…..آخر انصاف اپنے انجام کو پہنچا !!

سی بی آئی کی خصوصی کورٹ نے 30 ستمبر 2020 کو بابری مسجد انہدام کے جملہ "ملزمین” کو بری قرار دے دیا اس طرح 1949 سے شروع ہوا "عدالتی انصاف” اپنے انجام کو پہنچ گیا۔71 سال کے اس سفر میں بابری مسجد نے "انصاف” کے نئے نئے رنگ دیکھے۔1528ء میں تعمیر ہونے والی مسجد میں 1949 تک بلا ناغہ نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔ برطانوی راج میں پہلی مرتبہ 1885 میں رگھبیر داس نامی شخص نے "سب جج” کی عدالت میں مسجد سے سو قدم کے فاصلے پر مندر کی اجازت مانگی جسے رد کردیا گیا۔

بِہار الیکشن: ووٹروں کی سوجھ بوجھ کا امتحان

بِہار اسمبلی انتخاب میں اس بار پارٹیوں اور گٹھ بندھنوں کی بَہار ہے۔ ایک طرف جے ڈی یو/ بی جے پی گٹھ بندھن ہے تو دوسری جانب کانگریس، آر جے ڈی اور کمیونسٹوں کا مہا گٹھ بندھن ہے۔ اس کے علاوہ اسدالدین اویسی ، پپّو یادو اور اوپیندر کشواہا نے بھی اپنا اپنا گٹھ بندھن بنا لیا ہے۔

*خواتین اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی  : عبرتناک اور فوری سزا ہی مسئلے کا حل

’خواتین اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب عبرتناک سزا کے مستحق ہیں‘ انہیں سرعام پھانسی دی جانی یا جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہئے تاکہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم پیغام صبحِ ادب کانپور کے قومی ترجمان قاری محمد شہود رضا رضوی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔۔پوری قوم کو ہلا ڈالنے والے ہاتھرس جنسی درندگی کے حالیہ واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

اترپردیش میں "گینگ ریپ”  مجرمین کے عزائم آخر اتنے بلند کیوں؟

ریاستِ اتر پردیش ان دنوں اخبارات،نیوزچینلوں، سوشل میڈیا،اور فیس بک کی سرخیوں میں گردش کر رہی ۔جس اتر پردیش میں ہزاروں مدارس و مساجد, ،منا در وچرچ اور کلیسا کے ساتھ ساتھ ہزاروں بڑے بڑے اسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، جس کی وجہ سے اتر پردیش ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مد مقابل امن وشانتی،بھائی چارگی ،سماجی ہم آہنگی ،مساوات،تہذیب وثقافت

قائدِ اہل سنت علیہ الرحمہ کی زندگی اور دورِ حاضر : سبطین رضا محشر مصباحی 

رئیس القلم ملک التحریر قائدِ اہلِ سنت  شاہکار سخن عاشقِ مصطفی حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ وہ ذاتِ بابرکات ہے جن کی قلمی اور علمی فیضان سے پورا عالمِ اسلام فیضیاب ہورہاہے جن کے قلم کی سیاہی کا ایک ایک قطرہ جہاں عشقِ سول اور اصلاحِ فکرو عمل میں روشن ہے  وہی ایک متحرک سماج و افراد کی تشکیل و تکمیل میں فروزاں ہے آپ کی علمی اور دینی کارنامے احیاے دینِ متین اور اشاعتِ اسلام میں مشکبار و سرشار ہے

علامہ ارشدالقادری-کچھ یادیں کچھ باتیں : عرس قائد اہل سنت پر خصوصی تحریر

وہ اتحاد کے قائل تھے، مشربی اختلاف سے انھیں حد درجہ نفرت تھی، اشرفی رضوی اختلاف کا انھیں بے حد قلق تھا، سبھوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششیں کرتے تھے۔ میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب خانقاہ ابو الفیاضیہ (پٹنہ) سے حضرت شاہ بر ہان علیہ الرحمہ اور خانقاہ منعمیہ (پٹنہ) سے سید شمیم احمد منعمی تشریف لائے اور آپ نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور بڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی

ہم کیا مطالعہ کریں…!!! (قسط نمبر ۲)

تصوف کی بنیاد مرشد ازل، حضور سید عالم ﷺ کے حکم سے، اصحاب صفہ نے مسجد نبوی میں رکھی، فن کی پہلی کتاب محدث عبد اللہ ابن مبارک نے ”کتاب الزہد“ نام سے تالیف فرمائی، اس فن کی اولین جامع تصنیف، امام ابو نصر سرّاج کی ”کتاب اللمع“ ہے۔ پروفیسر مسعود احمد مجددی علیہ الرحمہ نے تصوف کو ”روح اسلام“ قرار دیا ہے۔ انسان کی اخلاقی تربیت کا نام تصوف ہے ، سید الطائفہ حضر جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے الفاظ میں ”دل کو کدورتوں اور دنیاوی خیالات سے پاک کرنا تصوف ہے “۔

ہم کیا مطالعہ کریں…!!! (قسط نمبر ا)

کتابوں کی طاقت مسلّم ہے، کارل مارکس کی ایک کتاب نے ایشیا اور یورب کا نظام معیشت بدل دیا، ایک کتاب تھی، جس نے ”انقلاب روس“ کی راہ ہموار کر دی، ہیری پوٹر جیسی کتابوں نے بچوں کے فکر و شعور کا رجحان کا رجحان ہی بدل دیا، ”In Search of Lost Time“ ایک ناول ہے، اس کتاب نے بیسویں صدی میں ادیبوں کا رخ اور تیور بدل دیے؛ لیکن یاد رہے

 فخر القراء حضرت مولانا قاری ابو الحسن مصباحی : مبارک حسین مصباحی

Qari-Abul-Hasan

حضرت مولانا قاری ابو الحسن مصباحی نے درسِ نظامی کے دوران استاذ القرا حضرت قاری عبد الحکیم عزیزی گونڈوی (بلرامپوری) کی درس گاہ میں قرأت حفص کا کورس مکمل کیا، ماشاء اللہ تعالیٰ ہمارے بزرگ حضرت قاری عبد الحکیم عزیزی سے ہماری متعدد ملاقاتیں ہیں ۔آپ فطری طور پر نیک اور بلند اخلاق تھے، اپنے مرشدِ گرامی حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہٗ کے زبردست شیدائی تھے، مرشدِ گرامی نے آپ کو چند اوراد و وظائف کی خصوصی اجازتیں بھی عطا فرمائیں تھیں۔

 شارح بخاری کی آفاقی شخصیت اور منفرد علمی شناخت : مبارک حسین مصباحی

Sharhe-Bukhari

گھوسی کی سر زمین پر ایک معمولی سے خاندان میں 1921ء میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کرتا ہے ۔ حضرت حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان جب 1934ء میں مبارک پور کی سر زمین پر جلوہ گر ہوتے ہیں آپ کی آمد کے بعد مدرسہ اشرفیہ شہرتوں کے بام عروج پر پہنچتا ہے تو اس کی صدائے باز گشت گھوسی کی سر زمین پر بھی سنائی دیتی ہے وہ فقیہ اعظم ہند جو اس وقت صرف ’’محمد شریف الحق‘‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے