حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمة اللہ علیہ

آپ کے مجاہدہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے کہ آپ بارہ سال تک تقسیم لنگر کا فریضہ انجام دیتے رہے اور لنگر کا ایک دانہ بھی منھ میں نہ ڈالا کیونکہ آپ کو صراحةً کھانے کی اجازت نہ تھی کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا جسم نحیف و ناتواں ہو گیا اور جب بھوک کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو جنگلوں میں جاکر پھول پھل کھاکر بھوک مٹاتے پھر تقسیم لنگر میں لگ جاتے ۔ یہ سلسلہ یونہی بارہ سال تک چلتا رہا جس کے سبب جسم اطہر پراستخواں ظاہر ہو گئے یہ حال دیکھ کر با با صاحب آپ سے بولے بیٹا علاؤالدین! تم صرف کھاناہی تقسیم کرتے

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری تاریخ کی روشنی میں!

تاریخ کاہر دور شاہد ہے کہ حق پرست علماء و عرفاء نے دین متین کے خلاف اٹھنے والے ان بے ہنگم فتنوں کا سر کچل کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دین آج تک محفوظ ہے۔ لیکن ان فتنوں کو پیدا کرنے والے،انہیں ہوا دینے والے فنا کے گھاٹ اتر گئے، اور کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی راکھ اڑ کرکس شمشان گھاٹ میں دفن ہوئی۔ جبکہ دین حق کی حفاظت کرنے والے اس برگ وبارکو اپنی رگوں کے خون سے سیراب کرنے والے محافظین رحمت حق کے جوار میں آباد ہیں اور لوگوں کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں ۔