ہاں سیاست بھی ہے امراض ملت کی دوا!
1947 میں ملک آزاد ہوا تحریک آزادی میں سبھی مذاہب، سبھی برادری نے حصہ لیا آزادی کے بعد ملک کا آئین بنا اور آئین نے سب کے تحفظ کی ضمانت دی ہے ، ووٹ دینے کا حق دیا ہے،، تو ووٹ مانگنے کا بھی حق دیا ہے،
1947 میں ملک آزاد ہوا تحریک آزادی میں سبھی مذاہب، سبھی برادری نے حصہ لیا آزادی کے بعد ملک کا آئین بنا اور آئین نے سب کے تحفظ کی ضمانت دی ہے ، ووٹ دینے کا حق دیا ہے،، تو ووٹ مانگنے کا بھی حق دیا ہے،
حضور سیدنا غوثِ اعظم کا فرمان ہے ” میرے نزدیک بھوکوں کو کھانا کھلانا اور حسنِ اخلاق کامل زیادہ فضیلت والے اعمال ہیں ـ پھر فرمایا ” میرے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹھہرتا، اگر صبح کو میرے پاس ہزار دینا آئیں تو شام تک ان میں سے ایک پیسہ بھی نہ بچے ـ (غریبوں میں تقسیم کرنے اور انہیں کھانا کھلانے کی وجہ سے)
پورے ملک میں جلسے ہوتے رہتے ہیں علماء کرام واقعات اور مثالیں پیش کرتے ہیں اور ہم سنتے ہیں ہمیں بات سمجھ میں آتی ہے تو بھی سنتے ہیں اور فصاحت و بلاغت میں ڈوبی ہوئی بات ہمارے سروں سے اڑجاتی ہے تب بھی سنتے ہیں لیکن ہم ان سے حوالہ نہیں مانگتے ثبوت نہیں مانگتے،، اور انہیں علماء کرام و مقررین عظام کی باتوں میں سے
مفتی اعظم نیپال،خلیفۂ حضور سید العلما واحسن العلما،شیرنیپال حضرت علامہ ومولانا حافظ وقاری الحاج الشاہ مفتی جیش محمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ سابق قاضئ القضاۃ نیپال وشیخ الحدیث وصدر المدرسین جامعہ حنفیہ غوثیہ،جنک پور دھام
آخر کار ماہرین کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ Facebook سماج میں منافرت پھیلانے کا ارتکاب کرتا آیا ہے، فیس بک نے تنازعات میں جانب داری سے کام لیتے ہوئے ، جہاں بھی موقع ملا ہے، اکثر معاملات میں ”اسلام دشمنی“ کا مظاہرہ کیا ہے۔
مرکزی ادارۂ شرعیہ کے صدرورکن قانون ساز کونسل حکومت بہار مولانا غلام رسول بلیاوی نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے اطلاع دی ہے کہ تریپورہ کے بدتر حالات کی خبر، تباہ مساجد، لٹی ہوئی دُکانیںاور جلے ہوئے گھروں کی تصویریں سوشل میڈیا کے ذریعہ پہنچ رہی ہیں وہ نہایت ہی غم ناک ہیں۔
سفر مالوہ (12 تا 15 اکتوبر) کے درمیان سات ربیع الاول کو شہر مندسور میں خطاب کرنا تھا۔سورج اپنی کرنوں کو سمیٹ کر دوسری دنیا کو روشن کرنے کے لیے رخت سفر باندھ رہا تھا اور میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔
تعلیمی ادارہ کی سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری طلباء کی علمی، ذہنی اور فکری استعداد کو بڑھانا اور خوب پروان چڑھانا ہے۔ ایک طالب علم کی سب سے اولین ذمہ داری علمی میدان میں ترقی کا حصول ہے۔
جب تاریخ وفات ۱۲؍ربیع الاول ہے تو اس تاریخ میں جشن کس طرح منایاجارہاہے ۔وفات پر یا ولادت پر ؟اس تاریخ میں سانحہ ارتحال امت کے لئے بڑاسانحہ ہے، اس سے بڑھ کر کوئی حادثہ نہیں ہوسکتااور حادثہ کے موقع پر جشن منانا ایک سچے محب رسول کے شایان شان نہیں ہے۔
ہر سال جب ماہ ربیع الاول شریف آتا ہے تو عالم اسلام میں خوشیوں کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اہل ایمان طرح طرح سے جشن ولادت نبوی کا اہتمام کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ خاص طور سے بارہ ربیع الاول کو جو سرکار دوعالم ﷺ کی تاریخ آمد وولادت ہے بڑے دھوم دھام سے مناتے ہیں۔