اب رواجی جلسوں کی ہرگزضرورت نہیں!!

روایتی جلسے

ہمارا سیمانچل تقریباً آزادی کے بعد ہی سے غربت و افلاس کی زبردست مار برداشت کررہا ہے، سیمانچل کے ہر سو آدمیوں میں سے تقریباً 85 آدمی مزدوری کرکے اپنی زندگی گذربسر کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ابھی تک سیمانچل کی تعلیمی شرح سچرکمیٹی اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 30 سے 45 فیصد ہی ہے

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ(قسط دوم)

مسلم سیاست

مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم پارٹی کے دروازے شروع ہی میں بند کر دیے گیے تھے لیکن جنوبی ہند میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں جما لی تھیں۔بعد میں متحدہ آندھرا پردیش میں اسدالدین اویسی کے دادا عبدالواحد اویسی صاحب نے مجلس اتحاد المسلمین کو از سر نو زندہ کیا۔

مسلم سیاسی پارٹی مفید یا مضر: ایک تجزیہ!(قسط اول)

مسلم پارٹی

آزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور ان کے مزاج کی جھلک دکھا دی تھی، لیڈران ملک کی بدلتی ہوا کو بھانپ چکے تھے اس لیے کانگریس کی زبردست مقبولیت کے باوجود مذہب اور ذات پر مبنی پارٹیوں نے بھی قسمت آزمائی کی اور کامیابی پائی۔

रोशन मुस्तक़बिल ने किसानों के लिए उठाई आवाज़

रोशन मुस्तकबिल

पीछले सात महिनों से रूखी सूखी खाकर, गर्मी, सर्दी एंव बारिश बरदाश्त करते हुवे देश के अन्नदाता किसान एहतेजाज की चादर फैलाए अपना हक़ मांग रहै हैं। लेकिन सरकार पिछले सात महीनों से सुना अनसुना कर रही है।

 کھانے پینے کی تمام اشیاء میں ملاوٹ کا بازار گرم،انسانی صحت سے بڑے پیمانے پر کھلواڑ!

ملاوٹ

آج کا انسان اپنی صحت کے بارے میں بہت فکر مند رہتا ہے اور اپنے فائدے کی چیزوں کا استعمال کرتاہے۔لیکن افسوس جہاں دنیا وی فائدے یا نفع ونقصان پر نظر رکھی جاتی ہے جو اچھی بات ہے،لیکن مذہبی نقطہ نظر سے حرام وحلال پربالکل توجہ نہیں دی جاتی

آدمی کا جسم کیا ہے جس پہ شیدا ہے جہاں!! 

آدمی کا جسم

رب کائنات نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا بنایا، دیکھنے کیلئے آنکھیں عنایت کیں، پکڑنے کے لئے اور دوسروں کو سہارا دینے کے لیے ہاتھ عطا فرمایا، چلنے کیلئے پاؤں بخشا، سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ لینے کے لئے دل اور دماغ بھی دیا جب انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا اور جب وہ دنیا میں آیا تو اس کی مٹھی بند تھی یعنی جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہی رہتی ہیں

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے!!

مشتاق نوری

بت چاہے خارج میں پتھر کا ہو یا ذہنی سوچ کا، دونوں برے ہی ہوتے ہیں۔ایسے سارے بتوں پر خدائی عدل و حکومت کا بلڈوزر چلا کر محض دین و شرع کی حاکمیت بحال کرنا داعی کا اولیں کام ہے۔ہمارے اندر چھپے یا چھپاۓ ان سارے بتوں کو "جاء الحق و زھق الباطل” سناتے ہوۓ کعبۂ قلب و نظر سے باہر پھینکنا ہوگا جو ناصرف خدا کی وحدانیت کے ر