ایک ملک ، دو تحریکیں دو نتائج!!

Shaheenbagh and Kissan Movement

موجودہ سرکار کے دور اقتدار میں ، بھارت کی سر زمین سے دو عظیم تحریکیں اٹھیں اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ آغاز اور درمیان دونوں کا یکساں تھا؛ لیکن دونوں تحریکوں کے انجام میں نمایاں فرق نظر آیا: ایک تحریک اپنے مقصد اور ہدف کے حصول میں حرف بحرف کامیاب ثابت ہوئی ، جب کہ دوسری تحریک نے درمیان ہی میں اپنی دم خم توڑ دی۔

اکھلیش، اویسی سے اتحاد کیوں کرے؟

owaisi

اکھلیش یادو نے اسدالدین اویسی کے ساتھ کسی بھی اتحاد سے صاف منع کردیا ہے۔بعض جذباتی مسلمان بڑے غصے میں ہیں کہ جب اکھلیش یادو آدھا درجن پارٹیوں سے اتحاد کر سکتے ہیں تو اویسی کی پارٹی سے اتحاد کرنے میں کیا برائی ہے؟

اپنی قیادت کیوں نہیں؟؟

اپنی قیادت

یوپی کا الیکشن قریب ہے، اسی کے تناظر میں آپ نے موہن بھاگوت کا ہمدردی والا بیان سن لیا ہوگا ، اکھلیش کے مسلم سمیلن کے انعقاد کی خبر یقینا آپ کو ہو چکی ہوگی اور یہ بات بھی آپ کے کانوں تک پہنچ چکی ہوگی کہ کس طرح مختلف پارٹیاں مسلم دھرم گرووں کو اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہیں اور شامل ہونے والے بھی کس طرح سب کچھ بھلا کر بخوشی شامل ہو رہے ہیں۔

بد عنوان (corrupt) نیتا، جمہوریت کے چیمپیئن، دیکھیں قسمت کا کھیل!

Corrupt politician

دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک،پریشان عوام ہمارا پیا ر املک ہندوستا ن 1947 میں آزاد ہوا تمام مذاہب وتمام ذات،برادری کے لوگوں نے قربانیاں دیں،اپنا قانون، اپنی جمہوریت کے باوجود آج ملک میں بہت زیادہ بے چینی بدامنی پائی جارہی ہے۔ طرح طرح کے ظالمانہ، قانونوں کو لاکر اپنی من مانی کی جارہی ہے، اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان کالے قانونوں کے خلاف عوام کا جو حق ہے” احتجاج” کا ہے اس کو بھی بزورطاقت دبایا جارہا اور چھینا جا رہاہے۔،caa,nrc,npr, اور جو کسانوں کے لیے نیا بل پاس ہوا ہے،

…..آخر انصاف اپنے انجام کو پہنچا !!

سی بی آئی کی خصوصی کورٹ نے 30 ستمبر 2020 کو بابری مسجد انہدام کے جملہ "ملزمین” کو بری قرار دے دیا اس طرح 1949 سے شروع ہوا "عدالتی انصاف” اپنے انجام کو پہنچ گیا۔71 سال کے اس سفر میں بابری مسجد نے "انصاف” کے نئے نئے رنگ دیکھے۔1528ء میں تعمیر ہونے والی مسجد میں 1949 تک بلا ناغہ نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔ برطانوی راج میں پہلی مرتبہ 1885 میں رگھبیر داس نامی شخص نے "سب جج” کی عدالت میں مسجد سے سو قدم کے فاصلے پر مندر کی اجازت مانگی جسے رد کردیا گیا۔

بِہار الیکشن: ووٹروں کی سوجھ بوجھ کا امتحان

بِہار اسمبلی انتخاب میں اس بار پارٹیوں اور گٹھ بندھنوں کی بَہار ہے۔ ایک طرف جے ڈی یو/ بی جے پی گٹھ بندھن ہے تو دوسری جانب کانگریس، آر جے ڈی اور کمیونسٹوں کا مہا گٹھ بندھن ہے۔ اس کے علاوہ اسدالدین اویسی ، پپّو یادو اور اوپیندر کشواہا نے بھی اپنا اپنا گٹھ بندھن بنا لیا ہے۔

صاحب! کٹورا تھما کر ہی دم لیں گے

Indian-Economy-1

گذشتہ دن ہوئی (جی ایس ٹی )کاونسل کی 41ویں اجلاس میں مرکزی حکومت کی جانب سےریاستی حکومتوں سے کئے گئے جی ایس ٹی معاوضہ دینے کے وعدہ کو تورڈیا گیاہے، جب کہ گودی میڈیا اس خبر کو توڑ موڑکر دکھا رہی ہے جوکہ بکاہوا میڈیاہے یہ سبھی لوگ اچھی طرح سے جانتے مانتے اور سنتے آرہے ہیں، جی ایس ٹی کا معاملہ  یہ ایک بہت ہی سنگین اور ملک کے معاشی حالات کو بد سے بدتر کرنے والا معاملہ ہے، جب کہ ریاستوں کو ان کے حصے کا پیسہ ملنا چاہئے کیونکہ یہ جمہوری حق ہےاور مرکزی حکومت کو اس پر پابندی لگانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، واضح ہو کہ مارچ سے ہی باضابطہ ادائیگی نہیں کی گئی، 

مسئلہ کشمیر: شاہ فیصل، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم!!

شاہ-فیصل

کشمیر کی زمینی صورت حال کس قدر پیچیدہ اور الجھی ہوئی ہے اس کا اندازہ شاہ فیصل کے دو استعفوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ استعفے ڈیڑھ سال کے وقفے میں منظر عام پر آئے ہیں۔ 2010 میں upsc (یونین پبلک سروس کمیشن) میں ملک بھر میں ٹاپ کرنے والے IAS شاہ فیصل اس وقت سرخیوں میں آگئے تھے

صرف مسلمان سیکولرزم کا بوجھ ڈھورہا ہے!!

لالو ملایم اویسی

سوائے ایک بار پردھانی کے کبھی موقع ہی میسر نہیں آیا کہ میں کسی کو ووٹ کر سکوں ۔۔۔ اللہ کے فضل سے اسی لیے کسی بھی پارٹی کا طرفدار ، بھکت یا چمچہ ہونے سے محفوظ ہوں۔کہنے کو تو ایک دھرم نرپیچھ دیس ہے لیکن ہمارے ملک کی سیاست کبھی دھرم نرپیچھ نہیں رہی

پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان سے غیر مسلموں کو لانے والے کہاں ہیں؟

مزدور1

زیادہ دن نہیں گزرے جب پورا ملک سی اے اے کی آگ میں سلگ رہا تھا.پڑوسی ممالک کے شہریوں کو بھارت لانے کی آڑ میں مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے ساژشیں چل رہی تھیں۔ایوان اقتدار سے لیکر گاؤں کے گلیاروں تک موسمی "انسانیت نوازوں اور ہمدردوں” کی ٹولیاں