سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج بھی نا۔۔۔۔!! (قسط سوم)
کئی بار خانقاہی اسٹیجوں پر خطباۓ متصوفین کو کافی زور دے کر یہ کہتے سنا کہ شیخ کا ادب یہ ہے کہ اگر شیخ نے کہا کہ سامنے رکھی چیز کو پیچھے رکھ دو اور تم نے ایسا کر دیا۔پھر شیخ نے کہا ایسا کیوں کیا، تو یہ نہ کہو کہ آپ نے پیچھے رکھنے کو کہا تھا۔بلکہ یہ کہو کہ حضور مجھ سے خطا ہوگئی۔ورنہ خلاف ادب ہوگا۔بہت ممکن ہے یہ بات تصوف و سلوک کی کتب میں مل جاۓ مگر جس سچوئیشن میں، جس انداز سے بیان کی جاتی ہے وہ فہم دین سے بالکل مختلف ہے۔مذکورہ ادب نامہ بلا قید و شرط بیان کرنے کا انجام ہے کہ