سردانا کی کورونائی موت کے بعد کا منظرنامہ

Rohit Sardana

کہا جاتا ہے کہ ٹی وی چینلوں پر ہندو مسلم کا لپھڑا کھڑا کرنے والا پہلا شخص روہت سردانا ہی تھا۔وہی روہت سردانا کورونا کی بھینٹ چڑھ گیا۔یعنی اس کے سارے فرقہ وارانہ دنگلوں میں دھرم کا بھانگ چڑھا کر تال ٹھونکنے والے اب نہیں دکھیں گے۔جی ہاں وہی کورونا جس کی آڑ میں پوری میڈیا برادری نے مسلمانوں کو زیرو ڈاؤن کرنے کے لیے اپنا سارا زور لگا دیا تھا۔

خدا غارت کرے ایسی خانقاہیت اور گروہیت کو

خدا غارت کرے ایسی خانقاہیت اور گروہیت کو

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــپہلے نظام خانقاہی سر تا پا روحانی ہوا کرتا تھا۔اس پر جنید و بایزید اور شبلی و سقطی کا رنگ غالب ہوا کرتا تھا۔لوگ وہاں جاکر خدا بھی پاتے تھے اور خدائی بھی۔وہاں کسی کی ان دیکھی نہیں ہوتی تھی۔حقداروں کو ان کا حق پہلی فرصت میں مل جایا کرتا تھا۔چاہے وہ خانقاہ سے جڑے ہوں یا باہر سے ہوں۔

کورونا اور احتیاطی تدابیر، طاعون عمواس کی روشنی میں

کورونا اور احتیاطی تدابیر، طاعون عمواس کی روشنی میں

640 عیسوی کا واقعہ ہے۔ سنہ ١٧ ہجری کے آخری مہینے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ تعالی عنہ) کے دور حکومت میں ملک شام ، مصر اور عراق میں ایک خطرناک وبا نمو دار ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ،

کورونا کیوں نہیں جا رہا ہے یہ سوچنے کی ضرورت ہے!!

کورونا وائرس

کورونا کو لے کر جو جو دھماچوکڑی کی گئی ہے وہ بھی اب سارے لوگ جان چکے ہیں۔ لاش کسی کی ،دی جارہی ہے کسی کو۔ لاشوں کو چیر پھاڑ کر قیمتی اعضاء نکالنا ۔اچھا بچھا آدمی ہاسپٹل گیا۔ اس کو کورونا پازیٹیو بتا کر پیک کر دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں اور ہاسپیٹل والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ انسانوں کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں۔

دو گز دوری، ماسک ضروری، تو پھر ریلی اور کمبھ کا انعقاد کیوں!!

دو گز دوری، ماسک ہے ضروری تو پھر ریلی اور کمبھ کا انعقاد کیوں!!

رمضان المبارک کا مہینہ آیا لوگوں کو پہلے سے کافی خوشی تھی دکاندار کے چہرے پر کچھ مسکراہٹ آئی تھی، مالوں کی خریداری کچھ شروع ہوئی تھی، خونچہ و خوانچہ ٹھیلا والے اپنی اپنی جگہ متعین کررہے تھے، پھل فروٹ کا آرڈر بک کرا رہے تھے،

بے خطر کود پڑا آتش ہنود (نمرود) میں عشق

Atishe-Namrood

میں نے بہت پہلے کسی کتاب میں(غالبا تاریخ نجد و حجاز میں)پڑھا تھا کہ سقوط غرناطہ سے قبل عیسائی جرنیل نے ایک دن ایک نیم پاگل کو بتول رسول حضرت فاطمہ علیہا السلام کو گالی بکنے کے لیے (العیاذ باللہ) غرناطہ کے ایک مسلم بھیڑ بھاڑ والے چوراہے پر کھڑا کر دیا۔وہ گالیاں دیتا رہا لوگ آتے جاتے رہے کسی نے بھی اسے نہ روکا نہ ٹوکا۔تب اس عیسائی جرنیل نے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ چھیڑی جاۓ۔

نرسنگھا نند کی دریدہ دہنی

نرسنگھانند کی دریدہ دہنی

مذہب اسلام کے ماننے والوں کا ہر دور میں شر کی بادِ صرصر، اہلِ باطل کی شر انگیزیوں، کفر کی بلا خیز آندھیوں اور شاتمانِ خدا و رسول کی فتنہ بازیوں، زبان درازیوں اور فسوں طرازیوں کا سامنا ہوتا رہا ہے، لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھیلنے انہیں اشتعال دلانے