حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمة اللہ علیہ

آپ کے مجاہدہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے کہ آپ بارہ سال تک تقسیم لنگر کا فریضہ انجام دیتے رہے اور لنگر کا ایک دانہ بھی منھ میں نہ ڈالا کیونکہ آپ کو صراحةً کھانے کی اجازت نہ تھی کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا جسم نحیف و ناتواں ہو گیا اور جب بھوک کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو جنگلوں میں جاکر پھول پھل کھاکر بھوک مٹاتے پھر تقسیم لنگر میں لگ جاتے ۔ یہ سلسلہ یونہی بارہ سال تک چلتا رہا جس کے سبب جسم اطہر پراستخواں ظاہر ہو گئے یہ حال دیکھ کر با با صاحب آپ سے بولے بیٹا علاؤالدین! تم صرف کھاناہی تقسیم کرتے

پروردۂ حضور مفتی اعظم ہند حضرت قاری محمد نور عالم قادری نوری علیہما الرحمۃ کا پہلا سالانہ عرس اختتام پذیر

Qari-Noor-Alam

جملہ مخلصین معتقدین اور مقامی حضرات نےقران پاک کی تلاوت کاخصوصی اہتمام کیا بعدہ 10:30 بجے دن میں پوری تیاری کےساتھ اجتماعی طور پر شان و شوکت کے ساتھ پروگرام منعقد کیا گیاجس میں سینکڑوں علماء،خطباءاور شعراءکے علاوہ بیشمار مخلصین و متعلقین ومحبین کی موجودگی میں نقیب اہلسنت نواسۂ حضور رئیس القراء محمد ارشدرضا صاحب نے نظامت کی ذمّہ داری سنبھالتے ہوئے سب سے پہلے خوبصورت آواز وانداز میں تلاوت قرآن کریم سے محفل کا آغاز فرمایا پھر یکے بعد دیگرے علماء و شعراء نے نعت و منقبت کی صورت میں اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔

انجمن ضیائے رضا رائے پور چھتیس گڑھ کے زیر اہتمام عرس مفتی اعظم ہند ہوا منعقد

Huzoor-Muftiye-Azam-Hind

مؤرخہ 14 محرم الحرام 1437ھ بروز بدھ الحاج ثاقب رضوی کے دولت کدہ میں بعد نماز مغرب تاجدار اہل سنت آقائے نعمت شہزادہءِ اعلی حضرت حضرت علامہ الشاہ محی الدین آل الرحمن محمد مصطفے رضا خان المعروف حضور مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ کی یاد میں ایک پرنور محفل کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی سرپرستی شہزادہءِ امین شریعت حضرت علامہ سلمان رضا خاں صاحب مدظلہ العالی سجادہ نشین خانقاہ امین شریعت بریلی شریف