حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمة اللہ علیہ
آپ کے مجاہدہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے کہ آپ بارہ سال تک تقسیم لنگر کا فریضہ انجام دیتے رہے اور لنگر کا ایک دانہ بھی منھ میں نہ ڈالا کیونکہ آپ کو صراحةً کھانے کی اجازت نہ تھی کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا جسم نحیف و ناتواں ہو گیا اور جب بھوک کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو جنگلوں میں جاکر پھول پھل کھاکر بھوک مٹاتے پھر تقسیم لنگر میں لگ جاتے ۔ یہ سلسلہ یونہی بارہ سال تک چلتا رہا جس کے سبب جسم اطہر پراستخواں ظاہر ہو گئے یہ حال دیکھ کر با با صاحب آپ سے بولے بیٹا علاؤالدین! تم صرف کھاناہی تقسیم کرتے