملک میں اپنےلوگوں پراپناقانون لاگو ہوا-

جمہوریت کاقاتل کون ؟

جمہوریت کا قاتل کون؟

پولیس نے محمد الطاف کو گرفتار کیا۔ الزام تھا، وہ ایک لڑکی کو لے کر فرار ہو رہا تھا۔ دوسرے دن بھلے چنگے نو جوان کی لاش ملی۔ اسے حراست میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے صفائی پیش کی، ملزم نے ٹوائلیٹ کی دو فٹ اونچی ٹونٹی سے لٹک کر خود کشی کر لی ہے؛ شاملی ضلع ، اتر پردیش کے محمد صلاح الدین کو یوپی پولیس نے 1995ء میں چار کارتوس رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا،

1857ء کے جاں باز مجاہد

فضل حق خیرآبادی

  ؁1857 کے جاں باز مجاہد کے بارے میں سپرد قرطاس کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے پچھلے صفحات پلٹ کر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے تاکہ واضح ہوجائے کہ بھارت کس سنگین حالات سے گزر رہا تھا ـ

کچھ لمحات مفتی حسن منظر قدیری صاحب علیہ الرحمہ کی صحبت میں!

حسن منظر قدیری

عظیم نقاد، سب رنگ ادیب، کہنہ مشق فقیہ ، صوفی ، شاعر ، مورخ ، محدث، کنز الدقائق ، حضرت علامہ مفتی حسن منظر قدیری صاحب علیہ الرحمہ کی پیدایش 12/ اپریل، 1948ء کو، گانگی ٹولہ، پتھار بستی، بہادر گنج ، ضلع کشن گنج بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔

سانس در سانس ہجر کی دستک:کتنا مشکل ہے الوداع کہنا

مفتی آل مصطفےٰ

آج جب بہ وقت سحر بروز پیر بہ مطابق ١٠ جنوری ٢٠٢٢ء یہ روح فرسا خبر ملی کہ دنیائے سنیت کی عظیم علمی و عبقری شخصیت میرے نہایت ہی کرم فرما استاذ، فقیہ اسلام حضرت علامہ مولانا مفتی آل مصطفی صاحب قبلہ مصباحی (جنہیں اب "رحمۃاللہ علیہ” کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آیا چاہتا ہے) اس دھوپ بھری دنیا کو چھوڑ کر عدم کی بے کراں وادیوں کی طرف کوچ کر گئے

آہ! مفتی آل مصطفی مصباحی صاحب بھی نہ رہے!!

مفتی آل مصطفے

یوں تو دنیا میں ہر کوئی آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ اپنی مقررہ مدت کو پورا کر کے دار آخرت کی جانب کوچ کر جائے گا۔ لیکن جانے والے کی حیثیت و لیاقت اور فضل و مراتب کو دیکھ کر انسان دکھ و درد کا احساس کرتا ہے جانے والا جیسی حیثیت کا حامل ہوگا

برائی اور ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کرنے پر عذاب الٰہی!!

برائی اور ظلم

بطور مثال ضلع ناگور کا ایک مبارک قصبہ’’باسنی ‘‘ کا ذکر کرنا چاہوں گا،باسنی گاؤں اپنی اسلامی روایات کو برقرار رکھنے والا خوبصورت قصبہ کی حیثیت سے ضلع ناگور راجستھان میں واقع ہے،الحمد للہ اس گاؤں میں عالی شان اور خوبصورت مسجدیں آسمان کو مس کرتی ہوئی گنبدوں کے ساتھ دعوت نماز دے رہی ہیں،

کالج میں پڑھائی کے نام پربدکاری کے دلدل میں پھنستی لڑکیاں، والدین بے خبر!!

کالج جاتی لڑکیاں

والدین کی اپنی اولاد کے تئیں یہ کوششیں رہتی ہیں کہ ہماری اولاد اچھی تربیت پاکر دینی وعصری تعلیم سے مزین ہوجائیں،بچوں کی مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے والدین خوب محنت کرتے ہیں۔جب اولاکی تعلیم اسکول میں ختم ہوجاتی ہے

جہان علم وادب کی ایک اورقد آورشخصیت ابدی نیند کی آغوش میں!!

Mufti Hasan Manzari

آپ کی شخصیت قوم وملت کے لۓ علمی وادبی سرمایہ کی حیثیت سے متعارف تھی ،تحریر وتقریر میں یکساں مہارت حاصل تھی ، ادبی نگارشات میں ترتیب و تنسیق کی خوبی کےساتھ بلاکی جاذبیت ہوتی اور قارئین کی تنشیط خواطر کا باعث بنتی ،

 نیا سال اور آہ ! مسلمانوں کا کردارواعمال!!

نیا سال

نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے۔ کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائے گی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں؛