فاضل بریلوی کی محیرالعقول شعری جہات

اردو شاعری میں جن شخصیات سے میں حد درجہ متاثر ہوں وہ ہیں علامہ اقبال اور فاضل بریلوی۔۔۔اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ انہوں نے خود کو کسی لیلی‌‌‌ یا شیریں کے نین نقش، لب و رخسار، کاکل شب آشنا و گردن صراحی نما کی تصویر کشی میں گم نہیں کیا۔بلکہ ایک نے اپنی شاعری سے قوم کے مردہ جسم میں قیسانہ طور پر جان ڈالنے کی تحریک چلائی تو دوسری نے مسلمانوں کے قالب مظلم میں عشق سرمدی کی شعاعیں بکھیرنے کے لئے فرحادانہ تیشہ بکف، اندھیروں سے لڑائی لی۔

اعلی حضرت اور ذکر خدا عزو جل!!

ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے بارے میں یہ جـاننا ہو کہ وہ کتنا بڑا اللہ والا ہے اس کے پاس بیٹھو اس کی باتیں سنوں جس کی مجلسوں میں جس کی باتوں میں جتنا زیادہ اللہ کا نام آئیگا سمجھ جاؤ کہ وہ اتنا ہی بڑا اللہ والا ہے الحمد للہ جب میں اعلی حضرت کو پڑھتاہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مجلس ان کی ایسی نہیں جو ذکر اللہ سے خالی ہو ان کی تصنیف کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو اللہ کے ذکر سے خالی ہو ہر صفحے پر "سبحان اللہ ” الحمد للہ”بحمد اللہ "و بااللہ توفیق”بفضلیہ تعالی”بعون الملک الوھاب”

پردہ:فتاویٰ امام احمدرضا کی روشنی میں

       حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد انصار کی عورتیں سیاہ چادروں سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر اس طرح سکون اور وقار سے باہر نکلتیں گویا ان کے سروں پر کوے ہیں ۔حضرت مجاہد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اگر عورتیں چادریں اوڑھے ہوئے ہوں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ عصمت شعار آزاد عورتیں ہیں،

امام احمد رضا ایک عظیم علمی شخصیت 

چودہوں صدی ہجری کے اوائل میں اُفق عالم پر طلوع ہونے والا ایک عظیم علمی آفتاب جس نے اپنی ضو بار کرنوں سے اکناف عالم کو منور ومجلی کردیا، اہل باطل کی جانب سے چلائے گئے طوفانوں کے لاکھ دھول ڈالنے کے باوجود جس کی تابناکی میں ذرہ بھر بھی کمی نہ ہوئی بلکہ مزید نکھرتی اور سنورتی گئی وہ عظیم علمی شخصیت، اعلی حضرت، امام اھل سنت، مجدد دین وملت، حضرت علامہ ومولانا مفتی الحاج الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی ہے ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری تاریخ کی روشنی میں!

تاریخ کاہر دور شاہد ہے کہ حق پرست علماء و عرفاء نے دین متین کے خلاف اٹھنے والے ان بے ہنگم فتنوں کا سر کچل کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دین آج تک محفوظ ہے۔ لیکن ان فتنوں کو پیدا کرنے والے،انہیں ہوا دینے والے فنا کے گھاٹ اتر گئے، اور کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی راکھ اڑ کرکس شمشان گھاٹ میں دفن ہوئی۔ جبکہ دین حق کی حفاظت کرنے والے اس برگ وبارکو اپنی رگوں کے خون سے سیراب کرنے والے محافظین رحمت حق کے جوار میں آباد ہیں اور لوگوں کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں ۔

حیات حضور حفیظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان

خلیفہ حضور شیرنیپال، حضرت قاضیٔ شرع مفتی عبد الحفیظ رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی تہہ دار شخصیت کسی تعارف کے محتاج نہیں،آپ نے صوبہ بہار اور اس سے متصل نیپال کے اطراف و علاقوں میں جو دینی ملی تبلیغی اور سماجی خدمات فتاویٰ،قضا،خطابت اور تنظمیں و مدارس و مساجد قائم کی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی علاقہ میں آپ کی خدمات و شخصیت کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

علامہ نعمان خاں اثرقادری ایک ہمہ جہت شخصیت

حافظ ملت کی ولایت کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ بچہ اپنے وقت کاجیدعالم دین ہوگاچنانچہ أپ نے ان کاداخلہ لے لیاماں باپ نے جس بچہ کوپیارسے اس کے مشفق استاذکے پاس رکھاکہ پورے طورسے علم دین حاصل کرے اورہوابھی ایساہی کہ صدرالصدوراستاذالاساتذہ نعمان ملت الحاج علامہ مولانانعمان خاں قادری اثراعظمی حضورحافظ ملت کی أغوش تربیت میں مسلسل

اعلیٰ حضرت تو اعلیٰ حضرت ہی ہیں!!

اللہ رب العزت اپنے مخصوص بندوں کی پیشانی میں بچپن ہی سے معرفت کا نور ہویدا فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت علامہ بدرالدین قادری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "سوانح اعلیٰ حضرت” میں یہ واقعہ درج فرمایا ہے کہ : آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بسم اللہ خوانی کی رسم کے موقع پر ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا. آپ کے استاد محترم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی نے حسب دستور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد الف ب ت ث ج وغیرہ حروف تہجی پڑھانا شروع کیا.

نذرانۂ عقیدت در بارگاہ حضور حفیظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان

ملک نیپال بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں ہزاروں اولیا موجود ہیں بعض کی شہرت ہے بعض مخفی یہاں بھی ایک سے بڑھ کر ایک اولیا علما صلحا فقہا پیدا ہوے اور ہوتے رہیں گے انہیں فقہا علما میں نیربرج خطابت منبع فصاحت و بلاغت مصدر رشد و ہدایت مناظر اہلسنت قاطع کفروضلالت فداے جیش ملت تلمیذ ارشد حضور شیر نیپال مصلح قوم وملت نازش فقہاہت مقتداے اہلسنت حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ مفتی عبدالحفیظ رضوی مصباحی

قائدِ اہل سنت علیہ الرحمہ کی زندگی اور دورِ حاضر : سبطین رضا محشر مصباحی 

رئیس القلم ملک التحریر قائدِ اہلِ سنت  شاہکار سخن عاشقِ مصطفی حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ وہ ذاتِ بابرکات ہے جن کی قلمی اور علمی فیضان سے پورا عالمِ اسلام فیضیاب ہورہاہے جن کے قلم کی سیاہی کا ایک ایک قطرہ جہاں عشقِ سول اور اصلاحِ فکرو عمل میں روشن ہے  وہی ایک متحرک سماج و افراد کی تشکیل و تکمیل میں فروزاں ہے آپ کی علمی اور دینی کارنامے احیاے دینِ متین اور اشاعتِ اسلام میں مشکبار و سرشار ہے