مفتی سلمان ازہری، مرکز کا فتویٰ اور عوام اہل سنت کا اضطراب

سلمان ازہری

کچھ سوالات جو سوشل میڈیا پر تیزی سے تیر رہے ہیں۔کیا مسجد انتظامیہ کو مذکورہ مسئلے میں حضرت تاج الشریعہ کے موقف کاعلم نہیں تھا؟ یقینا تھا، تو پھر بنا استفتا کا ڈرامہ کیے انہوں نے مفتی سلمان ازہری پر کارروائی کیوں نہیں کی؟

ڈھونگی باباؤں کی بڑھتی تعداد یقیناً امت کے لئے باعث تشویش(قسط دوم)

ڈھونگی بابا

جب کوئی شخص پریشان ہوتا ہے تو اسے دنیا نظر نہیں آتی، پھر وہ مفت میں ملنے والے مشورے کے جال میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کیا جائے کس مشورے پر عمل کرے

ڈھونگی باباؤں کی بڑھتی تعدادامت کے لئے باعث تشویش!

ڈھونگی بابا

ڈھونگی باباؤں کی بڑھتی تعدادامت کے لئے باعث تشویش! (=:قسط وار =:)__ (پہلی قسط) آج جدھر بھی دیکھئے آپ کو ادھر ڈھونگی باباؤں کی جماعت قوم کو لوٹنے کا کام بے دھڑک کرتی ہوئی مل جائیں گی، جس شخص کے پاس کوئی کام نہیں یا جو شخص کسی کام کا نہیں،،تو اس کے لئے ایک … Read more

جاوید اختر بھارتی کی تحریر ’’کتنا درست ہے حسب ونسب کا نشہ۔۔۔‘‘ کاتنقیدی جائزہ (آخری قسط)

نسب

جب سید زادے اس کے قائل ہی نہیں ہیں تو کیسے مخالفت ہوئی، یہ تو ادنی تأمل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ اور یہ آپ کی تحریر بھی بتا رہی ہے کہ کسی سید زادے نے نہیں بلکہ ان کے کسی عقیدت مند نے کہا ہے۔

الرضا نیٹورک پر شائع :جاوید اختر بھارتی کی تحریر ’’کتنا درست ہے حسب ونسب کا نشہ۔۔۔‘‘ کاتنقیدی جائزہ

حسب ونسب

مضمون کا ہڈینگ تو اس قدر دل چسپ ہے کہ اولِ نظر میں نہ چاہ کر بھی مضمون پڑھنے کا دل کرنے لگتا ہے۔ مضمون میں جناب بھارتی صاحب نے خوب الفاظ کے پیراہن میں سید زادوں کو کھری کھوٹی سنائی ہے

کتنا درست ہے حسب ونسب کا نشہ؟ محض اعلیٰ نسب ہونےپر گھمنڈ کس لیے؟؟

حسب و نسب

قرآن مقدس ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کررہا ہے کہ اے لوگوں ہم نے تمہیں ایک مرد ایک عورت سے پیدا کیا،، تم سب آدم و حوا کی اولاد ہو،، تمہیں شعبے اور قبیلے میں بانٹا تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو،

روشن خیالی کے مریض !!

روشن خیالی

‘روشن خیالوں’ کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی ‘تِکڑم’ بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر ‘تنقید پروف’ ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔

 24 اگست کو دہلی جنتر منتر پر کیا ہوا؟ کس نے کیا؟ کیسے کیا؟ آگے کیا ہوگا؟

قمر غنی

جیسا کہ آپ سب کو سوشل میڈیا و دوسرے ذرائع ابلاغ سے یہ معلوم ہوگا کہ 8 اگست کو دہلی جنتر منتر پر اسلام مخالف نعرہ بازی کی گئی اور پولس نے وہی کیا جو ہر بار کرتے آئی ہے ، ظاہر ہے اب بات حد سے آگے بڑھ گئی ہے