علامہ ارشدالقادری-کچھ یادیں کچھ باتیں : عرس قائد اہل سنت پر خصوصی تحریر

وہ اتحاد کے قائل تھے، مشربی اختلاف سے انھیں حد درجہ نفرت تھی، اشرفی رضوی اختلاف کا انھیں بے حد قلق تھا، سبھوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششیں کرتے تھے۔ میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب خانقاہ ابو الفیاضیہ (پٹنہ) سے حضرت شاہ بر ہان علیہ الرحمہ اور خانقاہ منعمیہ (پٹنہ) سے سید شمیم احمد منعمی تشریف لائے اور آپ نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور بڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی

آہ! علامہ ابوالحقانی: میرے وہ آخری پانچ منٹ : احمدرضا صابری

editorial-1

حضرت ابوالحقانی کی سحر انگیز شخصیت کا اثر جہاں ان کے ہم عصروں پر ہمیشہ طاری رہا وہیں ہم نوجوان بھی ان کی جادوئی شخصیت کے اسیر تھے۔ گفتگو ایسی کہ بچہ بچہ عش عش کراٹھے، فن خطابت کو ایک نئی اونچائی اور منفرد شناخت عطاکرنے والے حضرت حافظ احادیث کثیرہ اس فن کے اکلوتے شہسوار تھے جن کے حیات مستطاب میں کوئی بھی خطیب ان کے گرد راہ کو بھی نہ چھو سکا۔ فن کی بلندی پر پہنچنا کبھی کمال نہیں ہوتا، کمال ہوتا ہے چار پانچ دہائیوں تک مسلسل اس بلندی پر بنے رہنا۔

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ اکابر کی نظر میں

Muftiye-Azam-Hind

 آفتاب علم و معرفت شہزادۂ مجدداعظم حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے اکتالیسویں امام وشیخ طریقت ہیں،آپ کے فضائل و مناقب بے شمار صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں جس کا انحصار بیان تحریر سے باہر ہے۔ بالاختصار چند مشائخ کے اقوال سے آپ کے فضائل کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

ہے کمی تو بس میرے چاند کی جو تہ مزار چلا گیا : آہ! مفتی معراج الحق قادری

مفتی-معراج

درس و تدریس کے بے تاج بادشاہ تھے، جو پڑھانے بیٹھ جاتے تو لگتا تھا کہ الہام ہو رہا ہے ،بغیر رکے،بغیر تھکے بولتے جاتے جسے سمجھ میں آتا وہ تو رخِ زیبا تکتا ہی ،جسے نہیں بھی آتا وہ بھی تکتے جاتا اور حتی الامکان سمجھنے کی کوشش بھی کرتا۔