سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج بھی ناــــ (قسط دوم)

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج

پیری مریدی سسٹم کے خلاف لکھنا مطلب پیروں اور ان کے عقیدت مندوں، اندھ بھکتوں سے لڑائی مول لینا ہے۔یہ بڑے دل گردے کی بات ہے۔جب کہ مجھ جیسا زندہ دماغ آدمی کا قلمی و فکری پیکار صرف اس نظام کے خلاف ہے جو اسلام کی اصل روح سے یکسر متصادم ہے۔جو دین تو نہیں مگر دین کے نام پر پروسا جارہا ہے۔جو در اصل طبیعت کی ہوسناکی کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔اہل خانقاہ اور خانقاہی مراسم کے اس طریقۂ کار کے خلاف جنگ ہے جس میں حب جاہ و منصب نے جڑ پکڑ لی ہے۔

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج بھی نا! (قسط اول)

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج

جی!سیمانچل کے مذہبی طبقے کا مزاج بھی غضب ڈھاتا ہے۔یہ صرف اپنے ممدوح پیر کی سنتا ہے باقی کسی کی نہیں۔بلکہ بعض مواقع تو ایسے دیکھے گئے ہیں کہ لوگ دین و سنیت کے واجبی حکم پر بھی پیر کی راۓ کو ترجیح دیتے ہیں۔جب کہ پیر صاحب خالص پیر صاحب ہے انہیں اسلامیات پر کوئی درک نہیں ہے۔دینیات کی گہری سوجھ بوجھ بھی نہیں ہے۔فقہیات سے کوئی قریبی رابطہ بھی نہیں۔بندوں کو خدا سے جوڑنے کا ایسا کوئی کام بھی ان کے کھاتے میں درج نہیں ہے جسے قابل ذکر سمجھ کر تحسین و آفرین کہا جاۓ۔حلقۂ ارادت کو بھی گروہی عصبیت کا زنگ لگا بیٹھے ہیں۔