بیٹےکی تعلیم سے ایک فرد جبکہ بیٹی کی تعلیم سے ایک نسل سنورتی ہے!!
تعلیم ہی کل بھی ہماری ترقی اور عروج کی ضامن تھی اور آج بھی دینی دنیاوی سماجی سیاسی اور معاشرتی ساری ترقیاں اسی سے مشروط ہیں، بلکہ ہم عالمی سطح پر رسوا ہی اس لیے ہوئے کہ ہم تعلیم سے دور ہوتے چلے گئے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جس امت کے پیغمبر تقدس مآب پر پہلی وحی ہی تعلیم و تعلم سے متعلق نازل ہوئی آج اسی نبی کی امت تعلیمی میدان میں عالمی سطح پر سب سے بد ترین صورت حال کا شکار ہے۔ پھر زوال امت کے کچھ اور اسباب تلاش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔