رسول کریمﷺکی آمد اورمحفل میلاد کی برکتیں!

آپ ﷺ کی جب ولادت ہوئی تو بے شمار نعمتوں ،رحمتوں اور برکتوں  کا نزول  ہوا۔قریش شدید قحط اور عظیم تنگی میں مبتلا تھے ، درخت خشک اور تمام جانور لاغر وکمزور ہوگئے تھے۔ اللہ رب العزت نے  آپ ﷺ کی برکت سے بارش کانزول فرمایا ،جس نے جہان بھر کو سر سبز وشاداب کردیا ،درختوں میں تروتازگی آگئی اور تمام جانور کے تھن دودھ سے بھر گئے۔سارا عالم آپ ﷺ کے نور سے منور و روشن ہوگیا۔حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ‘‘حضور اکرم ﷺ میرے شکم میں تھے کہ ایک دفعہ مجھ سے ایسا نور نکلا جس سے سارا جہان منور ہوگیا اور میں نے بصرہ کے محلات دیکھے’’۔

محمد عربی ﷺ کی آمد عرب میں ہی کیوں؟

     اگر ہم ملک عرب کوکرہ زمین کےنقشہ پر دیکھیں تو اس کے محلہ وقوع سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی عزوجل نے ملک عرب کو ایشیاء، یورپ اور افریقہ تین بر اعظموں کے اعظم کے وسط میں جگہ دی ہے۔اس سے بخوبی یہ سمجھ میں آسکتا ہےکہ اگر تمام دنیا کی ہدایت کے واسطے  ایک واحد مرکز قائم کرنے کے لیے ہم  کسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیں تو اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب مقام ہے ۔خصوصا حضور اکرم صلی اللہ وسلم کے زمانے

میلاد النبی ﷺکی محفلیں سجانا  کیسا؟

اللہ رب العزت کے بعد سب سے افضل مرتبہ نبی پاک ﷺ کا ہے ،اتنا عظیم کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے کلمئہ طیبہ میں اپنے حبیب پاک کا نام شامل فرما لیا ہے،لہذا نبی پاک کا ذکر اللہ کے ذکر کے بعد سب سے افضل کام ہے،اور اللہ کے نیک بندوں کا ذکر کرنا باعث برکت و رحمت ہے،حدیث پاک میں ہے :عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ:صالحین کے ذکر کے وقت رحمت الہی کا نزول ہوتا ہے ،اسی لیے عاشقان مصطفی ﷺبھی میلادالنبی ﷺکرتے ہیں

ہم عید میلاد النبی کیوں نہ منائیں ؟

دستورِ دنیا ہے کہ نعمتوں کے حصول پر انسان خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اورپھر جیسی نعمت ویسی اظہارِ خوشی بھی ہوتی ہے۔ محسنِ کائنات ، شہنشاہِ عرب وعجم حضور پُر نور ﷺتو اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت ہیں جو ہمیں عطا ہوئی، کیوں کہ سوائے جملہ نعمتوں کے اس نعمتِ کبریٰ کی بخشش پر رب عزوجل نے احسان جتایا۔ ارشاد ہے لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ اِذْبَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً ترجمہ:مومنوں پر اللہ کا احسان ہوا کہ ان میں انہیں میں کا ایک رسول بھیجا۔