بیٹےکی تعلیم سے ایک فرد  جبکہ  بیٹی کی تعلیم سے ایک نسل سنورتی ہے!!

تعلیم ہی کل بھی ہماری ترقی اور عروج کی ضامن تھی اور آج بھی دینی دنیاوی سماجی سیاسی اور معاشرتی ساری ترقیاں اسی سے مشروط ہیں، بلکہ ہم عالمی سطح پر رسوا ہی اس لیے ہوئے کہ ہم تعلیم سے دور ہوتے چلے گئے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جس امت کے پیغمبر تقدس مآب پر پہلی وحی ہی تعلیم و تعلم سے متعلق نازل ہوئی آج اسی نبی کی امت تعلیمی میدان میں عالمی سطح پر سب سے بد ترین صورت حال کا شکار ہے۔ پھر زوال امت کے کچھ اور اسباب تلاش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔

جشن عید میلاد النبی احادیث و تاريخ کے آئینے میں!

   اللہ رب العزت کا بے پایاں شکرو احسان ہے کہ اس نے ہمارے اوپر ایسے ایسے بیش بہا و گراں قدر نعمتیں نازل فرمائی کہ اگر ہم ان نعمتوں کو اعدادوشمار میں قید کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے جیسا کہ خود قرآن مجید اللہ میں ارشاد ہے”اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے "اور انھیں انواع و اقسام کی نعمتوں میں ایک ایسی انمول و بیش بہا نعمت عطا کیا کہ جس کے وجود میں آنے سے کائنات کی کایہ ہی پلٹ گئی، جس کے

سوشل میڈیا کا خوب صورت جال !!

انٹرنیٹ کی ہمہ گیریت اور ٹکنالوجی کی وسعت نے زندگی میں بہت ساری آسانیاں پیدا کردی ہیں۔زمانے بھر کی وسعتیں سمٹ کر آپ کی ہتھیلی میں آگئی ہیں۔لیکن جیسے جیسے ٹکنالوجی کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے ویسے ویسے ہماری سوچ وفکر اور شخصی آزادی ختم سی ہوتی جارہی ہے۔یہ عمل اتنی غیر محسوس طریقے سے ہورہا ہے کہ ہم اس کا ادراک تک نہیں کر پارہے ہیں۔سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔بچے ہوں کہ بوڑھے

نورکی کرن پھوٹی حضرت آمنہ کے آنگن میں!

بت پرستی،شراب نوشی،زناکاری،قماربازی،رہزنی، دختر کشی ،عصمت دری، جنگ وجدال ان کا نصب العین ہوچکا تھا۔حد تو یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے معبود حقیقی کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کی پوجا کیا کرتے تھے۔ اور اپنا معبود اسی کو سمجھتے تھے ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ ہر ہر قبیلہ کا معبود الگ الگ تھا کوئی قبیلہ لات کے آگے سر بسجود ہوتا تھا،کوئی قبیلہ عزی کا پجاری تھا،کوئی قبیلہ منات کی پرستش میں محو تھا۔

ٹاٹا کا اشتہار اور اسلام مخالف ذہنیت !!

ان دنوں ٹاٹا کے جیولری برانڈ ‘تَنِشق’ کا اشتہار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اشتہار میں ایک حاملہ ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جہاں مسلم خاندان، ہندو بَہُو کی "گود بھرائی” کی تقریب میں "ہندوانہ رسمیں” کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔امیدوں کے عین مطابق اشتہار کے منظر عام پر آتے ہی شدت پسندوں نے اسے ہندو تہذیب

سارے صحابہ عدل کے ستارے ہیں!!

 اللہ نے جب سے اس کائنات کی تخلیق فرمائی کارخانہ قدرت کا یہ نظام یے کہ اس ارض گیتی پر لاکھوں کروڑوں افراد کو پیدا فرمایا، مگر اس دھرتی پر ایک ایسی عظمت بھی اتاری اور ایک ایسا عظیم گروہ بھی لوگوں کے رشد و ہدایت کے لیے مبعوث کیا جسے دنیا صحابة الرسول کے نام سے جانتی ہے، انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد اس ارض گیتی پر کوئی جماعت سب سے زیادہ لائق تعظیم و تکریم و توقیر ہے تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت ہے،

عصمت دری کے نہ تھمنے والے واقعات : اسباب اور تدارک 

زنا بالجبر، تشدد اور اس کے بعد قتل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مجرم انتہائی سفاک، بے درد، ظالم، درندہ صفت اور بے مروت ہے۔ جس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ وہ شخص اپنی زندگی میں اچھی تربیت سے کوسوں دور رہا ہے،لھٰذا اب حکومتوں، نجی تنظیموں، ویلفیئروں، سوسائیٹیوں، سماجی خدمت گاروں اور حساس دل کے حامل تمام لوگوں کو اپنی اپنی وسعت کےمطابق اپنے ہم وطنوں کی عمدہ تربیت کرنے کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی، انہیں یہ احساس دلانا ہوگا

اعلی حضرت فاضل بریلوی:علوم وفنون کے بحر بیکراں

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان کی ذات وہ فرد فرید ہے جنھوں نے اپنی پوری زندگی امت مسلمہ کو باغیان اسلام کی ریشہ دوانی اور ان کے دام تزویر سے بچانے کے لیے اپنی علمی و فکری و فقہی و قلمی توانائی صرف فرمائی ، وہ اعلی حضرت جنہوں نے اپنے نوک قلم سے اس دور میں جنم لینے والے فتن و مفاسد کا قلع قمع فرمایا، اور ناموس رسالت پر شب خون مارنے والے شرپسند عناصر کی کلک رضا سے ایسی ضرب کاری لگائی

فاضل بریلوی کی محیرالعقول شعری جہات

اردو شاعری میں جن شخصیات سے میں حد درجہ متاثر ہوں وہ ہیں علامہ اقبال اور فاضل بریلوی۔۔۔اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ انہوں نے خود کو کسی لیلی‌‌‌ یا شیریں کے نین نقش، لب و رخسار، کاکل شب آشنا و گردن صراحی نما کی تصویر کشی میں گم نہیں کیا۔بلکہ ایک نے اپنی شاعری سے قوم کے مردہ جسم میں قیسانہ طور پر جان ڈالنے کی تحریک چلائی تو دوسری نے مسلمانوں کے قالب مظلم میں عشق سرمدی کی شعاعیں بکھیرنے کے لئے فرحادانہ تیشہ بکف، اندھیروں سے لڑائی لی۔

اعلی حضرت اور ذکر خدا عزو جل!!

ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے بارے میں یہ جـاننا ہو کہ وہ کتنا بڑا اللہ والا ہے اس کے پاس بیٹھو اس کی باتیں سنوں جس کی مجلسوں میں جس کی باتوں میں جتنا زیادہ اللہ کا نام آئیگا سمجھ جاؤ کہ وہ اتنا ہی بڑا اللہ والا ہے الحمد للہ جب میں اعلی حضرت کو پڑھتاہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مجلس ان کی ایسی نہیں جو ذکر اللہ سے خالی ہو ان کی تصنیف کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو اللہ کے ذکر سے خالی ہو ہر صفحے پر "سبحان اللہ ” الحمد للہ”بحمد اللہ "و بااللہ توفیق”بفضلیہ تعالی”بعون الملک الوھاب”